انسانی جسم میں دل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ محض ایک عضو نہیں بلکہ زندگی کی روانی کا ضامن ہے۔ دل کی باقاعدہ دھڑکن انسان کے وجود کو قائم رکھتی ہے۔ ایک صحت مند انسان کا دل عموماً فی منٹ 60 سے 100 مرتبہ دھڑکتا ہے اور یہی دھڑکن خون کو پورے جسم میں گردش دیتی ہے۔ خون کے ذریعے آکسیجن اور غذائی اجزاء جسم کے ہر حصے تک پہنچتے ہیں اور یوں زندگی کا نظام جاری رہتا ہے۔ اگر دل اپنی کارکردگی میں معمولی سی بھی خرابی کا شکار ہو جائے تو پورا جسم متاثر ہو جاتا ہے۔
دل کا کام صرف خون کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کے جذبات، احساسات اور روحانی کیفیت کا بھی آئینہ دار ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان کی زندگی کا آغاز بھی دل کی دھڑکن سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام بھی دل کے رکنے پر ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی دل کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم  نے دل کی اصلاح کو پوری زندگی کی اصلاح قرار دیا۔ آپ  کا فرمان ہے کہ جسم میں ایک ٹکڑا ایسا ہے کہ اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہے (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
سیرتِ نبوی  میں دل کی پاکیزگی کا ایک عظیم واقعہ بھی ملتا ہے۔ بچپن میں نبی کریم  کا سینہ مبارک شق کیا گیا اور آپ  کے دل کو نکال کر دھویا گیا تاکہ اسے ہر قسم کی آلودگی سے پاک کر دیا جائے (صحیح مسلم، کتاب الایمان؛ سیرت ابن ہشام)۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ دل کی طہارت اور پاکیزگی کس قدر اہم ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں امراضِ قلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں غیر متوازن غذا، زیادہ چکنائی اور فاسٹ فوڈ کا استعمال، ورزش کی کمی، ذہنی دباؤ، تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس شامل ہیں۔ جدید طرزِ زندگی نے جہاں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں انسان کو جسمانی سرگرمی سے دور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی بیماریاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔
اسلام نے نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی صحت کے اصول بھی بیان کیے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں دل کے امراض کے حوالے سے علاج اور احتیاط کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی کریم  نے ان کے علاج کے لیے مدینہ کی عجوہ کھجوریں استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی (صحیح بخاری، کتاب الطب)۔ جدید تحقیق بھی کھجوروں کو دل کے لیے مفید قرار دیتی ہے۔
اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہمارے گھر میں کوئی بیمار ہوتا تو نبی کریم  جو (جَو) کا دلیہ (تلبینہ) استعمال کرنے کی تلقین فرماتے اور فرماتے کہ یہ مریض کے دل سے غم کو کم کرتا ہے (صحیح بخاری، کتاب الطب؛ صحیح مسلم)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں غذائی علاج کو بھی اہمیت حاصل ہے۔
دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، ذہنی سکون اور نشہ آور اشیاء سے پرہیز دل کی صحت کے لیے بنیادی اصول ہیں۔ روزانہ کم از کم تیس منٹ چہل قدمی دل کو مضبوط بناتی ہے جبکہ تازہ پھل، سبزیاں اور کم چکنائی والی غذا دل کے لیے مفید ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب نیند اور باقاعدہ معمولاتِ زندگی بھی دل کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
امراضِ قلب کا علاج جدید دور میں ممکن ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص ہو۔ ادویات، انجیو پلاسٹی اور بائی پاس سرجری جیسے طریقے لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ علاج سے زیادہ اہم احتیاط ہے کیونکہ ایک صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے ان بیماریوں سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
دل کی صحت کا تعلق انسان کی عادات و اطوار سے بھی ہے۔ غصہ، حسد، نفرت اور منفی سوچ دل پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، جبکہ مثبت سوچ، صبر اور شکرگزاری دل کو سکون عطا کرتے ہیں۔ صاف ستھرا ماحول، سادہ رہن سہن اور اعتدال پر مبنی زندگی دل کو تندرست رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
قرآنِ مجید میں دل کو نہایت اہمیت دی گئی ہے۔ ایک مقام پر بتایا گیا کہ دلوں کا سکون اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے (سورۃ الرعد: 28)۔ ایک اور جگہ فرمایا گیا کہ اصل اندھا پن آنکھوں کا نہیں بلکہ دلوں کا ہوتا ہے (سورۃ الحج: 46)۔ اسی طرح قرآن میں یہ بھی ذکر ہے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے اور وہ بڑھتی جاتی ہے (سورۃ البقرہ: 10)۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں بھی دل کی اصلاح کو انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ انسان کی ظاہری شکل و صورت کو نہیں بلکہ اس کے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم)۔ یہ تعلیمات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ دل کی پاکیزگی اور اصلاح نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے۔
روحانی اعتبار سے دل کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جب دل ذکرِ الٰہی سے معمور ہوتا ہے تو انسان کے اندر سکون، اطمینان اور مثبت توانائی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جب دل دنیاوی آلائشوں، نفرت اور کینہ سے بھر جاتا ہے تو انسان بے سکونی اور اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دل انسانی زندگی کا محور ہے۔ اس کی حفاظت اور دیکھ بھال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مثبت طرزِ فکر اور روحانی وابستگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف اپنے دل کو تندرست رکھ سکتے ہیں بلکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *