برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آزاد ملک حاصل کیا۔ پاکستان بننے کے بعد ملک میں کوئی ایسی قیادت نہیں ابھر سکی۔ جو مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہو۔ شہر اقبال سیالکوٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح یہاں 28 تا 30 اپریل 1944ء تشریف لائے۔ یہاں نہ صرف انہوں نے تالاب شیخ مولا بخش میں تاریخی خطاب کیا بلکہ مفکر پاکستان علامہ اقبال کے مادر علمی گورنمنٹ مرے کالج کے میر حسن ہال میں طلباء سے خطاب بھی فرمایا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ قائداعظم ضلعی وشہری مسلم لیگ اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی وروح رواں خواجہ محمد طفیل (والد محترم ڈاکٹر سہیل طفیل ماہر امراض دل) تھے۔ شروع شروع میں اس فیڈریشن کے غیر رسمی اجلاس مرے کالج کے بورڈنگ میں منعقد ہوتے تھے۔ پروفیسر فیض احمد قریشی نے فیڈریشن کی تشکیل میں طلباء کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ فیڈریشن کی تشکیل کیلئے نوجوان طلباء کا پہلا اجلاس بھی انہی کے کمرے میں منعقد ہوا تھا۔ جن طلباء نے اس اجلاس میں حصہ لیا ان میں خواجہ محمد طفیل، جلیل جاوید، خواجہ عبدالسلام بٹ، خواجہ عبداللطیف، شعیب بن حسن، ریاض مرزا، ریاض قریشی، ایس ڈی ظفر، ایس۔اے۔ایچ اختر، عبدالستار، کے ڈی ظفر، سید رفاقت، شوکت اکرام، شیخ ریاض تھاپر، جے ایچ ملک، ایس ایل افضل، میاں محمد اکرام، عبدالمنان بٹ، کے ایم طاہر، ریاست علی باجوہ، ملک محمد اسلم، خلیق اللہ، ضیاء الحق، چوہدری محمد اسلم (گنڈے والی)، چوہدری محمد مظفر، ظفر اقبال تھاپر، ظفر اللہ باجوہ، چوہدری امجد، اے ایل اختر، ملک محمد امین،خالق نعرہ پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔لا الہ الاللہ اصغر سودائی (طالب علم تھرڈ ائیر) اور بہت سے طلباء کے نام شامل ہیں۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جو عہدے دار چنے گئے وہ مندرجہ ذیل ہیں صدر خواجہ محمد طفیل، نائب صدر ریاست علی باجوہ، سیکرٹری خواجہ عبداللطیف، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بننے کے بعد طلباء نے لیگ کا پیغام گھر گھر اور گلی گلی پہنچایا۔ مسلم لیگ نے بانی پاکستان کی آمد کے سلسلہ میں جو استقبالیہ کمیٹی تشکیل دی اس میں صدر چوہدری نصیر الدین ملہی، نائب صدر میاں اکبر علی، سیکرٹری سید مرید حسین شاہ، سیکرٹری نشر واشاعت حکیم مجید احمد تاثیر، آفس سیکرٹری فاروق رحمت اللہ شامل تھے جبکہ پنڈال کے منتظم سید ناصر محمود، مہمان وتوشہ خانے کے منتظم چوہدری محمد اقبال چیمہ جلوس کے منتظم حکیم سید اکبر علی زیدی شاندار استقبال کیلئے بینڈ کے منتظم بابو برکت علی تھے۔جبکہ آغا ذوالفقار علی خان ایک ایسی مرکزی شخصیت تھے جن کے ذمہ جلوس جلسہ گاہ، مہمان اور مہمانوں کی ہر طرح سے حفاظت اور سہولت کا خیال رکھنے کے علاوہ مذکورہ تقریب کے ہر شعبہ کے نظم ونسق اور ڈسپلن کا خیال رکھنا تھا حضرت قائداعظم اور لیاقت علی خان کو کمپنی باغ کے استراحت خانے میں ٹھہرانے کا باوقار انتظام کیا گیا۔ سردار عبدالرب نشتر کی رہائش کیلئے ڈاک بنگلہ نزد CMH کو آراستہ کیا گیا۔ انجمن اسلامیہ سیالکوٹ جس پر مجلس احرار اسلام کا قبضہ تھا نے مہمانوں کیلئے ہال دینے سے انکار کردیا مجبوراً مرے کالج کی گراؤنڈ میں خیمے لگا کر مہمانوں کی رہائش کا بندوبست کیا گیا۔ خواجہ سرفراز کے والد مرحوم چوہدری فیروز الدین فیض نے پانچ سو بستروں کا مکمل سیٹ پیش کیا۔ اس کے علاوہ جنج گھر لالہ کرم چند، قیوم ولا محلہ امام صاحب اور چوہدری فضل دین اینڈ سنز کی رہائش گاہ رنگ پورہ روڈ پر بھی معزز مہمانوں کو ٹھہرانے کا بندوبست کیا گیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جب قائداعظم امام صاحب روڈ پر پہنچے تو ”قیوم ولا“ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ خوبصورت اور عالی شان عمارت کس کی ہے اس پر انہیں بتایا گیا کہ یہ بلڈنگ سیالکوٹ کے مسلمان کی ملکیت ہے تو اس پر قائداعظم نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔ جلوس کیلئے جو راستہ متعین کیا گیا وہ مندرجہ ذیل ہے۔روانگی جلوس چوک ایبٹ روڈ، دارہ ارائیاں، گرین وڈ سٹریٹ، لہائی بازار، گندم منڈی، جندر بازار،اقبال روڈ کشمیری محلہ، بازار کھٹیکاں اڈا شہباز خاں، بانسانوالہ بازار، چوک بیری والا، موری گیٹ، سرکلر روڈ اور جلسہ گاہ تالاب شیخ مولا بخش ٹھیک۔ 3:15 بجے کار چوک ایبٹ آباد پہنچی۔ موصوف کوسلیٹی رنگ کی کھلی کار نمبر V.8 جوکہ چوہدری حسن دین ولد گہنا ٹھیکیدار موضع پوج پور کی ملکیت تھی، پر بٹھایا گیا جسے عبدالحمید ولد عبدالمجید محلہ چاہ جٹاں سیالکوٹ والے ڈرائیو کررہے تھے۔ حضرت قائداعظم درمیان میں اور دائیں بائیں نوابزادہ لیاقت علی خان اور نصیر الدین ملہی تشریف فرما تھے۔ ڈرائیور کے ساتھ سیکرٹری استقبالہ سید مرید حسین شاہ تشریف فرماتھے اب جو جلوس روانہ ہوا تو کیا منظر تھا۔ سبحان اللہ، چشم فلک نے ایسا باوقار ومنظم جوشیلا اور نشیلا ماحول کہاں دیکھا ہوگا۔بقول استاد محترم رشید نیاز مرحوم تمام راستوں پر انسانوں کی جھول ہی جھول تھی اور فلک سے پھول ہی پھول، ویسے تو تمام راستے جابجا محرابوں، قالینوں، جھنڈوں اور جھنڈیوں سے آراستہ تھے مگر غلہ منڈی میں واحد مسلمان آڑھتی حاجی تاج دین مرحوم نے گل رنگ وگل پوش دروازہ بنا کر حق محبت وپذیرائی ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ کشمیری محلے میں خواجہ محمد صفدر نے ہزاروں اہل محلہ کی قیادت کرتے ہوئے حضرت موصوف کا استقبال کیا۔ جب جلوس حکیم الامت حضرت علامہ اقبال کے درِدولت پر پہنچا تو نظارہ دیدنی تھا وہاں پر نظیر صوفی نے اہل خانہ کی قیادت کرتے ہوئے مہمان عالی کا استقبال کیا۔ جب قائداعظم مکان کے سامنے پہنچے تو احتراماً کھڑے ہوگئے ماضی کے دریچے کھول کر انتہائی جذب کی حالت میں علامہ کے گھر اور ان کی تصویر کو دیکھتے رہے۔ یہاں سے جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا تالاب شیخ مولان بخش پر جب ختم ہوا تو قائداعظم محمد علی جناح کو کار ہی میں مائیک پیش کیا گیا۔ آپ نے فلک شگاف اور ولولہ انگیز نعروں کے درمیان خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
“You have given a royal reception I am thank full to you”
اس کے بعد آپ ریسٹ ہاؤس تشریف لے گئے۔ رات آٹھ بجے کانفرنس میں خطاب کیلئے تشریف لائے۔ جلسہ گاہ میں سامعین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ جس کا ذوق پذیرائی دیکھنے کے قابل تھا۔ حافظ عبداللطیف نے تلاوت کلام پاک کی، سٹیج سیکرٹری کے فرائض سید مرید حسین شاہ نے سرانجام دیئے۔ سب سے پہلے چیئرمین استقبالیہ کمیٹی نصیر الدین ملہی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ قائداعظم نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا جس کا خلاصہ مختصر الفاظ میں یوں ہے۔ ”میں اس پلیٹ فارم سے آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ ہم ابھی اختلافات میں موجود ہیں اس لیے میری آپ سے اپیل ہے کہ باہمی جھگڑے ختم کرکے مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں۔ میں بالخصوص مجلس احرار جمعیت علمائے ہند، شیعہ، سنی، جاٹ، راجپوت، افغان اور صوبائی تعصب رکھنے والے حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کیلئے وقت کے تقاضے کو سجھیں اور اپنی سیاسی بقاء کیلئے سبز پرچم کی ٹھنڈی چھاؤں میں آجائیں“۔