آج یوم مئی ہے مزدوروں محنت کشوں کی بہتری کا عالمی دن جسے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے بہتری اور وہ بھی اس طبقے کی اس سے واہیات مذاق کوئی اور ہو نہیں سکتا حیرت انگیز طور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ عالمی دن اسی طبقے کی خوشحالی آسودگی کی بجائے ہر نیا سال دکھوں تکلیفوں مصیبتوں اور مزید قہر لے کر ان پر خوب برستا ہے ان کے چہروں پر جھریاں ہاتھوں میں کپکپاہٹ ان کی دھنسی انکھیں ان سے ٹپکتی بے بسی کو غور سے تو دیکھیں پھر سوچنا یا بتانا کہ پھٹے پرانے بوسیدہ چیتھڑوں اور لیرو لیر کپڑوں میں ملبوس کروڑوں کی تعداد میں یہ حیوان نما انسان کس سیارے کی مخلوق ہیں؟ یہ تو معمولات زندگی میں بھی رہبروں کو انسان نہیں نظر اتے یہ طبقہ پاکستان کے برسوں پرانے طبقاتی نظام اور فرسودہ نظام میں فٹ ہو سکتا ہی نہیں ان کے آباو اجداد بھوک ننگ افلاس بھگت چکے یہ بھگت رہے ہیں ان کی پرورش پانے اور آنے والی نسلوں کا اس سے بھی بدتر حالات سے گذرنا ان کے نصیب میں ہے اشرافیہ کی ڈگڈگی پر بندر بنتے رہنا ان کا مقدر ہے یہاں ہر یوم مئی ( یوم مزدور) باقاعدگی اور پوری سج دھج سے منایا جاتا ہے مگر قیام پاکستان سے لے کر آج کے ان کے لیے ایک بھی تعمیری مثبت مقصد پایہ تکمیل تک پہنچا ؟ ہم اس چھٹی سے اپنی تفریح اور ان کے لئے مزید مشکل پیدا کرتے ہیں یہاں چھٹی تفریح اور صرف عالمی دن کی وجہ سے کی جاتی ہے یکم مئی کی چھٹی پہلے ایک روز قبل راولپنڈی اسلام آباد کے بس ٹرمینلز پر جا کر دیکھیں وہاں تیار فیملیز کی گفتگو سنیں تب پتہ چلے گا کہ یوم مزدور پر کیسی یکجہتی ہوتی ہے اشرافیہ تو اپنی شادیاں بھی اس چھٹی کے تحت ایڈجسٹ کرتی ہے جس طبقے کو صاف پانی تک میسر نہ ہو انہوں نے اس چھٹی کا کرنا کیا ہے؟ یکم مئی 2024 میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے فرمایا یہ فرمان پاکستان کے نیشنل میڈیا کا حصہ بھی بنا انہوں نے کہا محنت کشوں اور مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اس طبقے کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ہم مزدور کے وقار کو بلند رکھنے کے عزم اعادہ کرتے ہیں اس کی اجرت اور بہتری سے متعلق منصفانہ طرز عمل اپنائیں گے اب بتایا جائے مزدور کو خراج تحسین کس بات کا نہ اس کے پاس گھر ہے نہ کھانا ہے نہ پانی ہے نہ پیسہ ہے نہ عزت ہے نہ تعلیم ہے نہ صحت کی سہولت ہے بالکل جو َافراد ایسی بنیادی نعمتوں سے محرومیوں کی انتہا کے باوجود پاکستان پاکستان کر رہے ہیں تو وہ قابل تحسین تو ہیں ان کی گندم چوہے کھا جائے ان کی زکواۃ تک ہڑپ کر لی جائے ہسپتالوں کی راہداریوں میں کئی گھنٹے دھکے کھانے کے بعد دوائی تک نہ ملے اگر اندر یا باہر سے ملے بھی تو مضر صحت غیر معیاری جیسے کے پی کے میں محکمہ صحت سکینڈل میں انکشاف ہوا 3 روپے والی گولی کی ادائیگی 80 روپے فی گولی کے حساب سے کی گئی پھر مقصد اس طبقے کی صحت صحت کو مزید تباہ و برباد کر دینا یا بہتر کرنا ہوتا ہے الراقم طویل عرصہ سے لکھتا چلا آ رہا ہے مگر یوم مئی پر نہیں لکھتا کئی سالوں میں اس حوالے سے یہ صرف دوسری تحریر کر رہاہوں لکھیں بھی کیا ان کے لیے کسی تحریر یا تجاویز نہیں نوحے لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور نوحے تو لکھنے والے کو بھی رلا دیتے ہیں جس استحصالی طبقے نے انہیں گہرائی سے مزید گہرائی میں دھکیلا وہ کیسے رہبر و رہنما ہو سکتے ہیں یہ ممکن ہی نہیں یہ دونوں سوچیں مقاصد کی ضد ہیں چند سال قبل مجھے اپنے دوست احمد رضا خان ایڈووکیٹ کے ساتھ میر پور کشمیر جانے کا اتفاق ہوتا رہا ہم شمس اباد سے موٹر سائیکل پر فیض آباد اڈے کی بیک سائیڈ پر پہنچتے بائیک لاک کر کے چلے جاتے وہیں قریب ایک جگہ کچرے کے ڈھیر لگا ہوتا حیرت انگیز طور پر بچے بڑھے اور عورتیں کچھ ڈھونڈ کر کچھ اٹھانے کی کوشش میں مصروف ہوتے انہوں نے بتایا وہ کچھ ایسا سامان اٹھا رہے ہیں جسے وہ کباڑ کی دکان پر سیل کر کے کچھ گھر لے جائیں ایسے مناظر آپ کو پاکستان بھر میں ملیں گے یکم مئی 1886 میں مزدوروں کا قتل عام ہوا جن کے سینوں پر پسینہ ہوتا تھا وہاں خون کے فوارے تھے سینکڑوں افراد کے بہیمانہ و سفاکانہ قتل کے بعد بچ جانے والے والوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا اکثر مزدور لیڈرز کو سولی پر چھلا دیا گیا جو بچ گئے وہ جیلوں میں ہی گل سڑ کر بنجر بن گئے اس موقع پر البرٹ پارسن نامی مزدور کو بھی اپنا حق مانگنے پر سولی پر لٹکا یا گیا تب اس کی بیوہ لوسی پارسن نے کہا تھا دنیا کے غریبوں کو چاہیے کہ اپنی نفرت ان طبقوں کی طرف موڑ دیں جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیں لوسی پارسن نے درست کہا تھا مگر شاید وہ بھول گئیں اس اعلی طبقے نے شکنجہ ہی اس نوعیت کا کس رکھا ہے تم جتنی نفرت احتجاج یا اپنے حق کی آواز کے لیے بلند کریں گے اتنا ہی رگڑا ہماری سانسوں کے نزدیک ہے یوم مئی 7 سو سال سے منایا جا رہا ہے جس وجہ سے یہ دن منانے کی ضرورت پیش آئی نہ ان کو کٹہرے میں لایا گیا نہ خون کی ہولی کھیلنے والوں کو پکڑا گیا نہ سولیوں پر لٹکانے والوں کو نشان عبرت بنایا گیا تو پھر مزدور طبقے سے ہمدردی کیسی؟ بس ترقی یافتہ ممالک میں کسی حد تک طبقاتی نظام سے ہٹ کر کچھ بہتری ہے ہمارا مزدور طبقہ بیرون ملک جاتا ہے کبھی ان سے پوچھنا ان کے ساتھ ہوتا کیا کیا ہے
گذشتہ سال ورلڈ بینک کی 2025 کی رپورٹ میں غربت کی سنگین صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے بتایا گیا پاکستان میں 45 فیصد آبادی 50۔ 10 کروڑ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے اب آئی ایم ایف کی کل کی تازہ ترین رپورٹ نے رونگٹے کھڑے کر دیئے جس کے مطابق پاکستان دنیا کے َان دس ممالک میں شامل ہو چکا جو غذائی قلت کا شکار ہیں مزید پاکستان میں ایک کروڑ دس لاکھ افراد عبرتناک حد تک غذائی قلت میں ہیں یہ تعداد زیادہ تر سندھ میں بڑھی ہے بنگلہ دیش میں بہتری اور چین ایک منظم طریقہ کار کے تحت عوام کو عالمی خط غربت کی لکیر سے باہر لا چکا ہے تین سال پہلے کی ایک رپورٹ مطابق 17 فیصد تو وہ لوگ ہیں جو بے یقینی کا شکار ہیں کہ انہیں اگلے وقت کھانے کو کچھ ملنا بھی ہے یا نہیں یہی لوگ گندگی کے ڈھیروں پر بھی جانے پر مجبور ہوتے ہیں ہمارے محلہ کا مصطفی نامی ایک محنت کش دوران محنت معذور ہو گیا بس پھر ساری زندگی چارپائی پر رہا اب وہ اس جنہم زدہ زندگی سے بہت دور جا چکا ایویں تو نہیں لوگ بچوں سمیت نہروں دریاوں میں کود جاتے زہر کھا اور کھلا دیتے ہیں کہ ان معصوموں کو صبح دینا کیا ہے وہ تو بلبلائیں گے انہیں کیا علم ان کا بابا کیا کیا نہیں کرتا ان کی ممتا کس کس گھر کام اور جھڑکیں کھانے نہیں جاتی بس پھر موت ہی اس کا آخری حل ہے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا چلا جا رہا ہے اس مقروض ملک میں عوام میں بہتری کیسے آئے گی ان کے چہروں پر بھی کبھی رونق بحال ہو گی امید تو نہیں ہے جب سے ہوش سنبھالا یہی سن رہے کہ قربانی تو دینی ہو گی یار بحر ہند میں پھینک کر ایک بار ہی ہم سے قربانی لے لیں اب قومی بجٹ کی آمد آمد ہے دیکھ لینا نہ مزدوروں کے لیے کوئی بہتر پالیسی تنخواہ دار و پنشن طبقے کے لیے خزانہ خالی دوسری جانب ہر سال بجٹ آنے سے بہت پہلے پاکستان میں کرپشن کے گڑھ اور عوام کو بھکاری بنانے جیسے پروگرام BISP میں ماضی کی طرح 25 فیصد اضافے سے 845 ارب روپے مختص کئے بھی جا چکے ہیں حیرت کی بات پر مہنگائی کا عفریت آئی ایم ایف کی وجہ سے ہے ٹیکس در ٹیکس اسی کے کہنے پر ریلیف ختم اسی کے کہنے پر مگر بھکاری بنانے والی اس رقم پر اسے بھی کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ خوش کمال نہیں ہے مجموعی طور عوامی فلاحی منصوبوں پر شفاف انداز میں کچھ لگے تو لٹ مار اور کرپشن کا یہ اژدہا ختم ہو سکتا ہے

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *