چوہدری افضل

 

 

اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی لامحدود قدرت اور حکمت کے ذریعے تقریباً اٹھارہ ہزار مخلوقات کو وجود بخشا اور اس کائنات کو بے شمار رنگوں، نعمتوں اور حکمتوں سے مزین فرمایا۔ ان گنت مخلوقات میں سے انسان کو ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کیا گیا۔ اسے عقل، شعور، ارادہ، اختیار اور روحانی بلندی جیسی عظیم نعمتوں سے نواز کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا گیا۔ یہ اعزاز محض ایک خطاب نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری بھی ہے، جو انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ تاہم اس تمام عظمت، عزت اور فضیلت کے باوجود ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں رہتی ہے کہ انسانی زندگی میں تندرستی سے بڑھ کر کوئی رونق، کوئی آسائش اور کوئی حقیقی فضیلت نہیں؛ کیونکہ صحت ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے اور اپنے مقام کو حقیقی معنوں میں سمجھ سکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات اور قرآنی اصول اس امر کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ انسان کو بہترین ساخت، یعنی “احسنِ تقویم”، میں پیدا کیا گیا۔ اس کی جسمانی بناوٹ نہایت متوازن اور اس کی روحانی صلاحیتیں بے مثال ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح پھونک کر اسے ایک ایسی شان عطا کی جو کسی اور مخلوق کو نصیب نہ ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ انسان نہ صرف اپنے اردگرد کے ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ کائنات کے اسرار و رموز تک رسائی حاصل کرنے کی جستجو بھی رکھتا ہے۔

انسان کو عطا کی گئی عقل و فہم اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز بناتی ہے۔ یہی عقل اسے صحیح اور غلط میں تمیز سکھاتی ہے، اسے غور و فکر کی دعوت دیتی ہے اور اسے اپنے خالق کی پہچان تک لے جاتی ہے۔ تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب انسان نے اپنی عقل کو مثبت انداز میں استعمال کیا تو اس نے علم، تحقیق، تہذیب اور ترقی کے نئے باب رقم کیے۔ عظیم تہذیبیں وجود میں آئیں، سائنسی ایجادات سامنے آئیں اور انسان نے زمین سے لے کر خلا تک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

قرآنِ مجید میں انسان کو زمین پر اللّٰہ کا خلیفہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ منصب دراصل ایک عظیم امانت ہے، جو انسان کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ زمین پر عدل، انصاف اور توازن کو برقرار رکھے۔ خلافت کا یہ تصور انسان کو ایک ذمہ دار مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے، جس کا ہر عمل نہ صرف اس کی اپنی ذات بلکہ پوری انسانیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

اسی طرح انسان کو تسخیرِ کائنات کی بے مثال صلاحیت بھی عطا کی گئی ہے۔ زمین، آسمان، سمندر اور دیگر قدرتی وسائل اس کے لیے مسخر کیے گئے تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے اور اپنی زندگی کو بہتر بنا سکے۔ یہ تمام سہولیات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسان کو اس کائنات میں ایک خاص مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں سے سجدہ کروانے کا واقعہ بھی انسان کی فضیلت کی ایک واضح دلیل ہے۔ یہ سجدہ دراصل انسان کے علم اور اس کے مقام کی برتری کا اظہار تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو علم سکھایا اور اسی علم کی بنیاد پر انہیں دیگر مخلوقات پر فوقیت عطا کی گئی۔

تاہم اس تمام عظمت اور فضیلت کے باوجود قرآن و حدیث انسان کی کمزوری اور لاچارگی کو بھی نہایت واضح انداز میں بیان کرتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ “انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔” یہ کمزوری اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ وہ جلد باز بھی ہے، بھولنے والا بھی اور اکثر اپنی خواہشات کا اسیر بھی ہو جاتا ہے۔

انسان کی تخلیق ایک معمولی نطفہ سے ہوئی، جو اس کی بے بسی کی ایک واضح علامت ہے۔ وہ اپنی پیدائش کے ابتدائی مراحل میں مکمل طور پر دوسروں کا محتاج ہوتا ہے، اور زندگی کے اختتام پر بھی اسی کمزوری کی طرف لوٹ آتا ہے۔ وقت کے گزرنے کو وہ روک نہیں سکتا، موت کو وہ ٹال نہیں سکتا، اور مصائب کے سامنے وہ بے بس ہو جاتا ہے۔

حدیثِ مبارکہ میں بھی انسان کی اسی عاجزی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ عاجز وہ شخص ہے جو دعا کرنے سے بھی عاجز ہو جائے۔ یہ فرمان انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے رب کا محتاج ہے۔

جب انسان پر کوئی مشکل وقت آتا ہے، بیماری لاحق ہوتی ہے یا کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو اس کی ساری طاقت، اس کا غرور اور اس کی خود اعتمادی ماند پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں وہ بے اختیار اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اور اسی سے مدد طلب کرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو اپنی حقیقت کا ادراک ہوتا ہے۔

یہی تضاد، عظمت اور کمزوری کا امتزاج، درحقیقت انسان کی اصل پہچان ہے۔ ایک طرف وہ اشرف المخلوقات ہے، عقل و شعور کا حامل ہے، کائنات کو مسخر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور دوسری طرف وہ ایک کمزور، محتاج اور فانی مخلوق بھی ہے۔

اگر انسان اپنی عقل اور اختیار کو اللّٰہ کی اطاعت میں استعمال کرے تو وہ اپنے مقامِ خلافت کو بخوبی نبھا سکتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی حقیقت کو بھول جائے اور تکبر و غرور میں مبتلا ہو جائے تو وہ اپنی ہی عظمت کو کھو بیٹھتا ہے اور پستی کی طرف گر جاتا ہے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی دولت اس کی صحت اور تندرستی ہے۔ ایک صحت مند انسان ہی اپنے فرائض کو بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے، علم حاصل کر سکتا ہے، عبادت میں خشوع و خضوع پیدا کر سکتا ہے اور دوسروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

تندرستی نہ ہو تو نہ علم کی روشنی باقی رہتی ہے، نہ عبادت میں دل لگتا ہے اور نہ ہی زندگی کی خوشیاں محسوس ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کو ایک ایسی نعمت قرار دیا گیا ہے جس کا بدل کوئی اور نعمت نہیں ہو سکتی۔

لہٰذا انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی عظمت پر فخر کرنے کے بجائے اپنی کمزوری کو پہچانے، عاجزی اختیار کرے اور اللّٰہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں، خصوصاً صحت، کی قدر کرے۔ یہی شعور اسے ایک متوازن، بامقصد اور کامیاب زندگی کی طرف لے جاتا ہے، جہاں وہ نہ صرف اپنی ذات بلکہ پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *