کبھی زمانہ تھا کہ مشرق کے طالب علم علم و حکمت کی تلاش میں بغداد، دمشق، قرطبہ اور بخارا کا رخ کرتے تھے۔ پھر وقت کا پہیہ گھوما اور علم، صنعت اور معیشت کے مراکز یورپ اور شمالی امریکہ منتقل ہو گئے۔ گزشتہ چند دہائیوں سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے نوجوانوں کے ذہن میں بیرونِ ملک تعلیم کا تصور عموماً برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ کے گرد گھومتا رہا ہے۔ ان ممالک تک رسائی کے لیے آئیلٹس ایک ناگزیر دروازہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں عالمی حالات و واقعات ایک نیا سوال پیدا کر رہے ہیں: کیا نوجوان پہلے آئیلٹس کریں یا چین کا رخ کریں؟
آئیلٹس (IELTS)، یعنی انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم، دنیا کے معتبر ترین انگریزی زبان کے امتحانات میں شمار ہوتا ہے۔ 1989ء میں متعارف کرایا جانے والا یہ نظام آج ہزاروں جامعات، تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں اور امیگریشن اتھارٹیز کے لیے ایک عالمی معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ انگریزی چونکہ بین الاقوامی تجارت، سفارت کاری، تحقیق اور ابلاغ کی بنیادی زبان سمجھی جاتی ہے، اس لیے آئیلٹس کو محض ایک امتحان نہیں بلکہ عالمی مواقع تک رسائی کا ایک معتبر ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔
تاہم دنیا ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ عالمی سیاست، معیشت، ٹیکنالوجی اور جغرافیائی تبدیلیاں نئی حقیقتوں کو جنم دیتی رہتی ہیں۔ اگر بیسویں صدی بڑی حد تک مغربی دنیا کے معاشی غلبے کی صدی تھی تو اکیسویں صدی کو ایشیا، بالخصوص چین کے عروج کی صدی قرار دیا جا رہا ہے۔ چند دہائیاں قبل تک ایک ترقی پذیر ملک سمجھے جانے والا چین آج دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہے۔ جدید صنعت، مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، خلائی تحقیق، انفراسٹرکچر اور عالمی تجارت کے میدان میں اس کی کامیابیاں دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہی ہیں۔
چین کی ترقی محض معاشی اعداد و شمار کی کہانی نہیں بلکہ ایک تہذیبی، فکری اور تعلیمی انقلاب کی داستان بھی ہے۔ ہزاروں سال پرانی چینی تہذیب نے نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری، مسلسل محنت اور سائنسی ترقی کو اپنی قومی شناخت کا حصہ بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے ممتاز تعلیمی ادارے، سرمایہ کار اور صنعت کار چین کو مستقبل کی معیشت کا ایک اہم مرکز قرار دیتے ہیں۔
پاکستان کے لیے چین کی اہمیت محض ایک ہمسایہ ملک ہونے تک محدود نہیں۔ پاک چین دوستی کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، تعاون اور مشترکہ مفادات کی ایک روشن مثال ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔ توانائی، مواصلات، انفراسٹرکچر، صنعت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم کے لیے چین کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ چین میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہر صورت آئیلٹس لازمی نہیں۔ بہت سی چینی جامعات بین الاقوامی طلبہ کو انگریزی میڈیم پروگراموں میں داخلہ فراہم کرتی ہیں۔ میٹرک، ایف اے، ایف ایس سی یا گریجویشن کے بعد طلبہ نسبتاً آسان شرائط کے ساتھ چین جا سکتے ہیں۔ تاہم مکمل یا جزوی وظائف (اسکالرشپس) حاصل کرنے کے لیے چینی زبان، خصوصاً مینڈرن (Mandarin)، سیکھنا ایک اہم اضافی اہلیت سمجھی جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے نوجوان اکثر فیصلہ سازی کے فقدان کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف انگریزی زبان عالمی رابطے، اعلیٰ تعلیم اور بین الاقوامی روزگار کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف چین ایک ابھرتی ہوئی معاشی طاقت کے طور پر نئے تعلیمی اور معاشی مواقع فراہم کر رہا ہے۔ نتیجتاً بہت سے طلبہ اور والدین اس مخمصے میں مبتلا رہتے ہیں کہ کون سا راستہ زیادہ موزوں اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا جواب “یا” میں نہیں بلکہ “اور” میں پوشیدہ ہے۔ آج کی دنیا میں زبانیں محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی اور علمی طاقت کا سرچشمہ بھی ہیں۔ انگریزی زبان عالمی سطح پر ابلاغ، تحقیق اور کاروبار کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے، جبکہ چینی زبان مستقبل کی عالمی معیشت میں بڑھتے ہوئے کردار کے باعث غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جو نوجوان انگریزی کے ساتھ چینی زبان بھی سیکھ لیتا ہے، وہ درحقیقت دو بڑی عالمی معاشی اور علمی دنیاؤں کے درمیان ایک مضبوط پل بن جاتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے سنگم پر واقع پاکستان خطے کی تجارت، نقل و حمل اور اقتصادی روابط میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات چینی زبان اور چینی تعلیمی نظام سے واقف نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
ثقافتی اعتبار سے بھی چین پاکستانی طلبہ کے لیے ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔ وہاں کا نظم و ضبط، وقت کی پابندی، قومی یکجہتی اور تعلیمی سنجیدگی طلبہ کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چین میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان صرف ڈگری ہی نہیں لیتے بلکہ ایک مختلف تہذیب، جدید صنعتی ماحول اور بین الاقوامی طرزِ فکر سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔ یہی تجربات بعد ازاں ان کی عملی زندگی میں کامیابی کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔
اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر طالب علم کی منزل، دلچسپی اور صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔ اگر کسی طالب علم کا خواب برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا یا امریکہ میں تعلیم یا ملازمت حاصل کرنا ہے تو اس کے لیے آئیلٹس اب بھی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اگر کوئی طالب علم انجینئرنگ، مصنوعی ذہانت، مینوفیکچرنگ، بین الاقوامی تجارت یا جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے بڑھنا چاہتا ہے تو چین ایک مضبوط اور قابلِ غور انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ راستوں کی کمی نہیں بلکہ درست رہنمائی کی کمی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں مؤثر کیریئر کونسلنگ کا فقدان پایا جاتا ہے، جس کے باعث بہت سے نوجوان تحقیق اور منصوبہ بندی کے بجائے دوسروں کی تقلید میں فیصلے کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں، مالی وسائل، دلچسپیوں اور مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں، نہ کہ وقتی رجحانات یا سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر۔
آج کی دنیا میں کامیابی صرف ایک ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ صحیح وقت پر صحیح مہارت حاصل کرنے کا نام ہے۔ جو نوجوان عالمی حالات و واقعات پر نظر رکھتے ہیں، نئی زبانیں سیکھتے ہیں، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رہتے ہیں اور بدلتی ہوئی معیشت کی ضروریات کو سمجھتے ہیں، وہی مستقبل کی دوڑ میں آگے نکلتے ہیں۔
لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ’’آئیلٹس کریں یا چائنہ چلیں؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’’اپنے مستقبل کے لیے سب سے موزوں راستہ کون سا ہے؟‘‘ اگر فیصلہ بصیرت، تحقیق، منصوبہ بندی اور دوراندیشی کے ساتھ کیا جائے تو چاہے راستہ آئیلٹس سے ہو یا چین سے، منزل کامیابی ہی ہوگی۔ کیونکہ ترقی کا راز کسی ایک امتحان، ایک ملک یا ایک زبان میں نہیں بلکہ علم، مہارت، محنت اور درست فیصلہ سازی میں پوشیدہ ہے۔
آج جب دنیا ایک نئے معاشی اور علمی دور میں داخل ہو رہی ہے تو پاکستانی نوجوانوں کو بھی روایتی سوچ سے آگے بڑھ کر عالمی رجحانات کو سمجھنا ہوگا۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم محض ڈگریوں کے حصول تک محدود نہ رہیں بلکہ ایسی مہارتیں اور زبانیں سیکھیں جو آنے والے کل کی ضرورت بننے والی ہیں۔ جو قومیں مستقبل کو پڑھ لیتی ہیں، وہی مستقبل کی قیادت کرتی ہیں۔ اور جو نوجوان وقت کے اشاروں کو سمجھ لیتے ہیں، کامیابی کے دروازے اُن پر خودبخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *