عبدالخالق چوہدری

دنیا کی تاریخ میں بعض تعمیرات صرف اینٹ، پتھر اور گارے کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ تہذیبوں کے عروج و زوال، قوموں کے خوف، عزائم اور اجتماعی شعور کی علامت بن جاتی ہیں۔ انہی میں ایک عظیم الشان مثال **دیوارِ چین** ہے، جو انسانی تاریخ کے عظیم ترین تعمیراتی کارناموں میں شمار ہوتی ہے۔
دیوارِ چین کی تعمیر کا آغاز تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے پہلے شہنشاہ **چِن شی ہوانگ (Qin Shi Huang)** کے دور میں ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد شمالی حملہ آور قبائل، خصوصاً منگول اور دیگر خانہ بدوش جنگجوؤں کے حملوں سے دفاع تھا۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں مختلف حکمران خاندانوں نے اس میں توسیع کی، خاص طور پر **منگ خاندان** نے اسے مضبوط اور وسیع شکل دی۔یہ دیوار شمالی چین کے پہاڑوں، صحراؤں اور میدانوں سے گزرتی ہوئی تقریباً **21,196 کلومیٹر** تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی اوسط چوڑائی 15 سے 30 فٹ اور اونچائی 20 سے 26 فٹ تک ہے۔ مؤرخین کے مطابق اس کی تعمیر میں لاکھوں مزدوروں، سپاہیوں، قیدیوں اور کسانوں نے حصہ لیا، اور یہ کام مختلف ادوار میں تقریباً دو ہزار سال تک جاری رہا۔ ہزاروں افراد اس تعمیر کے دوران جان کی بازی ہار گئے، اسی لیے اسے بعض اوقات “دنیا کا سب سے بڑا قبرستان” بھی کہا جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ قومیں دیواریں کیوں بناتی ہیں؟
صرف حملہ آوروں سے بچنے کے لیے؟
یا اپنی شناخت، نظریات اور تاریخ کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی؟
دیوارِ چین ایک جسمانی دیوار تھی، مگر ہمارے معاشرے میں آج ایک نئی قسم کی “دیواریں” تعمیر ہو رہی ہیں — **تصاویر کی دیواریں**۔ یہ وہ دیواریں ہیں جہاں اصل خدمت گزاروں کی جگہ خود ساختہ، من پسند، من گھڑت سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی تصاویر آویزاں کی جاتی ہیں۔

**بہت سے دوغلے چہرے اسی خواہش پر جیتے ہیں
کہ کوچہ و بازار میں ان کی تشہیر ہو جائے**

کسی بھی زندہ قوم کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اپنے ان محسنوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے حقیقی معنوں میں ملک و قوم کے لیے قربانیاں دیں۔ دنیا کے مہذب ممالک میں قومی ہیروز کی تصاویر کرنسی نوٹوں، تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں اور عوامی عمارتوں میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر لگائی جاتی ہیں۔ ان شخصیات کے انتخاب میں شفافیت، تحقیق اور قومی مفاد کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذاتی مفاد، خود نمائی اور سیاسی تشہیر کے لیے مخصوص شخصیات کی تصاویر سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں زبردستی آویزاں کر دی جاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف اداروں کی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام میں اختلاف، اضطراب اور نفرت جنم لیتی ہے۔

**جو سچے ہیں وہ گمنامی میں بھی روشن ستارے ہیں
جو جھوٹے ہیں وہ چرچوں کے سہارے ہی سنبھلتے ہیں**

اسلام ہمیں اخلاص، دیانت اور انصاف کا درس دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(سورۃ النجم: 39)
ترجمہ: “اور یہ کہ انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اصل مقام و مرتبہ خدمت، کردار اور عمل سے ملتا ہے، نہ کہ تصویروں، نعروں یا مصنوعی تشہیر سے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ: “اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس امر کی بہترین وضاحت ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی تصویر نہیں بلکہ اس کا کردار اور عمل ہے۔

**وفا، کردار، سچائی جنہیں بوجھل لگے ہر دم
وہی پھر جھوٹ کی دیوار پر شہرت کو ملتے ہیں**

تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنے حقیقی محسنوں کو پہچانتی ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں بھی ایسی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن میں اعلیٰ کردار، علم و دانش اور دیانت رکھنے والے افراد شامل ہوں، اور وہ رول آف آنر کے لیے نام تجویز کریں، تو عوام الناس بھی اسے بخوشی قبول کریں گے۔
تعلیمی ادارے تربیت گاہیں ہیں، سیاسی اکھاڑے نہیں۔ وہاں ایسی تصاویر آویزاں کرنا جو تنازع اور اختلاف کو جنم دیں، نئی نسل کے ذہنوں میں تقسیم پیدا کرتا ہے۔ اگر سکول، کالج اور جامعات سیاسی نمود و نمائش کا مرکز بن جائیں تو تعلیم کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

**ضمیر اپنا بیچ کر جو نام پانے کی ہوس رکھیں
وہی محفل میں اکثر سب سے اونچا بولتے ہیں**

اصل عظمت دیواروں پر لگنے سے نہیں، دلوں میں بسنے سے ملتی ہے۔تصاویر وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں، مگر کردار تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ روشن رہتا ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم “دیوارِ چین” سے سبق سیکھیں:دیواریں قوموں کی حفاظت کے لیے بنتی ہیں، تقسیم کے لیے نہیں۔اگر ہم نے تصویروں کی دیواروں کو انا، مفاد اور خود پسندی کی بنیاد پر کھڑا کیا تو یہ معاشرے میں نفرت کی دیواریں بن جائیں گی۔

**جو سچ کے آئینے سے نظریں چرا کر چلتے ہیں
وہی شہرت کی خاطر ہر گلی میں پلتے ہیں**

قومیں تصویروں سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہیں۔اور وہی نام امر ہوتے ہیں جو خدمت، اخلاص اور قربانی سے تاریخ میں ثبت ہوں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *