محمودالحسن
Email. redrose5ryk@gmail.com

پاکستان نے اپنی غیر جانبدارانہ سفارتی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی متعدد قرار دادوں میں اپنا وزن کسی ایک فریق کے پلڑے میں ڈالے بغیر اپنے اس موقف پر قائم رہا کہ “جنگ کا خاتمہ ہونا چاہئے اور متنازعہ مسائل پر بات چیت کا آغاز کیا جانا چاہئے” اس جرآت مندانہ موقف اور سفارتی کاری کو اس وقت پذیرائی ملی جب چار ملکی وزراء خارجہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں ترکی، مصر، سعودی عرب اور پاکستان شریک ہوئے جسے چین اور دیگر ممالک نے بھی سراہا اس کامیاب سفارتی کوششوں کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب پاکستان ایران اور امریکہ کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوا اور دوسرا بہترین سفارتی حکمت عملی اور مختلف ممالک کے سفارتی اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے 49 سال میں پہلی مرتبہ ایران اور امریکہ کو اپنی میزبانی میں اسلام آباد مذاکرات کی میز پر بڑھا کر جہاں دنیا کو ایک بڑی اور تباہ کن جنگ سے بچا لیا وہاں دنیا کو تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے ایک بڑے عالمی بحران سے بھی نکلنے میں مدد دی ہے اب جبکہ اسرائیل اور لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کیا ہے جس کا فوری اثر سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گری ہیں بی بی سی کے مطابق “ایران کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے آبنائے ہرمز جنگ بندی کی ’باقی مدت‘ کے دوران تجارتی جہازرانی کے لیے مکمل طور پر کھولے جانے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اس اعلان کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی، جبکہ دن کے اوائل میں یہ 98 ڈالر سے زائد تھی این وائی میکس لائٹ سویٹ کروڈ، جو امریکہ کا معیاری خام تیل ہے، اس کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تنازعے سے قبل برینٹ خام تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل سے کچھ کم پر ٹریڈ ہو رہا تھا مارچ کے اوائل میں یہ 100 ڈالر سے تجاوز کر گیا اور اسی مہینے کے آخر میں 119 ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا تھا” اب جب کہ خلیج میں جنگ بندی اور امن کوششوں کے ثمرات سے جہاں عالمی اسٹاک ایکسچینج میں تیزی آئی ہے وہاں پاکستان کی اسٹاک ایکسچینج انڈکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جب کہ ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار 8 بجے بند کرنے سے چھوٹے کاروباری طبقے، شاپنگ مالز اور دکان داروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے دوسرا سیلز ٹیکس کی مد میں اکھٹے کئیے جانے والے محصولات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ادھر تاجر حضرات کو اپنے کاروباری اخراجات کو پورا کرنے میں دشواری ہے بلکہ اپنے ملازمین کی تنخواہوں کو پورا کرنا مشکل ہو چکا ہے جس کا پہلا اثر ملازمین کو فارغ کرنے کی صورت میں نکلے گا جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور تاجر طبقے کے نقصانات کے ساتھ حکومت کو بھی اپنے محصولات اکھٹے کرنے کے ٹارگٹ میں کمی کا سامنا ہو گا اب جبکہ بدلتی ہوئی عالمی صورت حال بہتری کی طرف گامزن ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے اس کا فائدہ فوری طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو دیا جانا چاہئے اور پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاؤن کا خاتمہ کر کے تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں کو فوری طور پر بحال کیا جانا چاہئے

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *