کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ریاستی نظم و نسق، عوامی اعتماد اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جب پولیس عوام کے مساءل کو ترجیح دے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور خود کو احتساب کے عمل سے وابستہ رکھے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب پولیس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جدید اصلاحات، ڈیجیٹل سہولیات اور عوامی رابطے کے نظام کو بہتر بنا کر اس حقیقت کو عملی شکل دی ہے۔ بالخصوص آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کی کامیاب کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس عوامی خدمت اور شفافیت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔
پنجاب پولیس کے آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کا قیام دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک مؤثر کوشش تھی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو یہ سہولت فراہم کی گءی کہ وہ پولیس سے متعلق کسی بھی شکایت، مسءلے یا تحفظات کو براہ راست اعلیٰ حکام تک پہنچا سکیں۔ اس نظام نے نہ صرف شہریوں کی آواز کو اہمیت دی بلکہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو بھی مسلسل نگرانی کے داءرے میں رکھا۔
حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پنجاب پولیس نے آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 پر موصول ہونے والی 53 ہزار سے زاءد شکایات کو کامیابی سے حل کیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ اس امر کا عملی ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس عوامی مساءل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔ ہزاروں شہریوں کو انصاف کی فراہمی، شکایات کے بروقت ازالے اور انتظامی مساءل کے حل نے عوام کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی قیادت میں شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق تمام شکایات کو مقررہ ٹاءم لاءن اور ایس او پیز کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پنجاب پولیس صرف شکایات وصول کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کے حل کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔
خصوصی طور پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلع پولیس افسران خود 1787 کمپلینٹ سسٹم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس سے شکایات کے حل میں نہ صرف تیزی آءی ہے بلکہ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط ہوا ہے۔ جب کسی ادارے کے سربراہان اور ضلعی افسران براہ راست نگرانی کریں تو ماتحت عملے کی کارکردگی میں بہتری آنا ایک فطری امر ہے۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو مقدمات کے اندراج سے متعلق 25 ہزار سے زاءد شکایات کا حل اس بات کا ثبوت ہے کہ شہریوں کو انصاف تک رساءی فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوءی ہے۔ ماضی میں اکثر شکایات سامنے آتی تھیں کہ بعض مقدمات درج نہیں کیے جاتے یا ان میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے، لیکن اب اس حوالے سے مؤثر نگرانی اور بروقت کاررواءی نے صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔
اسی طرح سست تفتیش سے متعلق تقریباً 13 ہزار شکایات کا ازالہ بھی ایک اہم کامیابی ہے۔ تفتیش کا بروقت اور شفاف ہونا انصاف کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تفتیشی عمل میں تاخیر کم ہو اور متعلقہ افسران جوابدہ ہوں تو نہ صرف متاثرہ فریق کو ریلیف ملتا ہے بلکہ ملزمان کے خلاف قانونی کاررواءی بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھتی ہے۔
پولیس سروسز اور محکمانہ امور سے متعلق ہزاروں شکایات کا حل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محکمہ اپنی اندرونی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات کے معیار کو بھی بلند کر رہا ہے۔ عوامی خدمت کا اصل مقصد شہریوں کے مساءل کو آسانی سے حل کرنا اور ان کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے، جس میں پنجاب پولیس کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتی دکھاءی دیتی ہے۔
ملزمان کی گرفتاری، ریکوری اور ناقص تفتیش سے متعلق شکایات کے حل نے بھی پولیس کے مؤثر کردار کو اجاگر کیا ہے۔ جراءم کے خلاف کاررواءی صرف مقدمہ درج کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ملزمان کی گرفتاری، مسروقہ سامان کی برآمدگی اور مکمل تفتیش بھی اسی عمل کا اہم حصہ ہیں۔ ان شعبوں میں ہزاروں شکایات کے ازالے سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس نتاءج پر مبنی کارکردگی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔
جھوٹے مقدمات کی منسوخی اور تبدیلی تفتیش سے متعلق شکایات کے حل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اقدامات شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ جب کسی شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی شکایت سنی جاءے گی اور اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوءی ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے، تو اس کا اعتماد ریاستی اداروں پر مزید مستحکم ہوتا ہے۔
آج کے دور میں عوامی اعتماد کسی بھی ادارے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پنجاب پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مؤثر شکایتی نظام کے ذریعے یہ اعتماد حاصل کرنے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 1787 کمپلینٹ سنٹر اسی سوچ کا عملی اظہار ہے جہاں شہری بلا خوف و جھجھک اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں اور ان کے حل کی پیش رفت سے بھی آگاہ رہتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابل ستاءش ہے کہ پنجاب پولیس خود احتسابی کے اصول کو فروغ دے رہی ہے۔ عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی پولیس اہلکار یا افسر کے رویے، کارکردگی یا کسی کاررواءی سے متعلق شکایت ہو تو اسے بلاجھجھک رپورٹ کیا جاءے۔ ایک ایسا ادارہ جو اپنے خلاف شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے خود پلیٹ فارم مہیا کرے، یقیناً شفافیت اور عوامی خدمت کے اعلیٰ معیار کی طرف گامزن ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری بھی اس نظام سے بھرپور استفادہ کریں۔ شکایات کے اندراج میں ذمہ داری اور درست معلومات کی فراہمی سے اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بناءی جا سکتی ہے۔ عوام اور پولیس کے درمیان تعاون کا مضبوط رشتہ ہی ایک پرامن، محفوظ اور قانون پسند معاشرے کی ضمانت ہے۔
بلاشبہ پنجاب پولیس کی حالیہ کارکردگی، بالخصوص آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کے ذریعے 53 ہزار سے زاءد شکایات کا بروقت حل، ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف محکمہ پولیس کی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاس ہے بلکہ عوامی اعتماد کے بڑھتے ہوءے رجحان کی بھی علامت ہے۔ اگر یہی جذبہ، شفافیت اور جوابدہی برقرار رہی تو پنجاب پولیس عوامی خدمت اور قانون کی بالادستی کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی اور شہریوں کا اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *