تحریر: آصف اقبال جمہوریت کی اصل پہچان صرف ووٹ ڈالنے کے عمل سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ ریاست کے اہم فیصلے کہاں اور کیسے کیے جاتے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکس جیسے حساس اور براہِ راست عوام سے جڑے معاملے میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے منتخب نمائندوں کے پاس یا انتظامیہ کے دفاتر میں بیٹھے افسران کے پاس؟ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان کی حالیہ رولنگ نے اس سوال کا نہایت واضح اور دوٹوک جواب دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ محض چند نوٹیفکیشنز کی قانونی حیثیت تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں پارلیمانی بالادستی کی ایک مضبوط اور غیر متزلزل لکیر کھینچتا ہے۔ معاملے کی جڑ زرعی آمدن ٹیکس کے ان نوٹیفکیشنز میں ہے جو حکومت نے مارچ 2025 میں جاری کیے، مگر انہیں بجٹ کے وقت اسمبلی کے سامنے پیش نہیں کیا گیا حالانکہ قانون اس کی صریحاً شرط عائد کرتا ہے۔ بعد ازاں ستمبر میں ایک اور نوٹیفکیشن کے ذریعے ان تبدیلیوں کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی، گویا ایک آئینی تقاضے کو محض انتظامی عمل سے پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ اسپیکر کی رولنگ نے اس طرزِ عمل کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ آئین کے بنیادی اصول کو دہرا دیا: ٹیکس صرف قانون کے ذریعے ہی عائد ہو سکتا ہے، اور قانون سازی کا اختیار صرف منتخب ایوان کے پاس ہے۔ یہ اصول آئین کے آرٹیکل 77 اور 127 میں واضح طور پر درج ہے، جو وفاق اور صوبوں دونوں سطحوں پر پارلیمانی اختیار کو حتمی حیثیت دیتے ہیں۔ یہاں ایک اہم قانونی نکتہ بھی سامنے آتا ہے اختیارات کی منتقلی (delegation) کا مطلب اختیار سے دستبرداری نہیں ہوتا۔ جب اسمبلی حکومت کو کسی حد تک اختیار دیتی ہے تو وہ مکمل آزادی نہیں بلکہ ایک مشروط اجازت ہوتی ہے، جس کی ہر شرط پر عمل لازمی ہوتا ہے۔ اگر ان شرائط کو نظرانداز کیا جائے تو وہ اختیار خود بخود بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس رولنگ کی سب سے اہم جہت یہ ہے کہ اس نے ایسے تمام نوٹیفکیشنز کو ابتدا سے ہی کالعدم قرار دیا جو اسمبلی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ وہ کاغذی طور پر بے اثر ہیں، بلکہ ان کی بنیاد پر کی گئی کوئی بھی ٹیکس وصولی بھی قانونی جواز سے محروم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو براہِ راست شہریوں کے حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی سطح پر بھی اس فیصلے کے اثرات دور رس ہیں۔ حکومتی رکن سمیع اللہ خان کی جانب سے اس رولنگ کی حمایت دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ ایوان اپنی آئینی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “ہاؤس ٹیکس کو کم یا زیادہ کرنا چاہتا ہے تو کر سکتا ہے”، تو یہ دراصل جمہوریت کے بنیادی اصول عوامی نمائندگی کی توثیق ہے۔ اسپیکر نے نہ صرف ایک غلطی کی نشاندہی کی بلکہ اس کے ازالے کے لیے واضح راستہ بھی متعین کیا: ٹیکس وصولی کو فوری روکا جائے، حکومت جوابدہ ہو، اور معاملہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ آئندہ کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ ادارے صرف فیصلے نہیں کرتے بلکہ نظام کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ یہ رولنگ دراصل ایک “ریڈ لائن” ہے ایک ایسی حد جو واضح کرتی ہے کہ انتظامیہ کہاں تک جا سکتی ہے اور کہاں رکنا لازم ہے۔ اگر اس حد کو عبور کیا جائے تو وہ صرف قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ جمہوری اصولوں کی نفی بھی ہوگی۔ آخرکار، یہ فیصلہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی مالی خودمختاری کا مرکز پارلیمنٹ ہے۔ ٹیکس محض ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا ایک معاہدہ ہے۔ اور اس معاہدے کی توثیق صرف وہی ادارہ کر سکتا ہے جو عوام کی نمائندگی کرتا ہو۔ یہی جمہوریت کی اصل روح ہے اور یہی اس تاریخی رولنگ کا سب سے بڑا پیغام۔ Post navigation لاک ڈاؤن کا فوری خاتمہ ہونا چاہئے! حلقہ ارباب ذوق ۔ یادیں ، باتیں