حضرت قائداعظم کی تقریر کا ترجمہ جناب عبدالرب نشتر مرحوم نے ایسے شگفتہ انداز میں فرمایا کہ موصوف کی مافی الضمیر کا ایک ایک نقطہ دل پر نقش ہوگیا۔ اسی جلسہ گاہ میں صدر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن جناب خواجہ محمد طفیل کے سپاسنامے کے جواب میں قائداعظم نے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ تاریخ کے حوصلہ افزا صحیفے سے کم نہ تھا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے۔”میں آپ کی طرح نوجوان نہیں ہوں لیکن آپ کی نوجوان روح اور جوش عمل نے مجھے جوان بنادیا ہے اور میرے ہاتھ مضبوط تر ہوگئے ہیں۔ سیالکوٹ کا یہ اجلاس 1940ء کے تاریخی جلسے سے کم نہیں۔ آپ کے جذبے نے میری قوت عمل کو دو آتشہ کردیا ہے“۔
مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن مرے کالج سیالکوٹ کی فراست کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ مرے کالج سٹوڈنٹس فیڈریشن خواجہ محمد طفیل اور عظمت اللہ خان سیکرٹری یونین کے ذریعے حضرت قائداعظم کو مرے کالج تشریف لانے کی دعوت دی۔30 اپریل1944ء کو جب قائداعظم محمد علی جناح گورنمنٹ مرے کالج تشریف لائے تو صدر دروازے پر کالج کے پرنسپل جان گیرٹ، عظمت اللہ خان سیکرٹری یونین، خواجہ محمد طفیل صدر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن اور یونین کے ممبران نے ان کا پرجوش اور شاندار تاریخی استقبال کیا۔ اس موقع پر مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار اعلیٰ آغا ذوالفقار علی خان بھی موجود تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح جب میر حسن ہال میں داخل ہوئے توقائدعظم زندہ باد کے نعروں سے پورا ہال گونج اٹھا۔ قائداعظم نے طلباء سے فرمایا کہ وہ محنت لگن اور تندہی کے ساتھ حصول تعلیم کیلئے کوشاں رہیں اور تمام اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم حاصل کرنے میں صرف کریں۔ کیونکہ تعلیم یافتہ طبقہ ہی مستقبل میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالے گا۔ جس کیلئے آج سے تیاری کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اگر آپ اتحاد، ایمان اور تنظیم کیلئے بنیادی اصولوں پر سختی سے کار بند رہوگے تو ہر آزمائش میں کامیاب رہو گے۔ 30 اپریل 1944ء کی سہ پہر مرے کالج کی اس پروقار تقریب کے بعد شہری ومسلم لیگ کے عہدیداروں اور کارکنوں کا ایک مشترکہ اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قائداعظم نے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ یہ جو پنجاب کی حد تک یونینسٹ ہیں اور مرکز میں ہم مسلم لیگ کے ساتھ اس دو عملی کو ختم کریں یا یونینسٹ رہیں یا مسلم لیگ میں تو اس پر سیالکوٹ کے چوہدری سرفراز ایم ایل اے بڈھا گورائیہ نے سب سے پہلے یونینسٹ پارٹی چھوڑ کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد راجہ غضنفر علی، ملک برکت علی وغیرہ سمیت بارہ تیرہ افراد نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ آپ نے سیالکوٹ میں مسلم لیگ کے کارکنوں کی محنت، کوششوں اور لگن کی بے حد تعریف کی۔ جس کی وجہ سے قائداعظم کا سیالکوٹ کا دورہ انتہائی کامیاب ہوا اور اس کا سہرا مسلم لیگ اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سر تھا کیونکہ اس کامیاب دورے میں بانی پاکستان نے فرمایا تھا کہ سیاسی کارکن ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔قائداعظم کے اس تاریخی دورے سے نوجوانوں اور کارکنوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا جس کی بدولت سیالکوٹ مسلم لیگ کا ایک گڑھ بن گیا۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *