دنیا بھر میں ہر سال یکم مئی کو مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک تعطیل نہیں بلکہ محنت کش طبقے کی طویل جدوجہد، قربانیوں اور حقوق کے حصول کی علامت ہے۔ مزدور وہ طبقہ ہے جس کے ہاتھوں کی محنت سے کارخانے چلتے ہیں، سڑکیں بنتی ہیں، کھیتیاں لہلہاتی ہیں اور معیشت کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے، مگر بدقسمتی سے اکثر یہی طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم نظر آتا ہے۔

اسلام نے مزدور کے مقام کو نہایت بلند رکھا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔(سورہ النجم آیت 39)

یہ آیت محنت کی عظمت اور اس کے صلے کو واضح کرتی ہے۔ اسی طرح حضور نبی کریم  نے مزدور کے حق کی ادائیگی کے بارے میں فرمایا:
ترجمہ: مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔(سنن ابن ماجہ)

یہ تعلیمات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ اسلام مزدور کے حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔

یہاں مفکرِ پاکستان کا یہ شعر معاشرتی انصاف کی شدت کو اجاگر کرتا ہے:
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

مزدور کے فرائض بھی اسی قدر اہم ہیں جتنے اس کے حقوق۔ ایک مزدور کو چاہیے کہ وہ دیانتداری، محنت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے۔ وقت کی پابندی، امانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت اس کے کردار کا حصہ ہونی چاہیے۔ دوسری طرف آجر پر لازم ہے کہ وہ مزدور کو مناسب اجرت، محفوظ ماحول اور عزت فراہم کرے۔

ترقی یافتہ ممالک میں مزدوروں کے حقوق کو مؤثر قانونی تحفظ حاصل ہے۔ وہاں کم از کم اجرت، آٹھ گھنٹے کام کا اصول، صحت کی سہولیات، انشورنس اور پنشن جیسے نظام مضبوطی سے نافذ ہیں۔ مزدور یونینز فعال ہیں اور حکومتیں ان کے ساتھ مشاورت کو ضروری سمجھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مزدور خود کو بااختیار اور محفوظ محسوس کرتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں مزدور طبقہ کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اگرچہ آئین اور لیبر قوانین مزدوروں کے حقوق کی ضمانت دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ کم اجرت، غیر یقینی ملازمت، طویل اوقات کار اور حفاظتی اقدامات کی کمی جیسے مسائل عام ہیں۔

اسی تناظر میں یہ انقلابی آواز مزدور کے حق کی ترجمانی کرتی ہے:
ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے
اک کھیت نہیں، اک ملک نہیں، ہم ساری دنیا مانگیں گے

مزدوروں کی جدوجہد کی تاریخ ہمیں 1886ء کے شہر شکاگو کی یاد دلاتی ہے جہاں مزدوروں نے آٹھ گھنٹے کام کے مطالبے کے لیے احتجاج کیا۔ اس احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ سے متعدد مزدور جاں بحق ہوئے (تاریخی حوالوں کے مطابق کم از کم 4 مزدور موقع پر ہلاک ہوئے جبکہ بعد ازاں کئی رہنماؤں کو سزائیں دی گئیں)۔ یہ واقعہ بعد میں عالمی یومِ مزدور کی بنیاد بنا۔

دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف تنظیمیں کام کر رہی ہیں، جن میں عالمی سطح پر قائم ادارے مزدوروں کے لیے معیار اور قوانین مرتب کرتے ہیں۔ یہ تنظیمیں نہ صرف مزدوروں کے حقوق کی نگرانی کرتی ہیں بلکہ حکومتوں کو اصلاحات کے لیے بھی مجبور کرتی ہیں۔

پاکستان میں بھی مزدوروں کے حقوق کے لیے تنظیمیں موجود ہیں، مگر ان کی کارکردگی مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ سکی۔ اس کی بڑی وجوہات میں سیاسی مداخلت، وسائل کی کمی اور مزدوروں میں آگاہی کا فقدان شامل ہیں۔

مزدور کی حالت زار کو بیان کرتا یہ شعر آج بھی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے:
مفلسی حسِ لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

مزدوروں کے استحصال کو روکنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ:
– لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے
– کم از کم اجرت کو حقیقی معنوں میں نافذ کرے
– سوشل سیکیورٹی، صحت اور رہائش کی سہولیات فراہم کرے
– غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو بھی قانونی تحفظ دے
عوام اور نجی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ مزدوروں کے ساتھ عزت، انصاف اور ہمدردی کا رویہ اپنائیں۔
مزدوروں کو ان کے حقوق دلانے کے لیے ضروری ہے کہ:
– مزدوروں میں تعلیم اور آگاہی کو فروغ دیا جائے
– یونینز کو مضبوط اور بااختیار بنایا جائے
– عدالتی نظام کو تیز اور مؤثر بنایا جائے
– شفاف نگرانی کا نظام قائم کیا جائے
آخر میں امید اور بیداری کا پیغام لیے یہ اشعار ایک بہتر مستقبل کی نوید دیتے ہیں:
جب ظلم و ستم کے کوہِ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم دیکھیں گے… لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

یہ حقیقت ہے کہ مزدور کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مزدوروں کو ان کا جائز مقام دینا ہوگا۔ ان کے حقوق کا تحفظ دراصل ہماری اپنی ترقی کا ضامن ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ محنت کی قدر کریں، مزدور کا احترام کریں اور ایک منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *