“عورت کے بغیر کائنات شاید ایک بے روح لاش ہو۔”

عورت صرف ایک فرد نہیں، ایک کیفیت ہے۔ وہ ماں بنے تو دعا ، بہن بنے تو سایہ، بیٹی بنے تو گھر کی رونق، بیوی بنے تو زندگی کی رفیق ، اور بہو بن کر کسی گھر میں داخل ہو تو اپنے ساتھ صرف سامان نہیں لاتی ، بلکہ وہ اپنے ماں باپ کی تربیت ، خواب ، خواہشیں اور ایک نئی زندگی کی امید بھی ساتھ لاتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ جس عورت کو ہم اپنی بیٹی کی صورت میں کائنات کہتے ہیں ، وہی کسی دوسرے گھر کی بہو بن کر اکثر امتحان کیوں بن جاتی ہے۔۔۔؟
یہ سوال صرف عورت کا نہیں، ہماری تربیت، اخلاق اور اجتماعی ضمیر کا سوال ہے۔
بیٹی پیدا ہوتی ہے تو ہم اسے لاڈلی، شہزادی اور آنکھوں کا تارا کہتے ہیں۔ پھر وہی بیٹی کسی گھر کی بہو بنتی ہے تو ہماری زبان بدل جاتی ہے۔ جو کل تک کسی کی پوری کائنات تھی ، آج صرف بہو کیوں رہ جاتی ہے؟
ہم بھول جاتے ہیں کہ رشتے بدلنے سے انسان نہیں بدلتا۔
جس بیٹی کو ہم نے دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا، وہ کسی دوسرے گھر جا کر کسی کی بہو ضرور بنی ہے ، مگر کسی کی بیٹی ہونا اس کے وجود سے ختم نہیں ہوا۔ وہ آج بھی کسی ماں کی دعا، کسی باپ کی عزت، کسی بھائی کی بہن، کسی بچے کی ماں اور سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان ہے۔

وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟
شاید یہی ایک سوال ہمارے گھروں کی بہت سی بند کھڑکیاں کھول سکتا ہے۔
بیٹا بڑا ہوتا ہے ، شادی کرتا ہے اور اس کی زندگی میں ایک نئی عورت داخل ہوتی ہے۔ ماں کے لیے یہ خوشی کا موقع بھی ہے اور محبت کا ایک نیا امتحان بھی۔ بیٹے کی محبت تقسیم نہیں ہوتی، اس کی صورت بدلتی ہے۔ مگر ہم اکثر اس تبدیلی کو محبت کی کمی سمجھ لیتے ہیں۔
ماں سوچتی ہے: “میرا بیٹا پہلے میرا تھا، اب کسی اور کا کیوں ہو گیا؟”
حالانکہ بیٹا پہلے بھی اس کا تھا اور آج بھی اس کا ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔
بیٹے کی زندگی میں بیوی کا آنا ماں کے مقام کی نفی نہیں۔ محبت اگر سچی ہو تو تقسیم نہیں ہوتی ، پھیلتی ہے۔
مگر جب بہو کو حریف سمجھ لیا جائے تو گھر میں صرف دو عورتیں نہیں لڑتیں ، دو نسلیں ٹکرا جاتی ہیں۔ اور نسلوں کی لڑائی میں دیواریں خاموش رہتی ہیں، مگر بچے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔

بہو خاموش رہے تو اچھی، بولے تو بدتمیز؛ کام کرے تو فرض ، آرام کرے تو سست ، سسرال کا خیال رکھے تو ذمہ دار ، اپنے والدین کا خیال رکھے تو خود غرض۔
شوہر کے ساتھ خوش رہے تو کہا جاتا ہے:
“بیٹے کو قابو کر لیا ہے”،
اور شوہر سے شکوہ کرے تو: “گھر توڑ رہی ہے۔”

آخر بہو کرے تو کیا کرے۔۔۔۔؟
شاید مسئلہ بہو کا نہیں، ہماری توقعات کا ہے۔
ہم بہو سے بیٹی جیسی محبت چاہتے ہیں ، مگر بیٹی جیسے حقوق نہیں دیتے ۔ چاہتے ہیں کہ وہ گھر کو اپنا سمجھے ، مگر اسے یہ احساس دینے میں ناکام رہتے ہیں کہ یہ گھر واقعی اس کا بھی ہے۔
رشتے حکم سے نہیں ، احساس سے بنتے ہیں۔
ہماری ایک عجیب عادت ہے کہ بیٹے کی اولاد ہماری جان ہوتی ہے، مگر اس اولاد کی ماں اکثر ہماری نظروں میں اجنبی رہتی ہے۔ پوتا گھر کا شہزادہ ہے تو اسے جنم دینے والی عورت بری کیسے ہوگئی؟
جس ماں نے نو ماہ بچے کو اپنے وجود میں پالا، وہ خاندان کے لیے اجنبی کیوں ہے ؟

پوتی اگر جگر کا ٹکڑا ہے تو اس کی ماں بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے سے زیادہ سمجھنے کی ہے۔
طلاق ایک لفظ ہے ، مگر اس کے اندر کئی زندگیوں کے بکھرنے کی آواز ہوتی ہے۔ ایک عورت کا خواب ، ایک مرد کی امید، والدین کا اطمینان اور بچوں کے دل میں “گھر” کے معنی بدل جاتے ہیں۔
طلاق ہمیشہ ظلم کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ کبھی دو انسان واقعی ایک دوسرے کے لیے موزوں نہیں ہوتے اور علیحدگی بہتر راستہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب رشتہ انا، خاندانی دباؤ، غیر ضروری مداخلت، ساس بہو کے تنازع یا مردانہ ضد کی نذر ہو جائے تو سوال صرف میاں بیوی سے نہیں ، پورے خاندان سے بنتا ہے۔
کیا ہم نے دونوں طرف کی بات سنی ؟
کیا ہم نے بہو کو انسان سمجھا ؟
کیا ہم نے بیٹے کو سمجھایا کہ بیوی کا احترام بھی مردانگی ہے ؟
کیا ہم نے ماں کو بتایا کہ بیٹے کی شادی اس سے محبت کی شکست نہیں؟
ہر ٹوٹا ہوا گھر کسی ایک فرد کے جرم کی داستان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دو مختلف مزاج، توقعات اور ذہن ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی کے گھر کی شکست کو ایک ہی کردار کے سر ڈال دینا انصاف نہیں۔

ادب ہمیں الزام لگانا نہیں، سمجھنا سکھاتا ہے۔
ساس بہو کا مسئلہ ہو اور شوہر خاموش ہو تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ شوہر کو ماں اور بیوی کے درمیان جج نہیں بننا چاہیے، مگر تماشائی بھی نہیں بننا چاہیے۔
ماں کا احترام ضروری ہے اور بیوی کا حق بھی۔ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مرد کی ذمہ داری نہیں ، دونوں کے درمیان انصاف قائم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔
ماں کو یہ نہیں کہنا چاہیے “میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا گیا۔”
بیوی کو یہ نہیں کہنا چاہیے: “آپ اپنی ماں سے تعلق ختم کر دیں۔”
اور شوہر کو یہ نہیں کہنا چاہیے:
“آپ دونوں خود دیکھ لیں۔”

کیونکہ کبھی کبھی خاموشی غیر جانب داری نہیں ہوتی ، ناانصافی کا دوسرا نام ہوتی ہے۔
انصاف کسی ایک کا ساتھ دینا نہیں، حق کا ساتھ دینا ہے۔
ہم دین سے اپنے حقوق نکال لیتے ہیں اور دوسروں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ ماں کی اطاعت یاد رہتی ہے، مگر بیوی کے احترام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بیٹی کو رحمت کہتے ہیں، مگر بہو کو آزمائش بنا دیتے ہیں۔
مسئلہ دین میں کم اور ہماری خواہشات میں زیادہ ہے۔
ہر ساس کبھی بہو تھی، اور ہر بہو ایک دن ساس بن سکتی ہے۔ زندگی ایک چکر ہے۔ جو آج ہم کرتے ہیں، کل ہماری اولاد اسے روایت سمجھ کر آگے بڑھاتی ہے۔
اگر آپ نے بہو کو عزت دی تو آپ نے اپنے بیٹے کی تربیت کی۔ اگر آپ نے اسے ذلیل کیا تو آپ نے اپنے پوتے پوتیوں کے لیے ایک غلط مثال چھوڑی۔
اچھی ماں وہ نہیں جو بیٹے کو اپنے پاس باندھ کر رکھے؛ اچھی ماں وہ ہے جو بیٹے کو اتنا انسان بنا دے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی انصاف کر سکے۔
اچھا شوہر وہ نہیں جو ہر بات پر بیوی کی طرف داری کرے؛ اچھا شوہر وہ ہے جو حق کی طرف داری کرے۔
اور اچھی بہو وہ نہیں جو اپنی ذات مٹا دے؛ اچھی بہو وہ ہے جو محبت، احترام اور حدود کے ساتھ گھر کا حصہ بنے۔
جب ہم اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہیں تو کہتے ہیں: “بیٹی، خوش رہنا۔”
کبھی اپنی بہو کو بھی دیکھ کر دل میں یہی دعا کر کے دیکھیں۔ وہ بھی کسی گھر سے دعائیں لے کر آئی ہے۔ اس کی ماں نے بھی اسے رخصت کرتے ہوئے یہی کہا ہوگا:
“بیٹی، اپنا گھر بسا کر رکھنا۔”
اس نے یہ نہیں کہا ہوگا: “جا، کسی کے گھر کی دشمن بننا۔”
وہ بھی محبت چاہتی ہے، عزت چاہتی ہے، کبھی تھک جاتی ہے، کبھی بیمار ہوتی ہے، اپنے ماں باپ کو یاد کرتی ہے اور اپنے شوہر سے دو لفظ محبت کے چاہتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، وہ بھی انسان ہے۔
رشتوں کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم انسان کو اس کے رشتے سے دیکھتے ہیں، اس کے وجود سے نہیں۔ بیٹی میں محبت نظر آتی ہے، بہو میں توقع۔
بیٹی کی غلطی کو بچپنا کہتے ہیں، بہو کی اسی غلطی کو تربیت کی کمی۔
رشتے بدلتے ہی ہماری نظر بدل جاتی ہے۔
طلاق کا گراف صرف قانون سے نہیں گرے گا۔ یہ تب گرے گا جب گھروں میں انا کا گراف نیچے آئے گا؛ جب ساس کو یاد رہے گا کہ وہ بھی کبھی بہو تھی، جب شوہر کو یاد رہے گا کہ انصاف مردانگی ہے، اور جب بہو یہ سمجھے گی کہ سسرال جیتنے کی جگہ نہیں، رشتہ نبھانے کی جگہ ہے۔
رشتے ملکیت نہیں ہوتے، امانت ہوتے ہیں۔
کسی کی بیٹی کو آنسو دینا آسان ہے، مگر یہ یاد رکھنا مشکل کہ وہ آنسو کبھی ہماری اپنی بیٹی کی آنکھوں میں بھی آ سکتے ہیں۔
شاید دنیا میں سب سے بڑا انصاف یہی ہے کہ انسان دوسروں کی بیٹی میں اپنی بیٹی دیکھ لے۔
پھر ساس کو بہو نظر نہیں آئے گی، ایک انسان نظر آئے گا۔ شوہر کو صرف بیوی نہیں، ایک انسان نظر آئے گا۔ اور جہاں انسان نظر آ جائے، وہاں رشتہ بچنے کی امید بھی پیدا ہو جاتی ہے۔
کیونکہ آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ وہ بہو ہے۔۔۔
اصل سوال یہ ہے: وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *