چوہدری افضل

جمعہ المبارک کی بابرکت ساعتوں میں، دل ذکرِ الٰہی کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے، میرے آج کے کالم کا عنوان ہے”ان شاء اللہ“یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک کامل عقیدہ، ایک زندہ احساس اور ایک باوقار طرزِ زندگی کی علامت ہے۔ اس تحریر میں میری کوشش ہو گی کہ درست املا، حقیقی معنی اور گہرے مفہوم کو نہ صرف واضح کیا جائے بلکہ اس کی روح کو بھی اجاگر کیا جائے، تاکہ ہم اسے محض زبان تک محدود رکھنے کے بجائے اپنے کردار کا حصہ بنا سکیں۔
انسان جب اپنے کل کے بارے میں سوچتا ہے تو دراصل وہ ایک ایسے پردہ غیب میں جھانکنے کی سعی کرتا ہے جسے خالقِ کائنات نے اپنی مشیت کے سوا کسی پر منکشف نہیں کیا۔ یہی وہ نازک اور بامعنی لمحہ ہے جہاں ایک صاحب ایمان کی زبان پر بے اختیار یہ کلمہ جاری ہوتا ہے، ”ان شاء اللہ“۔یہ محض تین الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر تصور ہے جو عقیدے، شعور اور طرز حیات کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ”ان شاء اللہ“ کی بنیاد وحیِ الٰہی میں پیوست ہے۔ قرآن مجید، خصوصاً سورۃ الکہف، میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ مستقبل کے کسی معاملے میں قطعیت کا دعویٰ نہ کریں بلکہ اسے اللّہ کی مشیت سے وابستہ رکھیں۔ یہ حکم محض لفظی احتیاط نہیں بلکہ فکری اور روحانی تربیت کا ایک جامع اصول ہے۔ایسا اصول جو انسان کو اس کی حدود کا ادراک کراتا اور اسے غرور کی لغزش سے بچاتا ہے۔
اس ہدایت کے پس منظر میں ایک نہایت سبق آموز واقعہ بھی موجود ہے۔ جب کفارِ مکہ نے نبی کریم ﷺ سے چند پیچیدہ سوالات کیے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کل جواب دوں گا، مگر ”ان شاء اللہ“ نہ فرمایا۔ نتیجتاً وحی کچھ دنوں کے لیے مؤخر ہو گئی۔ یہ توقف دراصل امت کے لیے ایک دائمی سبق تھا کہ حتیٰ کہ پیغمبر بھی اللّہ کی مشیت کے بغیر کسی امر میں استقلال کا دعویٰ نہیں کرتے۔ یوں ”ان شاء اللہ“ محض ایک جملہ نہیں بلکہ بندگی کا قرینہ بن جاتا ہے۔انبیائے کرام کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حکم پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے کہنا اطاعت اور رضا کی وہ اعلیٰ مثال ہے جس پر تاریخ نازاں ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ سفر کے آغاز پر ”ان شاء اللہ“ کہنا اس امر کی دلیل ہے کہ علم، صبر اور حکمت کے میدان میں بھی انسان اپنی حدود کا پابند ہے۔
اسلامی تہذیب میں یہ کلمہ محض عبادات تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرتی، علمی اور تہذیبی زندگی کا جزوِ لازم بن گیا۔ خلافت راشدہ کے عہد سے لے کر اندلس کی علمی درسگاہوں اور بغداد کے علمی مراکز تک، ”ان شاء اللہ“ ایک فکری شعار کے طور پر رائج رہا۔ مسلمان مفکرین، سائنس دان اور معلمین جب کسی منصوبے یا تحقیق کا آغاز کرتے تو گویا اس کلمے کے ذریعے اپنے علم کو بھی اللہ کی مشیت کے سپرد کر دیتے۔ یہی وہ روح تھی جس نے انہیں دنیا کی قیادت کے قابل بنایا۔ادبی زاویے سے دیکھا جائے تو ”ان شاء اللہ“ ایک نہایت لطیف اور بلیغ اظہار ہے۔ یہ انسان کی بے بسی اور قدرت الٰہی کے درمیان ایک ایسا حسین توازن قائم کرتا ہے جس میں نہ مایوسی کی گنجائش رہتی ہے اور نہ غرور کی۔
اردو ادب کی روایت میں بھی یہ مفہوم مختلف پیرایوں میں جلوہ گر ہوتا رہا ہے، کہ انسان کوشش کا پابند ہے مگر نتیجہ اس کے اختیار میں نہیں۔معاشرتی سطح پر ”ان شاء اللہ“امید اور حوصلے کی علامت ہے۔ جب حالات ناسازگار ہوں اور راستے مسدود دکھائی دیں تو یہی کلمہ دل میں ایک نئی روشنی پیدا کرتا ہے۔ یہ مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ ہے۔ تاہم افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات یہی بامعنی کلمہ محض ایک رسمی جملہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اسے وعدہ ٹالنے یا ذمہ داری سے فرار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اس کے حقیقی مفہوم کے سراسر منافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ”ان شاء اللہ“ کا تقاضا محنت، دیانت اور سنجیدگی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے حصے کی پوری کوشش کریں، منصوبہ بندی کریں، وسائل کو بروئے کار لائیں، اور پھر نتیجہ اللّہ پر چھوڑ دیں۔ یہی توازن دراصل کامیابی کا راز ہیکہ نہ انسان اپنی محنت پر ناز کرے اور نہ ہی ناکامی پر مایوس ہو۔تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جب مسلمانوں نے اس کلمے کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا تو وہ عروج کی بلندیوں تک پہنچے، اور جب یہ محض زبان کی حد تک محدود ہو گیا تو زوال نے ان کے قدم روک لیے۔ اس لیے آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ”ان شاء اللہ“ کو ایک زندہ شعور کے طور پر اپنائیں، ایسا شعور جو ہمیں اللّہ سے جوڑے، ہماری نیتوں کو خالص کرے اور ہمارے اعمال میں اخلاص پیدا کرے۔کلام مختصر کہ”ان شاء اللہ“ مومن کے ایمان کی وہ روشنی ہے جو اس کے حال کو سنوارتی اور مستقبل کو اللہ کے سپرد کر دیتی ہے۔ یہ کلمہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی کوشش میں کوئی کمی نہ چھوڑیں، مگر کامیابی پر غرور بھی نہ کریں، کیونکہ اصل اختیار اسی ذات کے پاس ہے جس کے لیے ہم کہتے ہیں۔ ان شاء اللہ

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *