ہائیڈ پارک ۔۔۔۔۔۔۔۔ میم سین بٹ لاہور کی معروف ادبی تنظیم حلقہ ارباب ذوق کے سالانہ انتخابات کے بعد سیکرٹری شاذیہ مفتی اور جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول نے اپنے سیشن کا آخری ہفتہ وار اجلاس اتوار کو سابق سیکرٹری یونس جاوید کی زیرصدارت پاک ٹی ہاؤس کے ہال میں کرایا جس میں حلقے کے سابق سیکرٹریز عامرفراز اور امجد طفیل نے اظہار خیال کیا جبکہ فرح رضوی اور میاں شہزاد نے سوالات پوچھے تاہم زاہد حسن ، غلام حسین ساجد اور نواز کھرل پراسرار طور پر خاموش ہی رہے ، اشفاق رشید ، جاوید افتاب ، حسین مجروح ، در نجف زیبی ، شاہد شیدائی ، حفیظ طاہر ، عقیل اختر ، حماد نیازی وغیرہ اجلاس میں شریک ہی نہ ہوئے ، شیراز راج ، عظیم اقبال اور غافر شہزاد بیرون ملک جبکہ احمد فرید اور احمد عطاء بیرون شہر تھے ، حلقہ ارباب ذوق کے نو منتخب سیکرٹری آفتاب جاوید نے بھی اظہارخیال کیا ، نو منتخب جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش ، موجودہ جوائنٹ سیکرٹری سلمان رسول اور سابق جوائنٹ سیکرٹری محمد احمد کے علاوہ طارق کامران ، انجم شیرازی ، اعجاز فکرال ، منشا بٹر ، اکرام حشمت ، کنول فیروز ، کنور عبدالماجد ، علی اصغر عباس ، زاہد ہما شاہ ، محمد جمیل اکادمی ادبیات والے ، حمزہ رانا اور سجاد بھنڈر بھی شریک ہوئے ، موخر الذکر دونوں نوجوان حلقے میں سارا سال شاذیہ مفتی کی معاونت کرتے رہے ۔ شازیہ مفتی نے ساڑھے چار بجے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے حلقہ ارباب ذوق مرکز کے بارے میں بتایا حلقہ ارباب ذوق کا آغاز لاہور سے ہوا تھا یہاں حلقے کی مرکزی تنظیم بھی رہی تھی جس کے سعادت سعید و مبارک احمد سیکرٹری جنرل جبکہ اظہر غوری جوائنٹ سیکرٹری رہے تھے ، شازیہ مفتی نے بتایا کہ انہوں نے آج کے اجلاس میں شرکت کیلئے 12 شہروں کے حلقہ ارباب ذوق کی انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا ، کراچی والوں نے تو ماضی کی طرح لاہور کو مرکز تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ، اسلام باد میں امریکہ۔ ایران مذاکرات کے باعث وہاں کے عہدیداروں کو شہر چھوڑنے کی اجازت نہ ملی اسلام آباد کے حلقے کی نمائندگی لاہور میں مقیم عدنان بشیر اور فیصل آباد کے حلقے کی نمائندگی بھی لاہور میں مقیم شاہد اشرف نے کی دونوں لاہور کے تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں ، ساہیوال سے حلقے کی نمائندگی کیلئے عاصم اسلم اور منڈی بہاؤالدین کے حلقے سے نعیم رضا بھٹی لاہور پہنچے تھے شاذیہ مفتی نے مزید بتایا کہ حلقہ سرکاری امداد نہیں لیتا لہذا انہوں نے بھی حلقے کو اپنی مدد آپ کے تحت چلایا ۔ یونس جاوید غالبا” خطاب کیلئے تیاری کر کے نہیں آئے تھے انہوں نے تقریب کے شروع میں ہی اظہار خیال کرتے ہوئے “دائم آباد رہے گی دنیا” والا شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ حلقہ ارباب ذوق کے پرانے لوگوں میں اب ان کے اور کنول فیروز جیسے چند بچے کچھے لوگ ہی باقی رہ گئے ہیں ان کا تحقیقی مقالہ دیکھ کر گوپی چند نارنگ نے انہیں ڈاکٹر کہا تھا جس پر انہوں نے ڈاکٹر ہونے کی تردید کی تو گوپی چند نارنگ نے کہا تھا کہ اگر یہ کام انڈیا میں ہوتا تو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملتی ، یونس جاوید نے بتایا کہ ان کا دور بہت اچھا تھا اخبارات اور ادبی جرائد میں نظم یا غزل چھپنے پر معاوضے کے طور پر سات روپے ملتے تھے جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم ہوتی تھی ، پاک ٹی ہاؤس میں چائے پینے کیلئے پلیٹ گھمائی جاتی تھی جس میں سبھی پیسے ڈالتے تھے ۔ امجد طفیل نے کہا کہ حلقے میں صرف وہی آتے ہیں جو تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، حلقہ ارباب ذوق اپنے آئین کے تحت سرکاری گرانٹ وصول نہیں کرتا اگر حلقہ سرکاری فنڈز لیتا تو بہت پہلے اپنی موت آپ مر چکا ہوتا فنڈز ہوتے تو لڑائی جھگڑے ہوتے اب فنڈز نہ ہونے پر جھگڑے ہوتے ہیں (قہقہے) امجد طفیل نے فرح رضوی کے سوال پر بتایا کہ حلقے کے آئین میں درج ہے کہ جو رکن لاہور سے دوسرے شہر چلا جائے گا تو اس کی رکنیت بھی اس شہر کے حلقے میں منتقل کر دی جائے گی جس پر ہم نے امجد طفیل سے سوال کیا کہ جب وہ راولپنڈی چلے گئے تھے بلکہ وہاں حلقے کے رکن ہی نہیں سیکرٹری بھی بن گئے تھے تو کیا ان کی رکنیت بھی منتقل کر دی گئی تھی ؟ جس پر امجد طفیل نے بتایا کہ راولپنڈی میں قیام کے دوران انہوں نے لاہور کے حلقے میں کبھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا تھا ۔ عامر فراز نے امجد طفیل سے اختلاف کرتے ہوئے بتایا کہ آئین کے تحت کسی ایک حلقے کا رکن ہر شاخ کا رکن تصور ہوگا لہذا اس کی رکنیت دوسرے شہر میں منتقل ہی نہیں ہوگی البتہ وہ صرف اس شہر کے حلقے میں ووٹ دے سکے گا جہاں وہ سکونت پذیر ہوگا ہم سوچنے لگے کہ امجد طفیل اور غافرشہزاد نے چند برس قبل دوسرے شہر منتقل ہونے والے ارکان کی لاہور کے حلقے سے رکنیت ختم کر کے گویا غیر آئینی کام کیا تھا ، عامر فراز کے مطابق حلقہ ارباب ذوق لاہور کے ارکان کی فہرست میں سے نام صرف وفات کی صورت میں خارج کرنا چاہیے عامر فراز نے حلقہ ارباب ذوق لاہور کو چار زونز میں تقسیم کرنے کی بھی مخالفت کی ۔ انتظامیہ کو حلقے کی غیر قانونی رجسٹریشن منسوخ کروانے کی تجویز دیتے ہوئے عامر فراز نے اس سلسلے میں اپنی جانب سے مکمل معاونت کی پیشکش کی ڈاکٹر امجد طفیل نے بھی ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حلقے کے نام اور مونوگرام کی رجسٹریشن ہو ہی نہیں سکتی جو کروائے اس پر فراڈ کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے ، میاں شہزاد نے بتایا کہ ان پر اور ان کے جوائنٹ سیکرٹری پر مخالفین نے مقدمہ درج کروا دیا تھا ، آفتاب جاوید نے کہا کہ وہ حلقے کے چند آن لائن اجلاس بھی کروائیں گے ، اکرام حشمت نے ماؤزے تنگ کے جذبے سے جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا ، کنور عبدالماجد نے یونس جاوید کو بینک ملازمین کے مسائل پر ٹی وی ڈرامہ لکھنے کا مشورہ دیا جبکہ محمد جمیل اکادمی ادبیات والے نے پاک ٹی ہاؤس کے باہر گاڑیوں کی پارکنگ کا مسئلہ حل کرانے پر زور دیا ۔ Post navigation امریکی صدر کا پاکستان کی درخواست پر ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان راوی شہر میں غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف آپریشن،پراپرٹی دفاتر سیل