پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہریں، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور سموگ جیسے ماحولیاتی مسائل نے نہ صرف معیشت بلکہ عوامی صحت کو بھی شدید متاثر کیا۔ ایسے حالات میں ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو حکومتی ترجیحات میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں ماحولیات کے تحفظ اور سموگ کے خاتمے کے لیے جس جامع حکمت عملی کا آغاز کیا ہے، اس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا خصوصی پیغام دراصل ایک ایسے وژن کی عکاسی کرتا ہے جو صرف موجودہ نسل ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے عوام سے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے، پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے اور قدرتی وسائل کی حفاظت کی اپیل کرتے ہوئے اس حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ زمین ایک خوبصورت امانت ہے اور اس کی بقا کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں اٹھائے گئے اقدامات روایتی سرکاری اعلانات سے کہیں آگے بڑھ کر عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خطے کے پہلے انوائرمنٹ آبزرویٹری پراجیکٹ کی جلد از جلد تکمیل کی ہدایت دے کر یہ واضح کر دیا ہے کہ پنجاب کو جدید ماحولیاتی نگرانی کے نظام سے آراستہ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف فضائی آلودگی بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مختلف اشاریوں کی مسلسل نگرانی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق کسی بھی خطے میں مؤثر ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد درست اور بروقت معلومات ہوتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے جدید ترین ایئر کوالٹی فورکاسٹ سسٹم متعارف کرا کے اس سمت میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس نظام کے ذریعے صوبے بھر میں فضائی آلودگی کے مختلف اشاریوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب اب ماحولیاتی آلودگی سے متعلق پیشگی الرٹ کی صلاحیت حاصل کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بن چکا ہے۔ گزشتہ برسوں میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔ سردیوں کے موسم میں سموگ ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ تعلیمی ادارے بند کرنا پڑتے تھے، پروازیں متاثر ہوتی تھیں اور شہریوں کو سانس کی بیماریوں سمیت متعدد طبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ تاہم گزشتہ سال فوگ اور سموگ میں نمایاں کمی ایک خوش آئند پیش رفت ہے جس کا اعتراف خود وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی کیا ہے۔ اس بہتری کے پیچھے پنجاب حکومت کی مسلسل اور منظم کوششیں کارفرما ہیں۔ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں، بھٹہ خشت کے لیے ماحولیاتی ضوابط کا نفاذ، فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف سخت قانونی اقدامات اور صنعتی آلودگی پر نگرانی جیسے اقدامات نے مجموعی صورتحال میں بہتری پیدا کی ہے۔ یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ محض قوانین بنانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان پر عملدرآمد زیادہ اہم ہوتا ہے، اور پنجاب حکومت نے اس میدان میں نسبتاً بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سموگ کے خاتمے کے لیے جدید بار فوگ گنز کا استعمال بھی ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس وقت 30 جدید بار فوگ گنز مختلف شہروں میں استعمال کی جا رہی ہیں جبکہ مزید مشینری کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں میں ان جدید آلات کے استعمال سے فضائی ذرات میں کمی اور شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ ماحولیاتی بہتری کے سفر میں شجرکاری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے درختوں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت نے “گرین پنجاب” اور “پلانٹ فار پاکستان” وژن کے تحت وسیع پیمانے پر شجرکاری مہم شروع کر رکھی ہے۔ لاکھوں نئے پودے لگانے کے منصوبے نہ صرف فضائی آلودگی میں کمی لائیں گے بلکہ زمینی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، بارشوں کے نظام کو بہتر بنانے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ پلاسٹک آلودگی آج پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دریاؤں، ندی نالوں، زرعی زمینوں اور سمندروں میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پلاسٹک کے خاتمے کے عزم کا اعادہ اور غیر معیاری پلاسٹک بیگز کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت دراصل ایک ایسے مسئلے سے نمٹنے کی کوشش ہے جس کے اثرات کئی دہائیوں تک باقی رہ سکتے ہیں۔ اگر عوام اور تاجر برادری حکومت کے ساتھ تعاون کریں تو پلاسٹک سے پاک پنجاب کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ قابل تحسین امر یہ بھی ہے کہ پنجاب کی پہلی “انوائرمنٹ وال” کے ذریعے چوبیس گھنٹے ماحولیاتی نگرانی کا نظام فعال کیا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور معلومات کے تبادلے میں بہتری آئی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ماحولیاتی ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں اور پنجاب حکومت اسی سمت میں پیش رفت کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں مذہبی اور اخلاقی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے صفائی اور ماحول کے تحفظ کو ہماری سماجی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے جبکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کی بھی تلقین کرتا ہے۔ اس تناظر میں ماحولیاتی تحفظ صرف سائنسی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔ نئی نسل کو صاف پانی، پاکیزہ ہوا اور سرسبز ماحول فراہم کرنا آج کے حکمرانوں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر موجودہ وقت میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پنجاب حکومت کی موجودہ پالیسیوں کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ ان میں طویل المدتی سوچ کو شامل کیا گیا ہے۔ یقیناً ماحولیاتی مسائل ایک دن یا ایک سال میں پیدا نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کا حل چند مہینوں میں ممکن ہے، لیکن یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پنجاب میں ماحولیات کے شعبے میں جو سرگرمی اور سنجیدگی گزشتہ برس دیکھنے میں آئی ہے، وہ ماضی کے مقابلے میں مختلف نظر آتی ہے۔ انوائرمنٹ آبزرویٹری، ایئر کوالٹی فورکاسٹ سسٹم، انوائرمنٹ وال، سموگ گنز، شجرکاری مہمات اور پلاسٹک کے خلاف اقدامات ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی یومِ ماحولیات کا پیغام بھی یہی ہے کہ زمین ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اور اس کے تحفظ کے لیے حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں، میڈیا اور عام شہریوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے عوام کو درخت لگانے اور پلاسٹک ترک کرنے کی اپیل دراصل اسی اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش ہے۔ اگر پنجاب میں جاری ماحولیاتی منصوبے اسی رفتار اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے، قانون پر مؤثر عملدرآمد جاری رہا اور عوامی تعاون بھی حاصل رہا تو آنے والے برسوں میں صوبہ نہ صرف سموگ اور آلودگی کے مسائل پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی بہتری کی ایک قابل تقلید مثال بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ سمت ہے جس میں ایک صحت مند، سرسبز اور ترقی یافتہ پنجاب کا خواب تعبیر پا سکتا ہے۔ Post navigation ” بدلتی دنیا، نئی ترجیحات اور پاکستانی نوجوان کا مستقبل “ گندم پالیسی: غذائی تحفظ کی جانب اہم قدم