رانا محمد فراز نون

(چیئرمین سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی)

سرائیکی وسیب جسے برصغیر کا اناج گھر کہا جاتا ہے، آج وہاں کا کسان اپنی بقاء کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ ایک ایکڑ گندم کی کاشت پر ہونے والے اخراجات کی تفصیل محض اعداد و شمار نہیں بلکہ کسان کے خون پسینے کا حساب ہے۔ زمین کی تیاری سے لے کر کٹائی تک، ڈی اے پی، یوریا، بیج اور پانی کے بے لگام اخراجات نے کاشتکار کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ چھ ماہ کی شبانہ روز محنت کے بعد اسے محض چند ہزار روپے کی بچت ہو رہی ہے۔ یہ بچت نہیں بلکہ کسان کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے، جو اس کی محنت کی توہین کے مترادف ہے۔حکمران طبقہ اور ایوانوں میں بیٹھے پالیسی ساز شاید اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ کسان صرف فصل نہیں اگاتا، وہ ریاست کی معیشت کی بنیاد رکھتا ہے۔ جب ایک کسان ایک ایکڑ پر 1 لاکھ 31 ہزار سے زائد خرچ کر کے صرف 10 ہزار روپے بچاتا ہے، تو وہ اپنے خاندان کی کفالت کیسے کرے گا؟ بجلی کے بلوں، پیٹرول کی قیمتوں اور روزمرہ کی مہنگائی کے اس طوفان میں 10 ہزار روپے کی چھ ماہ کی کمائی کسان کو خودکشیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ استحصال نہیں تو اور کیا ہے کہ پوری قوم کا پیٹ بھرنے والا خود خالی پیٹ سونے پر مجبور ہے۔
سرائیکی وسیب کے کسانوں کا مسئلہ صرف لاگت اور آمدنی کا فرق نہیں، بلکہ یہاں کے کاشتکار کے ساتھ ہونے والا وہ امتیازی سلوک ہے جو دہائیوں سے جاری ہے۔ ایک طرف کھاد اور ادویات کے مافیاز کسان کو لوٹ رہے ہیں، اور دوسری طرف سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کے عمل میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ کسان اپنی فصل اونے پونے داموں مڈل مین کو بیچنے پر مجبور ہو جائے۔ یہ پالیسیاں ثابت کرتی ہیں کہ ریاست کو زراعت کی ترقی سے زیادہ سرمایہ داروں کے مفادات عزیز ہیں۔اعداد و شمار گواہ ہیں کہ اگر پیداوار 45 من سے گھٹ کر 40 من پر آ جائے تو کسان کا منافع صفر ہو جاتا ہے اور اگر خدانخواستہ قدرتی آفات یا پانی کی کمی کی وجہ سے پیداوار مزید کم ہو جائے تو کسان کے گھر فاقوں کا ڈیرہ ہوتا ہے۔ کیا حکمرانوں نے کبھی سوچا ہے کہ اگر کسان نے ڈیفالٹ کر دیا تو اس ملک کا کیا بنے گا؟ زراعت کی کمر توڑ کر صنعتی ترقی کے خواب دیکھنا محض دیوانے کی بڑ ہے۔ جب تک کسان معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوگا، ملک کی معیشت کبھی پٹری پر نہیں آ سکتی۔
سرائیکی وسیب کے کسانوں کا استحصال دراصل اس مٹی کی شناخت پر حملہ ہے۔ یہاں کا کسان نہ صرف فصل اگاتا ہے بلکہ وہ اس دھرتی کی ثقافت اور بقا کا ضامن بھی ہے۔ حکومت کی جانب سے گندم کے نرخوں میں بے حسی اور امدادی قیمت کے نام پر کسان کا معاشی قتل عام اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ کسان کو لوٹ مار کا طعنہ دینے والے ذرا اپنی ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں سے باہر نکل کر تپتی دھوپ میں زمین کی تیاری اور پانی کی باریوں کا حساب لگا کر دیکھیں تو ان کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے۔وقت آ گیا ہے کہ سرائیکستان کے کاشتکار اپنے حقوق کے لیے یکجا ہو جائیں۔ ہم مزید خاموش تماشائی نہیں بن سکتے جبکہ ہماری محنت کا ثمر چند سرمایہ داروں کی تجوریوں میں جا رہا ہو۔ ریاست کو وارننگ ہے کہ اگر زرعی مداخل کی قیمتیں کم نہ کی گئیں اور کسان کو اس کی فصل کا جائز معاوضہ نہ ملا، تو یہ احتجاج کی آگ کھیتوں سے نکل کر ایوانوں تک پہنچے گی۔ کسان کی بددعا اور معاشی بدحالی حکمرانوں کیلئے عبرتناک سزا بن سکتی ہے۔
حکمران طبقے کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف تو کسان کو عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگی کھادوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، اور دوسری طرف سرکاری سطح پر ایسی پالیسیاں وضع کی جاتی ہیں جو براہِ راست زراعت دشمن ہیں۔ سرائیکی وسیب کا وہ کسان جو سال بھر محنت کر کے پوری قوم کے لیے خوراک کی فراہمی یقینی بناتا ہے، آج وہی کسان اپنے بچوں کی فیسوں اور ادویات کے لیے قرضوں تلے دبا ہوا ہے۔ اگر اس استحصال کا سلسلہ بند نہ ہوا اور کسان کو اس کی فصل کا حق نہ ملا، تو یاد رکھیں کہ بنجر کھیت صرف غلہ نہیں روکیں گے بلکہ یہ معیشت کی شہ رگ پر وہ کاری ضرب لگائیں گے جس کا مداوا پھر کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔یہ صرف گندم کے نرخوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس مٹی کے بیٹوں کی عزت نفس اور بقاء کا سوال ہے۔ جب ریاست کسان کی محنت کو کوڑیوں کے دام تولتی ہے تو وہ درحقیقت اپنی آنے والی نسلوں کے لیے قحط کا بیج بو رہی ہوتی ہے۔
سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی یہ واضح کر دینا چاہتی ہے کہ اب کسان کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہم اس جبر کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور کسان کی اس پکار کو ایوانوں کے بند دروازوں تک پہنچا کر دم لیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ زراعت کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جائے، ورنہ بھوک کا وہ طوفان اٹھے گا جو سب کچھ بہا لے جائے گا۔آخر میں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زراعت کو ہنگامی بنیادوں پر ترجیح دی جائے۔ کھاد، بیج اور بجلی پر سبسڈی فراہم کی جائے اور گندم کی خریداری کا شفاف نظام وضع کیا جائے تاکہ کسان کو کسی مڈل مین کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ کسان کی کہانی اب صرف اس کی زبانی نہیں رہے گی، بلکہ یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرے گی۔ یاد رکھیں، جب تک کسان خوشحال نہیں، پاکستان خوشحال نہیں ہو سکتا۔ اب ہوش کے ناخن لینے کا وقت ہے، ورنہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *