تاریخ کے اوراق میں بعض دن صرف تاریخ نہیں رہتے ، بلکہ اپنے اندر آنے والی نسلوں کے لیے ایک مکمل پیغام ، ایک عہد اور ایک سمت محفوظ کر لیتے ہیں۔
11 اگست 1947ء بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک دن ہے ۔
ایک ایسا دن جب پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پر باقاعدہ طور پر طلوع بھی نہیں ہوا تھا ، مگر اس کی ریاستی روح ، آئینی سمت اور شہری تصور کے خدوخال نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے۔

قیامِ پاکستان سے صرف تین روز قبل کراچی میں نئی مملکت کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں منعقد ہوا ، جبکہ اگلے روز ، 11 اگست 1947ء کو ایک ایسا تاریخی مرحلہ آیا جس نے پاکستان کے ابتدائی سیاسی سفر کو ایک واضح سمت عطا کی۔ برصغیر کی ایک طویل سیاسی کشمکش اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی ، مگر نئی ریاست کے سامنے ایک بالکل نئی دنیا کی تعمیر کا چیلنج کھڑا تھا۔

اس روز قائداعظم محمد علی جناح کو متفقہ طور پر پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ یوں وہ شخص جس نے ایک طویل اور کٹھن سیاسی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا تھا ، اب اسی نئی ریاست کے پہلے قانون ساز ادارے کی سربراہی بھی سنبھال رہا تھا۔ یہ محض ایک منصب کا حصول نہیں تھا ، یہ اس سیاسی جدوجہد کے ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا، جس میں تحریکِ آزادی کو ریاست سازی میں تبدیل ہونا تھا۔

لیکن 11 اگست کی اصل عظمت صرف قائداعظم کے انتخاب تک محدود نہیں تھی ۔ اسی روز انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے اپنا تاریخی صدارتی خطاب کیا ، جو پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ کی اہم ترین تقاریر میں شمار ہوتا ہے۔ قائداعظم نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جس میں شہری کی شناخت اس کے مذہب ، ذات یا عقیدے سے نہیں ، بلکہ اس کی شہریت سے متعین ہوئی ۔
ان کے نزدیک ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو مساوی حقوق ، تحفظ اور انصاف فراہم کرے۔
یہ پیغام ایسے وقت میں دیا گیا جب برصغیر شدید فرقہ وارانہ کشیدگی ، خونریزی ، ہجرت اور سیاسی بے یقینی کی لپیٹ میں تھا۔ لاکھوں انسان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور تھے ، بستیاں اجڑ رہی تھیں اور نئی ریاست کو بیک وقت انتظامی ، معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا تھا۔ ایسے میں قائداعظم نے نفرت اور انتقام کے بجائے قانون ، شہری برابری ، باہمی تعاون اور ریاستی ذمہ داری کو مستقبل کا راستہ قرار دیا۔

قائداعظم کے خطاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ماضی کے باہمی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی اجتماعی زندگی کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ نئی ریاست میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے اور ریاستی معاملات میں کسی فرد کے ساتھ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔
یہ تصور محض ایک تقریری جملہ نہیں تھا ، بلکہ ایک نئی مملکت کے لیے بنیادی ریاستی وژن تھا۔
قائداعظم ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو ، شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور ریاستی ادارے عوام کی خدمت اور فلاح کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 11 اگست کا تاریخی پیغام محض ماضی کا حوالہ نہیں رہتا ، بلکہ آج کے پاکستان کے لیے بھی ایک سوال بن جاتا ہے۔
کہ کیا ہم نے اس عہد کو اپنی قومی زندگی میں پوری طرح سمجھا اور نبھایا ہے؟

11 اگست کا ایک اور تاریخی پہلو پاکستان کے قومی پرچم کی باضابطہ منظوری تھا۔ سبز و سفید پرچم بعد ازاں پاکستان کی قومی شناخت اور آزادی کی علامت بن گیا۔ اس کے سبز حصے کو مسلم اکثریت ، جبکہ سفید حصے کو غیر مسلم شہریوں کی نمائندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یوں قومی پرچم بھی نئی ریاست کے اجتماعی تشخص اور مختلف برادریوں کی شمولیت کی علامت بن گیا۔

اس تاریخی منظرنامے میں جوگیندر ناتھ منڈل کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ 10 اگست کو دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں انہوں نے عارضی طور پر اجلاس کی صدارت کی۔ ایک غیر مسلم رہنما کا نئی ریاست کے اولین پارلیمانی اجلاس کی صدارت کرنا اس دور کے سیاسی ماحول میں ایک قابلِ توجہ علامتی واقعہ تھا۔ بعد ازاں وہ پاکستان کی پہلی کابینہ میں وزیرِ قانون بھی مقرر ہوئے۔
یہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی ریاستی تشکیل محض ایک انتظامی عمل نہیں تھی ، اس میں مختلف طبقات کو نئی قومی زندگی میں شریک کرنے کا تصور بھی موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 11 اگست کے خطاب کو سمجھنے کے لیے اسے صرف چند جملوں کی تقریر کے طور پر نہیں ، بلکہ قیامِ پاکستان کے وسیع تر تاریخی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

11 اگست کے بعد دستور ساز اسمبلی نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے معاملات پر بھی توجہ مرکوز کی۔ بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی۔ یہ پیش رفت اس امر کی عکاس تھی کہ نئی ریاست کے ابتدائی آئینی سفر میں شہری آزادیوں اور اقلیتی حقوق کو اہمیت حاصل تھی۔

اس وقت پاکستان کے سامنے مسائل کی ایک طویل فہرست تھی۔ مہاجرین کی آبادکاری ، امن و امان کا قیام ، سرکاری اداروں کی تشکیل ، مالی وسائل کی کمی ، انتظامی ڈھانچے کی تعمیر اور مستقبل کے آئین کی تیاری جیسے بڑے چیلنجز نئی ریاست کے منتظر تھے۔ ایسے حالات میں ایک ایسی قومی شناخت تشکیل دینا بھی ضروری تھا جو مختلف زبانوں، علاقوں، برادریوں اور مذہبی گروہوں کو ایک مشترکہ ریاستی تصور میں جوڑ سکے۔

11 اگست کا پیغام اسی وسیع تر قومی تعمیر کا حصہ تھا۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف کرے اور شہری بھی ریاست کے قانون اور اجتماعی مفاد کا احترام کریں۔ آزادی کے بعد اصل امتحان یہی تھا کہ سیاسی آزادی کو ایک منظم ، عادلانہ اور ذمہ دار ریاست میں کیسے تبدیل کیا جائے۔
وقت کے ساتھ 11 اگست کی تاریخی معنویت مزید نمایاں ہوتی گئی۔
حکومتِ پاکستان نے 2009ء میں 11 اگست کو قومی یومِ اقلیت کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ، تاکہ پاکستان کی تعمیر میں اقلیتی برادریوں کے کردار کو تسلیم کیا جا سکے اور قائداعظم کے 11 اگست کے خطاب میں بیان کیے گئے مساوی شہریت کے تصور کو اجاگر کیا جا سکے۔

آج جب ہم 11 اگست 1947ء کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں صرف ایک تاریخی تقریر ، ایک اسمبلی اجلاس یا ایک قومی پرچم کی منظوری یاد نہیں کرنی چاہیے ، ہمیں اس دن کے ریاستی فلسفے کو بھی سمجھنا چاہیے۔ قائداعظم کا پیغام دراصل یہ تھا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ قانون ، انصاف ، شہری مساوات اور اجتماعی فلاح پر قائم ہونے والی ریاست ہونا چاہیے۔

11 اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی صرف سرحد حاصل کرنے کا نام نہیں۔ آزادی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ریاست اپنے ہر شہری کو عزت، تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرے۔ اکثریت اور اقلیت کی تقسیم سے بلند ہو کر ہر فرد کو ریاست کا برابر کا شہری سمجھا جائے۔

قومیں اپنے ماضی کو صرف یاد نہیں کرتیں ، وہ اس سے اپنے حال اور مستقبل کے لیے رہنمائی بھی حاصل کرتی ہیں۔ اسی لیے 11 اگست 1947ء کو یاد کرنا دراصل اپنے ریاستی سفر کے بنیادی سوالات کو دوبارہ سامنے لانا ہے ۔
ہم کس قسم کی ریاست چاہتے ہیں؟
ہمارے ہاں شہری کی قدر کس بنیاد پر ہوگی؟
قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے یا نہیں؟
اور کیا ریاست اپنے ہر شہری کو اس کا جائز حق ، تحفظ اور عزت فراہم کر سکے گی؟

11 اگست 1947ء اسی لیے پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس میں ایک نئی ریاست نے اپنی آزادی کا جشن منانے سے پہلے ہی اپنے شہریوں کے حقوق ، قانون کی بالادستی اور مساوی شہریت کا خواب دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا۔

اور شاید یہی اس دن کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ ریاستیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں ، وہ اپنے شہریوں کے حقوق ، انصاف کے اصول اور اجتماعی عہد سے مضبوط ہوتی ہیں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *