تحریر: محمد عرفان چدھڑ یومِ مزدور محض ایک تقویمی دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس کا نام ہےایسا احساس جو ہمیں اُن محنتی ہاتھوں کی قدر یاد دلاتا ہے جن کے سہارے ہماری معیشت کھڑی ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ مزدور نے اپنے حقوق کے لیے کتنی قربانیاں دیں، کتنی جانیں گنوائیں، اور اس کے باوجود آج بھی وہ بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی شکل میں محنت کش ہیں، فرق صرف کام کی نوعیت کا ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں مزدور کو وہ مقام اور عزت حاصل نہیں ہو سکی جس کا وہ مستحق ہے۔ ہر سال یومِ مزدور پر تقاریر، سیمینارز اور بلند بانگ دعوے تو سننے کو ملتے ہیں، لیکن عملی اقدامات اب بھی ناپید دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایک طرف چھوٹا کسان ہے جو اپنی زمین سے گرے ہوئے دانے چن کر بچوں کے لیے آٹا جمع کرتا ہے، تو دوسری جانب وہ محنت کش ہے جو سڑک کنارے ریڑھی لگا کر یا مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جوتے پالش کرنے والا بچہ، اینٹیں اٹھانے والا مزدور، راج مستری، سیکیورٹی گارڈ یا فیکٹری ورکرسب کی جدوجہد ایک ہی ہے: دو وقت کی روٹی کا حصول۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ جدوجہد اب صرف محنت تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض اوقات انسان کو ایسے انتہائی اقدامات پر بھی مجبور کر دیتی ہے جو کسی سانحے سے کم نہیں۔ آئے روز ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جہاں غربت اور بے بسی سے تنگ آ کر مائیں اپنے بچوں سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیتی ہیں، یا گھریلو تنازعات قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ وہ والدین جو دعاؤں کے بعد اولاد پاتے ہیں، جب انہیں صرف اس لیے تعلیم سے محروم ہوتا دیکھتے ہیں کہ فیس اور کتابوں کے اخراجات برداشت سے باہر ہیں؛ جب ایک باپ دن بھر مزدوری کی تلاش میں مارا مارا پھرنے کے باوجود خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے؛ جب فیکٹریاں معاشی دباؤ کے باعث ملازمین کو فارغ کر دیتی ہیں؛ جب علاج معالجے کے لیے وسائل میسر نہیں ہوتے؛ اور جب ایک مجبور باپ اپنی بیٹیوں کے بہتر مستقبل کے خواب بکھرتے دیکھتا ہےتو یہ حالات انسان کے حوصلے کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ایسے کٹھن وقت میں معاشرہ اکثر خاموش رہتا ہے۔ جب کسی کا بجلی کا کنکشن عدم ادائیگی پر منقطع ہوتا ہے یا بچے بھوک سے بلک رہے ہوتے ہیں تو مدد کو کوئی آگے نہیں بڑھتا، لیکن سانحہ پیش آنے کے بعد تبصرے ضرور کیے جاتے ہیں۔ کسی واقعے کو محض گھریلو مسئلہ قرار دے دینا آسان ہے، مگر اس سے پہلے کسی نے اس شخص کا ہاتھ تھامنے کی زحمت نہیں کی ہوتی۔ درحقیقت ان سانحات کے پیچھے وقتی جذبات نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے گہرے مسائل کارفرما ہوتے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ہماری اجتماعی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ مزدوروں کے حقوق کا حقیقی تحفظ یقینی بنائے، مہنگائی پر قابو پائے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی کو آسان بنائے۔ یومِ مزدور ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اُن ہاتھوں کی قدر کر رہے ہیں جو ہماری ترقی کی بنیاد ہیں؟ اگر نہیں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں، پالیسیوں کو مؤثر بنائیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں مزدور کو صرف ایک دن نہیں بلکہ ہر دن عزت، تحفظ اور انصاف میسر ہو۔ Post navigation یومِ مزدور۔ پسینے کا دن اور انصاف کی جدوجہد پسینے سے لکھی گئی تاریخ، یومِ مزدور کا عالمی تناظر