کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید شاہراہوں یا بڑے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ایک محفوظ گھر ہر انسان کا بنیادی حق ہے، کیونکہ گھر صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی امیدوں، خوابوں، سکون اور تحفظ کا مرکز ہوتا ہے۔ جب یہی چھت کمزور ہو جاءے یا حادثے کا سبب بننے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک عمارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان زندگی بھر کے دکھ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
چند روز قبل کاہنہ میں پیش آنے والا افسوسناک سانحہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی تھا۔ زیر تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ایسا المیہ ہے جس نے پورے پنجاب کو غمزدہ کر دیا۔ ایسے سانحات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ صرف افسوس اور تعزیت پر اکتفا نہ کیا جاءے بلکہ مستقبل میں ان کی روک تھام کے لیے عملی اور پاءیدار اقدامات کیے جاءیں۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ’’اپنی چھت، محفوظ چھت‘‘ پروگرام کا اجرا ایک اہم عوامی فلاحی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا بنیادی مقصد کمزور اور خستہ حال گھروں کو محفوظ بنانا اور کم آمدن والے خاندانوں کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
یہ پروگرام اپنی نوعیت کے اعتبار سے صرف ایک قرضہ اسکیم نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ہوا منصوبہ ہے۔ حکومت پنجاب نے پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرض کی فراہمی کا اعلان کیا ہے تاکہ شہری اپنی کمزور چھتوں، دیواروں اور دیگر خطرناک حصوں کی مرمت یا مضبوطی کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے خاندان جہاں ایک ہی گھر میں کءی گھرانے رہاءش پذیر ہیں، ان کے لیے اضافی کمروں یا دوسری منزل کی تعمیر کے لیے دس لاکھ روپے تک بلاسود قرض کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرض کی ماہانہ اقساط کو عام آدمی کی استطاعت کے مطابق رکھا گیا ہے، تاکہ محدود آمدن رکھنے والے افراد بھی آسانی سے اس سہولت سے فاءدہ اٹھا سکیں۔
حکومت نے صرف مالی معاونت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ درخواست دینے کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا ہے۔ آن لاءن پورٹل، ڈپٹی کمشنر دفاتر، اسسٹنٹ کمشنر دفاتر، پھاٹا کے مراکز اور ہیلپ لاءن کے ذریعے شہریوں کو متعدد ذراءع فراہم کیے گءے ہیں۔ سرکاری منصوبوں میں پیچیدہ کاغذی کاررواءی اکثر عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، لیکن اگر قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر سادہ طریقہ کار کے ذریعے قرض فراہم کیا جاتا ہے تو یقیناً اس سے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد فاءدہ اٹھا سکیں گے۔
اس منصوبے کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت نے پراسیسنگ فیس اور دیگر سرکاری واجبات خود ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ فلاحی منصوبوں کا اصل مقصد ضرورت مند افراد تک سہولت پہنچانا ہونا چاہیے، نہ کہ اضافی اخراجات کے ذریعے ان کے لیے نءی رکاوٹیں پیدا کرنا۔ اسی طرح قرض کے اجرا کے بعد تین ماہ کا گریس پیریڈ بھی عام شہری کو مالی دباؤ سے بچانے کی ایک مثبت مثال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہر سال بارشوں، آندھیوں، موسمی شدت اور غیر معیاری تعمیرات کے باعث متعدد حادثات پیش آتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں کچی چھتیں جبکہ شہری علاقوں میں خستہ حال عمارتیں انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوءی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں اور غیر معمولی موسمی حالات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر محفوظ تعمیرات اب صرف ترقیاتی مسءلہ نہیں بلکہ انسانی تحفظ کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت کمزور گھروں کی مضبوطی کے لیے بلاسود قرض فراہم کرتی ہے تو یہ قدرتی آفات سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کی جانب ایک بروقت اور قابلِ توجہ قدم ہے۔
یہ امر بھی خوش آءند ہے کہ’’اپنی چھت، محفوظ چھت‘‘ کسی الگ منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ حکومت پنجاب کی ہاؤسنگ حکمت عملی کے تسلسل کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘اور’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘جیسے منصوبوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کو رہاءش کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گءی۔ اب ان منصوبوں کے ساتھ محفوظ رہاءش کا تصور شامل کر کے حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ صرف گھر بنانا کافی نہیں بلکہ اس گھر کو محفوظ بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔اس منصوبے کے معاشی اثرات بھی قابل ذکر ہو سکتے ہیں۔ جب ہزاروں خاندان اپنے گھروں کی مرمت، توسیع یا مضبوطی کریں گے تو تعمیراتی صنعت، سیمنٹ، سریا، اینٹوں، بجری، لکڑی اور دیگر تعمیراتی سامان سے وابستہ کاروبار میں سرگرمی بڑھے گی۔ مستری، مزدور، انجینءر، ٹیکنیشن اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے روزگار کے نءے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ یوں ایک فلاحی منصوبہ سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
تاہم ہر سرکاری پروگرام کی طرح اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار بھی اس کے مؤثر اور شفاف نفاذ پر ہوگا۔ ضروری ہے کہ قرضوں کی تقسیم میں مکمل شفافیت، مستحق افراد کی درست جانچ، تعمیراتی معیار کی نگرانی اور فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جاءے۔ اگر نگرانی کا مضبوط نظام قاءم کیا گیا تو نہ صرف وساءل کا درست استعمال ممکن ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔آج کے دور میں اچھی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست عوام کی فوری ضرورتوں کو سمجھے اور ان کا بروقت حل پیش کرے۔ محفوظ رہاءش انہی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے۔ اگر ایک خاندان کو مضبوط چھت میسر آ جاءے تو وہ صرف بارش، آندھی یا گرمی سے ہی محفوظ نہیں ہوتا بلکہ اسے ذہنی سکون اور بہتر مستقبل کی امید بھی ملتی ہے۔
’’اپنی چھت، محفوظ چھت‘‘پروگرام اسی سوچ کا مظہر ہے کہ ترقی صرف نءے منصوبوں کے افتتاح سے نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری لانے سے آتی ہے۔ اگر اس پروگرام پر اس کی اصل روح کے مطابق شفافیت، دیانت داری اور رفتار کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو محفوظ رہاءش فراہم کرے گا بلکہ پنجاب میں عوامی خدمت، سماجی تحفظ اور فلاحی طرز حکمرانی کی ایک مضبوط مثال بھی قاءم کرے گا۔ یہی وہ سمت ہے جس میں ریاست، معاشرہ اور عوام ایک محفوظ، باوقار اور خوشحال مستقبل کی جانب مشترکہ سفر کر سکتے ہیں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *