تحریر۔ بلال حبیب Email. soulyour@gmail.com گزشتہ سال اگست کے مہینے میں دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلوں نے جنوبی پنجاب میں تباہی مچا دی تھی۔ ضلع رحیم یارخان کی تحصیل لیاقت پور کی یونین کونسل نور والاکے رہائشی محمد اسلم کے لیے وہ لمحہ انتہائی پریشان کن تھا جب اطلاع ملی کہ سیلابی پانی تیزی سے ان کے گاوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور اس کے چہرے پر فکر کی گہری لکیریں نمایاں ہو گئیں۔محمد اسلم اپنے گھر کے صحن میں کھڑے بار بار دور سے آتے پانی کے خطرے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کی بیوی اور بچے بھی خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں اس کے اردگرد جمع تھے۔ گھر میں موجود سامان، مویشی اور سالوں کی محنت سے بنائی گئی چھوٹی سی پناہ گاہ، سب کچھ ایک لمحے میں خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا تھا۔بیوی بچوں کی پریشان نظریں دیکھ کر اسلم کی بے بسی اور بڑھ جاتی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر واقعی پانی گاؤں تک پہنچ گیا تو وہ اپنے خاندان کو کہاں لے کر جائے گا اور کس طرح انہیں محفوظ رکھے گا۔ ایک طرف سیلاب کا خطرہ تھا اور دوسری طرف اپنے گھر اور روزگار کے ضائع ہونے کا خوف۔اس مشکل گھڑی میں محمد اسلم اور اس کے اہلِ خانہ کی نظریں صرف اس امید پر تھیں کہ شاید کوئی مدد پہنچ جائے اور وہ اس آنے والی آفت سے محفوظ رہ سکیں۔جیسے تیسے ہمت کرکے اسلم نے خود کو سنبھالا اور سیلاب سے بچنے کے لئیے اپنے بیوی بچوں کو اگلے دن اپنے قریبی رشتے داروں کی گھر دوسرے شہر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔محمد اسلم بتاتے ہیں کہ سیلاب کے دوران جب لوگ گھروں سے نکلے تو انہوں سے لاکھوں روپیہ کرایہ پرائیویٹ کشتی والوں کو مجبورا ادا کیا تھا۔ کشتی والوں نے جن سیلاب متاثرین کے مال مویشی تھے ان سے منہ مانگا کرایہ دو لاکھ سے چار لاکھ روپے تک لیا تھا۔ انہوں نے بتایا سیلاب کے بعد حکومت نے سروے کے لئیے سرکاری ملازمین کو بھیجا تھا جو یہاں کے نقصانات کا سروے کر کے گئے تھے لیکن ابھی تک کوئی امداد نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا کہ ان کے علاقے کہ جتنے مواضعات کا سروے کیا گیا ان میں سے چند ایک جگہوں پر امدادی رقم دی گئی ہے۔ موجودہ حالات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک سیلاب متاثرین مالی طور پر تنگی کا شکار ہیں کیونکہ سیلاب کے دوران ان کی جمع پونجی ختم ہو گئی تھی۔ لوگوں نے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں کر سکے۔ ابھی گندم کی فصل تیار ہے جس سے کچھ نہ کچھ ریلیف ملنے کا چانس ہے۔ ستمبر 2025ء کے پہلے ہفتے میں آنے والے سیلاب نے جہاں تباہی مچائی وہیں کئی خاندانوں کو فصلوں، مویشیوں اور گھروں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ ادارہ شماریات پنجاب کے مطابق تحصیل لیاقت پور کی کل آبادی 12 لاکھ 35 ہزار 2 سو ہے۔ جس میں سے 6 لاکھ 43 ہزار 4 سو 7 مرد ہیں اور 5 لاکھ 91 ہزار 6 سو 61 خواتین ہیں۔ دریا سے 6 کلومیٹر دوری پر رہنے والے ترنڈہ محمد پناہ کے رہائشی اور شعبہ صحافت سے وابستہ عمران بوسن نے بتایا کہ سیلاب کے دوران موضع نور والا میں کشتی الٹنے سے 9 افراد جانبحق ہوئے تھے جبکہ ظاہر پیر ، ٹھل حمزہ اور دیگر مواضعات کے 6 افراد بھی سیلاب میں ڈوب کر جانبحق ہو گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 14 جانبحق افراد کے ورثاء کو فی کس 30 لاکھ روپے کی امدادی رقم مل چکی ہے۔ جن افراد کے گھر مکمل گر گئے تھے ان کے حالات بہت خراب ہیں۔ 22 مواضعات کے رہنے میں سے صرف 600 (چھ سو) سیلاب متاثرین کو چیک ملے ہیں جبکہ 3800 (تین ہزار آٹھ سو) سیلاب متاثرین کو ابھی تک کچھ نہیں ملا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سب سیلاب متاثرین کو وعدہ تو کیا تھا لیکن اس پر پورا عملدرآمد نہیں ہوا۔ 1800 (ایک ہزار آٹھ سو) سیلاب متاثرین کا ریکارڈ پنجاب بینک کو بھیجا ہوا ہے لیکن ان کے اکاؤنٹ ابھی تک پیسے ٹرانسفر نہیں ہوئے۔ عمران کے مطابق ابھی تک 25 فی صد تباہ مکانات ہی تعمیر ہو سکے جبکہ باقی افراد خیموں یا جھونپڑیوں میں ہی رہ رہے ہیں۔ سیلاب کے دوران تاجر برادری کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے عاصم بلوچ نے بتایا کہ سیلاب سے تحصیل لیاقت پور کے 35مواضعات متاثر ہوئے تھے۔ جن میں سے 23مواضعات کو زیادہ نقصان پہنچا تھا۔ سب سے زیادہ نقصانات موضع نور والا ، بیٹ ظاہر پیر ، بیٹ امام بخش ماچھی شدید ترین متاثر ہوئے۔ کچھ بستیاں تو صفہ ہستی سے مٹ گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ نقصانات بہت زیادہ ہوئے لیکن امداد کہیں ملی اور زیادہ تر کو نہ مل سکی۔ کسی کو پانچ ہزار روپے، دس ہزار روپے اور کسی کو دو لاکھ روپے تک بھی ملی تاہم نقصانات کا ازالہ پوری طرح سے نہ ہو سکا۔ انسانی حقوق اور ریلیف کے حوالے سے کام کرنے والے شعبہ صحت کی نجی تنظہم سے وابستہ سماجی ورکر وحید احمد نے بتایا کہ سیلاب دو یونین کونسلیں نور والا اور تاج محمد لنگاہ بری طرح متاثر ہوئیں تھیں۔ 22 مواضعات میں سیلابی پانی ایا تھا۔ سیلاب متاثرین کے گھر بار، فصلیں، مویشی اور سامان دریا برد ہو گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ جن کے گھر مکمل تباہ ہو گئے تھے ان میں سے کچھ لوگوں کو امدادی رقوم تو ملی ہیں۔ تیس ہزار روپے سے ایک لاکھ پچیس روپے تک مختلف سیلاب متاثرین کو رقم ملی ہے۔ بہت سے لوگوں ابھی تک کچھ نہیں ملا اور وہ وعدوں اور لاروں میں جی رہے ہیں۔ دونوں یونین کونسلوں کی ساٹھ ہزار سے زائد آبادی سیلاب سے متاثر ہوئی تھی جبکہ امداد چند سو افراد کو ہی مل سکی ہے۔ سیلاب متاثرہ غلام یاسین اور عبدالغفور نے بتایا کہ ان کے گھروں کے تین تین کمرے گرے تھے لیکن ابھی تک انہیں کوئی امدادی رقم نہیں ملی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقے کے سیلاب متاثرہ جن کے مالی نقصان اور گھر گرے ان میں سے کسی کو امدادی رقم تا حال نہیں ملی۔ یونین کونسل تاج لنگاہ اور نور والا کے محمدقاسم اور فیض بخش نے بتایا کہ ان کے گھر بھی سیلاب سے گر گئے تھے لیکن ابھی تک ان کو کچھ نہیں ملا۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرہ علاقے یونین کونسل تاج محمد لنگاہ کا دورہ بھی کیا تھا۔ سکول میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ میں موجود خواتین اور بچوں کے ساتھ کافی وقت بھی گزارا تھا۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرین سے سرائیکی زبان میں وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ “فکر نہ کرو، سب ٹھیک تھی وے سی،اللہ خیر کر سی، نقصان پورا کر ساں۔ وزیر اعلی نے کہا تھا کہ پانی اتر جائے گا تو تخمینہ لگا کر نقصان پورا کریں گے ، سیلاب متاثرین کا خیال رکھنا میرا فرض ہے، متاثرین کا جو بھی نقصان ہوا پورا کریں گے۔ سیلاب سے جن کا گھر گر گیا ان کو گھر بنا کر دیں گے، سیلاب متاثرین تسلی رکھیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ جانبحق افراد کے ورثاء کی بھی مدد کرینگے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو لاریب اسلم سے جب سیلاب متاثرین کے حوالے سے جاری فنڈز اور حکومتی اقدامات کے حوالہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پاس حکومتی امداد کی تفصیلات لی جا سکتی ہیں۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو آرڈینیٹر یاسین نواز کے مطابق 14 نومبر 2025ء کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بنائی جانے والی “سیلاب کے نقصان کا اندازہ” رپورٹ کے مطابق ضلع کے 67 مواضعات سیلاب سے متاثر ہوئے۔ جن میں سب سے زیادہ 35 مواضعات تحصیل لیاقت پور کے تھے۔سیلاب سے 2176 ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی تھیں۔ سیلاب سے پکے کے علاقے کے 158 گھر مکمل تباہ ہوئے اور 51 گھر جزوی متاثر ہوئے۔ جبکہ کچے کے علاقے کے 883 گھر مکمل تباہ اور 257 جزوی متاثر ہوئے تھے۔ یاسین نواز نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئیے 7880 سروے کئیے گئے تھے۔ ان سرویز کا مقصد سیلاب سے گھروں، فصلوں اور مال مویشی کے نقصانات کا ازالہ کرنا تھا۔جن میں سے 2633 کیسز منظور کئیے گئے تھے اور 5244 کیسز منظور نہیں کئیے گئے جبکہ 3 کیسز کو پینڈنگ کیا گیا تھا۔ ترجمان پی ڈی ایم اے مظہر حسین کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ضلع رحیم یارخان کے متاثرہ افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے 12 کروڑ 11 لاکھ روپے سے زائد امداد فراہم کی گئ ہے۔ کسانوں کی مدد کیلئے فصلوں کے نقصانات کے ازالے کی مد میں 82 لاکھ 62 ہزار روپے سے زائد ادا کی جا چکی ہے۔ حکومتی امداد کا مجموعی حجم ضلع رحیم یارخان کے لیے 12 کروڑ 93 لاکھ 62 ہزار روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی پروگرام سے ضلع رحیم یارخان کے 1 ہزار 18 افراد اب تک فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کیمپ قائم کیے گئے، راشن تقسیم کیا گیا اور نقد امداد کی ادائیگی کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق ہزاروں خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی گئی ہے۔تاہم زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ متعدد متاثرین کا کہنا ہے کہ انہیں یا تو امداد ملی ہی نہیں یا دی گئی رقم نقصانات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ کئی خاندان سروے فہرستوں میں شامل نہ ہو سکے جبکہ کچھ اب بھی تصدیقی عمل کے انتظار میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اعلان کردہ امداد واقعی تمام مستحقین تک پہنچی؟ کتنے خاندان حکومتی امداد سے محروم رہے اور نقصانات کا مکمل ازالہ کب تک ممکن ہو سکے گا؟ رحیم یار خان کے سیلاب متاثرین آج بھی انہی سوالوں کے جواب کے منتظر ہیں۔ Post navigation دیوارِ چین سے دیوارِ تصویر تک لاک ڈاؤن کا فوری خاتمہ ہونا چاہئے!