یہ عہد محض بدلتے ہوئے اعداد و شمار کا نہیں، بلکہ انسانی تقدیروں کے خاموش بکھرنے کا عہد بن چکا ہے۔ یہاں خالی جیبیں صرف مالی تنگی کا استعارہ نہیں رہیں بلکہ ٹوٹتی امیدوں اور مدھم پڑتے خوابوں کی علامت بن گئی ہیں۔ عالمی معیشت کی بے یقینی، جنگوں کی حدت اور بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی منظرنامے نے ایک ایسا طوفان برپا کر دیا ہے جس کی زد میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ عام انسان آتا ہے۔ کبھی جو دسترخوان سکون اور شکرگزاری کی علامت ہوا کرتا تھا، آج وہی اضطراب اور محرومی کی داستان سنانے لگا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کے اس کڑے امتحان میں چراغ صرف ایندھن کی کمی سے نہیں بجھ رہے، بلکہ حالات کی بے رحمی انہیں آہستہ آہستہ نگلتی جا رہی ہے، اور انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں بقا کی جدوجہد اس کی سب سے بڑی شناخت بنتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کا یہ ابھرتا ہوا طوفان محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے دکھوں کی ایک نئی داستان رقم کرنے کو ہے۔ افق پر نمودار ہوتے یہ بادل اس امر کی خبر دے رہے ہیں کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مزید بلندیوں کو چھونے والی ہیں، جہاں عام آدمی کی دسترس پہلے ہی کمزور پڑ چکی ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی گرانی صرف دسترخوان کو ہی نہیں سکیڑے گی بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو غربت اور بے روزگاری کی اندھی گلیوں میں مزید دھکیل دے گی۔ جب مہنگائی اپنی جڑیں گہری کرتی ہے تو روزگار کے مواقع سکڑنے لگتے ہیں، اور محنت کش ہاتھ بے بسی کی زنجیروں میں جکڑ جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاشی عدم توازن کی یہ لہر نہ صرف جیبوں کو خالی کر رہی ہے بلکہ امیدوں کے چراغ بھی مدھم کرتی جا رہی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ اور تنقیدی جائزہ لیا جائے، اور غیر ضروری اشیاء کو ایک طرف رکھ کر صرف اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر غور کیا جائے، تو ایک نہایت تشویشناک منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب بھی دنیا کو معاشی بحرانوں کا سامنا ہوا، اس کے سب سے گہرے اثرات خوراک اور بنیادی ضروریات پر ہی مرتب ہوئے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد کا زمانہ ہو، 1970ء کی دہائی کا عالمی تیل بحران ہو، یا حالیہ عالمی وبا کے بعد کی اقتصادی بے یقینی ہر دور میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ایک مشترکہ اور فیصلہ کن عنصر کے طور پر سامنے آیا۔ عالمی سطح پر جب سپلائی چین متاثر ہوتی ہے تو اس کا پہلا وار غریب ممالک کے دسترخوان پر ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی مضبوط معیشت، وافر ذخائر اور مؤثر پالیسیوں کے ذریعے وقتی طور پر اس دباؤ کو سہہ لیتے ہیں، لیکن ترقی پذیر ممالک—جہاں پہلے ہی وسائل محدود اور نظام کمزور ہوتا ہے—وہاں مہنگائی ایک ہمہ گیر سماجی المیہ بن کر ابھرتی ہے۔ گندم، چاول، دالیں، چینی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرتی ڈھانچے کی بنیادوں کو بھی ہلا دیتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں آبادی کا بڑا حصہ متوسط اور نچلے طبقے پر مشتمل ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب خوراک مہنگی ہوتی ہے تو نہ صرف غربت بڑھتی ہے بلکہ سماجی بے چینی، جرائم اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ 2008ء کا عالمی غذائی بحران اس کی ایک واضح مثال ہے، جب دنیا کے کئی خطوں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور حکومتوں کو ہنگامی اقدامات پر مجبور ہونا پڑا۔ بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا جائے تو آج دنیا ایک بار پھر اسی نوعیت کے دباؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ عالمی سیاست کی کشمکش، جنگوں کی تباہ کاریاں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور توانائی کے بحران نے مل کر خوراک کی پیداوار اور ترسیل کو متاثر کیا ہے۔ یوکرین کی جنگ نے گندم کی عالمی رسد کو شدید دھچکا پہنچایا، جس کے اثرات ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک میں محسوس کیے گئے۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے زرعی لاگت میں اضافہ کر کے مہنگائی کے بوجھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش مگر نہایت مہلک عنصر کے طور پر ابھر رہی ہے۔ بے وقت بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ سیلابوں اور زرعی نقصانات نے یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ خوراک کی خود کفالت ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ جب مقامی پیداوار کمزور پڑتی ہے تو درآمدات پر انحصار بڑھتا ہے، اور یوں مہنگائی کا ایک نیا در کھل جاتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں بے روزگاری کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو صنعتیں سکڑتی ہیں، کاروبار محدود ہوتے ہیں اور روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک ایسا شیطانی چکر جنم لیتا ہے جس میں مہنگائی اور بے روزگاری ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ ایک طرف آمدنی سکڑتی ہے اور دوسری طرف اخراجات بڑھتے جاتے ہیں، نتیجتاً عام آدمی کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ معاشرے جہاں حکومتیں بروقت اور مؤثر پالیسیاں اپنانے میں ناکام رہیں، وہاں مہنگائی نے سیاسی عدم استحکام کو بھی جنم دیا۔ فرانس کا انقلاب ہو یا عرب بہار—ان تحریکوں کے پس منظر میں معاشی ناہمواری اور خوراک کی قلت ایک اہم عامل رہی ہے۔ اس لیے مہنگائی کو محض ایک معاشی مسئلہ سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے؛ یہ دراصل ایک ہمہ جہت سماجی، سیاسی اور انسانی بحران ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں اور پالیسی ساز ادارے وقتی تدابیر سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اختیار کریں۔ زرعی شعبے کو مضبوط بنانا، مقامی پیداوار میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور منڈی کے نظام میں شفافیت لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ساتھ ہی عالمی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ خوراک کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جا سکے۔ عوامی سطح پر بھی شعور اور احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔ غیر ضروری اخراجات میں کمی، وسائل کا محتاط استعمال اور متبادل غذائی ذرائع کی طرف توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات مکمل حل نہیں، مگر ایک ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کلام مختصر کہ مہنگائی کا یہ طوفان اگرچہ ناگزیر محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ بشرطیکہ اجتماعی بصیرت، سنجیدہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات کو بروئے کار لایا جائے۔ بصورت دیگر، یہ طوفان نہ صرف معیشت کو بلکہ انسانی وقار اور امید کے چراغ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اور آنے والی نسلیں ایک ایسے بوجھ تلے دب جائیں گی جس کا خمیازہ صدیوں تک بھگتنا پڑے گا۔ Post navigation بے بسوں کا عالمی دن یومِ مزدور۔ پسینے کا دن اور انصاف کی جدوجہد