تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور معاشی بقا کی بنیاد ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں تعلیم کو محض ایک سرکاری شعبہ نہیں بلکہ قومی ترجیح سمجھا جائے، وہاں ترقی کے دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام نے اپنی اجتماعی کامیابی کا راز تعلیم ہی کو بنایا ہے۔
بلاشبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں جس سنجیدگی، دلچسپی اور اصلاحاتی جذبے کا اظہار کیا جا رہا ہے، اسے کسی بھی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت نے تعلیم کو اپنی پالیسیوں میں نمایاں مقام دیتے ہوئے کئی اہم اقدامات کا آغاز کیا ہے، جن میں فری داخلہ، مفت تعلیم اور درسی کتب کی مفت فراہمی جیسے انقلابی اقدامات شامل ہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف تعلیمی سہولتوں کو عام کر رہے ہیں بلکہ کمزور طبقے کے لیے امید کی ایک روشن کرن بھی ثابت ہو رہے ہیں۔
تاہم اہلِ فکر و دانش ہمیشہ اس حقیقت کی جانب متوجہ کرتے رہے ہیں کہ کسی بھی نظام کی بہتری ایک مسلسل عمل ہے۔ کوئی بھی اصلاحاتی ڈھانچہ خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، وقت کے ساتھ اس میں مزید نکھار، بہتری اور عملی بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر توجہ دینا کسی بھی حکومت کی کامیابی کو دوام بخشتا ہے۔

اسی تناظر میں چند گزارشات نہایت ادب، احترام اور خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ اصلاح برائے بہتری ہے۔

یہ امر ناقابلِ انکار ہے کہ سرکاری سطح پر فری داخلہ، مفت تعلیم اور مفت درسی کتب کی فراہمی جیسے اقدامات قوم سازی کے عمل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سہولیات نہ صرف معاشرتی طبقاتی فرق کو کم کر رہی ہیں بلکہ تعلیمی مواقع کو ہر بچے تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر وہ بچے جو معاشی تنگدستی کے باعث تعلیم سے محروم رہ جاتے تھے، اب نسبتاً بہتر تعلیمی ماحول سے مستفید ہو رہے ہیں۔

یہ اقدامات یقیناً ایک روشن اور تعلیم یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں، جس کا سہرا حکومتِ وقت کے سر جاتا ہے۔ مگر ساتھ ہی زمینی حقائق بھی اپنی جگہ ایک تلخ مگر ضروری حقیقت کے طور پر موجود ہیں۔

پیف (Punjab Education Foundation) کے پارٹنر اسکولوں تک درسی کتب کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے تدریسی عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یہ تاخیر نہ صرف اساتذہ کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے بلکہ طلبہ کے تعلیمی تسلسل کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ کلاس روم میں کتاب کا بروقت نہ پہنچنا محض ایک انتظامی کمی نہیں بلکہ براہِ راست تعلیمی نقصان ہے، جس کا اثر بچوں کی ذہنی نشوونما اور سیکھنے کی صلاحیت پر پڑتا ہے۔
یہ ایک اہم پہلو ہے کہ جب تعلیمی مواد وقت پر دستیاب نہ ہو تو اساتذہ کو متبادل طریقے اپنانے پڑتے ہیں، جو اکثر معیاری تعلیم کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً طلبہ وہ بنیادی تعلیمی بنیادیں حاصل نہیں کر پاتے جو ان کی آئندہ تعلیمی زندگی کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ تعلیمی نظام میں صرف پالیسی بنانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مؤثر، بروقت اور شفاف نفاذ ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ اگر نفاذ کے مرحلے میں کمزوریاں رہ جائیں تو بہترین منصوبے بھی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔
ایک اور اہم مسئلہ جو آج کل شدت اختیار کر رہا ہے، وہ تعلیمی اداروں کی بار بار بندش ہے۔ پاکستان میں جیسے ہی موسم کی شدت بڑھتی ہے، یا توانائی بحران، ماحولیاتی آلودگی، یا کسی بھی ہنگامی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے، سب سے پہلے اسکولوں کو بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل بظاہر وقتی سہولت تو فراہم کرتا ہے، مگر اس کے دور رس اثرات نہایت منفی ہیں۔
تعلیم ایک تسلسل کا نام ہے، اور جب یہ تسلسل بار بار ٹوٹتا ہے تو اس کا نقصان صرف وقتی نہیں رہتا بلکہ پورے تعلیمی سال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ طلبہ کا سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے، ان کی ذہنی رفتار کمزور پڑتی ہے، اور امتحانی نتائج بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

خاص طور پر دیہی علاقوں اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس آن لائن تعلیم یا متبادل ذرائع کی سہولتیں محدود ہوتی ہیں۔
نتیجتاً تعلیمی عدم مساوات مزید بڑھنے لگتی ہے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ والدین اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کی تعلیم کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، مگر جب تعلیمی ادارے بار بار بند ہوں تو ان کی محنت اور امید دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک عام والدین کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہو جاتا ہے کہ آیا اس کا بچہ واقعی معیاری تعلیم حاصل کر رہا ہے یا محض ایک غیر یقینی تعلیمی نظام کا حصہ بنا ہوا ہے۔
اس تمام صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پالیسی ساز ادارے وقتی فیصلوں کے بجائے دیرپا اور پائیدار حکمت عملی اپنائیں۔ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے بجائے ایسے متبادل نظام وضع کیے جائیں جو ہنگامی حالات میں بھی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھ سکیں۔ ڈیجیٹل کلاس رومز، آن لائن تدریسی نظام اور ہائبرڈ ماڈل جیسے جدید طریقے اب دنیا بھر میں کامیابی سے استعمال ہو رہے ہیں، اور ہمیں بھی ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
کلام مختصر کہ کیا ہم واقعی اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا رہے ہیں یا غیر شعوری طور پر اسے مزید مشکلات کی طرف دھکیل رہے ہیں؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورا تعلیمی نظام، پالیسی ساز ادارے اور معاشرہ سب مل کر دینے کے ذمہ دار ہیں۔

اختتامی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کے تعلیمی اقدامات قابلِ تحسین ہیں، مگر ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے زمینی حقائق کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر پالیسی اور عمل کے درمیان فاصلہ کم کر دیا جائے تو یقیناً پنجاب کا تعلیمی نظام نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔

تعلیم ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو روشنی میں بدلتا ہے، اور یہی روشنی کسی بھی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *