عید محض نئے کپڑوں، لذیذ پکوانوں، میٹھی سویاں، قربانی کے جانوروں یا گھروں کی ظاہری رونق کا نام نہیں۔ عید دراصل دلوں کی اُس خوشی کا نام ہے جو اپنوں کی موجودگی سے جنم لیتی ہے۔ یہ محبتوں کی تجدید، رشتوں کی آبیاری اور احساسِ وابستگی کو تازہ کرنے کا خوبصورت موقع ہے۔ انسان زندگی بھر بے شمار نعمتیں حاصل کر لیتا ہے، مگر کچھ چہرے، کچھ آوازیں اور کچھ تعلق ایسے ہوتے ہیں جن کے بغیر ہر خوشی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے عید کا حقیقی حسن اجتماع، قربت اور باہمی محبت میں پوشیدہ ہے۔
بعض عیدیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو چاند دیکھنے سے نہیں بلکہ کسی عزیز کے دیدار سے مکمل ہوتی ہیں۔ جب وہ عزیز دنیا سے رخصت ہو چکا ہو، پردیس کی دوریوں میں گم ہو یا وقت کے دھارے نے اُسے ہم سے جدا کر دیا ہو تو عید کی خوشیوں میں بھی ایک انجانی سی اداسی شامل ہو جاتی ہے۔ لوگ مبارک باد دیتے ہیں، محفلیں سجتی ہیں، قہقہے گونجتے ہیں، مگر دل کے کسی گوشے میں ایک خاموش خلا موجود رہتا ہے۔ یہی خلا انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ زندگی کی اصل رونق چیزوں میں نہیں بلکہ لوگوں میں ہوتی ہے۔
جدید دور کی مصروف زندگی نے انسان کو بظاہر ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے، مگر حقیقت میں فاصلے پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے رابطوں کو آسان تو بنایا ہے، لیکن ملاقاتوں کی مٹھاس کم کر دی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی تصاویر دیکھ لیتے ہیں مگر ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے کا وقت نہیں نکال پاتے۔ پیغامات کا تبادلہ ہو جاتا ہے مگر دل کی بات دل تک پہنچنے میں اکثر ناکام رہتی ہے۔ ایسے حالات میں عید ملن پارٹی محض ایک سماجی تقریب نہیں بلکہ دلوں کے درمیان قائم فاصلے کم کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بن جاتی ہے۔
عید ملن پارٹی کا اصل مقصد کھانے پینے یا رسمی ملاقات تک محدود نہیں ہوتا۔ یہ دراصل محبتوں کے چراغ روشن رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ ایسے اجتماعات میں برسوں کے بچھڑے دوست ملتے ہیں، رشتہ دار ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، ناراضگیاں ختم ہوتی ہیں اور دلوں میں جمی ہوئی گرد صاف ہونے لگتی ہے۔ ایک خلوص بھرا معانقہ، ایک گرم جوش مصافحہ اور چند محبت بھرے جملے بعض اوقات وہ کام کر جاتے ہیں جو طویل وضاحتیں بھی نہیں کر پاتیں۔
ہمارے معاشرے میں بزرگ ہمیشہ سے رشتوں کو جوڑنے کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ عید کے دن خاندان کے افراد ایک جگہ جمع ہوتے، بزرگ دعائیں دیتے، بچے خوشیاں مناتے اور نوجوان محبت و احترام کے رشتوں کو مزید مضبوط بناتے تھے۔ یہ روایت محض ثقافت نہیں بلکہ ہماری سماجی زندگی کی بنیاد تھی۔ افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مصروفیات اور مادہ پرستی نے ان روایات کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں عید ملن پارٹیاں ان خوبصورت اقدار کو زندہ رکھنے کا ایک اہم وسیلہ بن سکتی ہیں۔
پردیس میں رہنے والی اولاد کے والدین اس احساس کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ عید کی خوشی صرف فون کال یا ویڈیو پیغام سے مکمل نہیں ہوتی۔ ماں کی نگاہیں دروازے پر لگی رہتی ہیں اور باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اولاد چند لمحوں کے لیے ہی سہی، اُس کے ساتھ عید کی خوشیاں بانٹے۔ ماں کی دعا اور اولاد کی محبت کے درمیان فاصلے ضرور حائل ہو سکتے ہیں، مگر جذبات کی شدت کبھی کم نہیں ہوتی۔ عید ملن پارٹیوں کا سب سے خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور محبت کے اظہار کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
معاشرتی زندگی میں بہت سی غلط فہمیاں صرف اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں۔ فاصلے شکووں کو جنم دیتے ہیں اور شکوے رفتہ رفتہ تعلقات کی بنیادوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ عید ملن پارٹی ایسے تمام فاصلے ختم کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ تعلقات انا سے بڑے ہوتے ہیں اور محبت معافی سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ایک مسکراہٹ کسی ناراض دل کو جوڑ سکتی ہے تو یہ سودا کبھی مہنگا نہیں ہوتا۔
اسلام بھی صلہ رحمی، اخوت، محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ عید کے دن ایک دوسرے سے ملنا، دل آزاریوں کو ختم کرنا، رنجشوں کو بھلا دینا اور محبت کا اظہار کرنا دراصل اسلامی تعلیمات کی عملی تصویر ہے۔ عید ملن پارٹی اسی جذبے کا حسین مظہر ہے جہاں انسان اپنے تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لیتا اور محبت و رواداری کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کرتا ہے۔
زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ آج جو لوگ ہمارے ساتھ موجود ہیں، ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے درمیان ہوں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے پیاروں کی قدر کریں، ان کے لیے وقت نکالیں اور محبت کے اظہار میں بخل نہ کریں۔ بعض اوقات ایک مختصر ملاقات، ایک دعا، ایک مسکراہٹ یا چند خلوص بھرے الفاظ کسی کی زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ بن جاتے ہیں۔
عید کے ایام میں قبرستانوں میں بڑھتی ہوئی حاضری بھی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انسان اپنے بچھڑوں کو کبھی نہیں بھولتا۔ لوگ قبروں پر صرف پھول رکھنے نہیں جاتے بلکہ اپنی یادوں، دعاؤں اور محبتوں کا نذرانہ پیش کرنے جاتے ہیں۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، مگر خلوص، محبت اور نیک تعلقات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

شاید اسی لیے عید ملن پارٹی محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ احساس اپنائیت کا، محبت کا، تعلق کا اور اُن رشتوں کی قدر کا جو زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشیوں کا اصل لطف دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے میں ہے اور زندگی کی حقیقی دولت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔
عید کا ابدی پیغام یہی ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں، محبتیں بانٹنے سے پروان چڑھتی ہیں اور رشتے نبھانے سے دوام پاتے ہیں۔ لہٰذا عید ملن پارٹی کو محض ایک رسمی اجتماع نہ سمجھا جائے۔ یہ درحقیقت اظہارِ الفت، تجدیدِ تعلق اور انسانی رشتوں کو نئی زندگی دینے کا ایک خوبصورت وسیلہ ہے۔ اگر ہم اس روایت کی اصل روح کو سمجھ لیں تو نہ صرف ہماری عیدیں زیادہ خوش رنگ ہو جائیں گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی محبت، اخوت اور باہمی احترام کا گہوارہ بن جائے گا۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *