آصف اقبال

 

پنجاب کی معیشت بظاہر ایک مضبوط صنعتی ڈھانچے کی حامل ہے، مگر اس کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو ایک خاموش خلا اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے ایسا خلا جو روایتی صنعتوں اور جدید، ہائی ویلیو مینوفیکچرنگ کے درمیان حائل ہے۔ یہ محض ایک معاشی کمزوری نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن سوال ہے: کیا ہم آنے والے کل کی معیشت تعمیر کر رہے ہیں، یا گزرے ہوئے کل کی کامیابیوں پر گزارا کر رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کی صنعتی شناخت ایک فطری ارتقاء کا نتیجہ ہے۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل، سیالکوٹ کے سرجیکل آلات اور اسپورٹس گڈز، گوجرانوالہ کی لائٹ انجینئرنگ، اور لاہور و شیخوپورہ کی متنوع صنعتیں یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں معیشت “زمین سے جڑی ہوئی” ہے۔ ہر شہر، ہر تحصیل اپنی مہارت، وسائل اور تاریخ کے مطابق ایک صنعتی کلسٹر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ ماڈل اپنی جگہ ایک کامیاب مثال ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اسے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے؟
مسئلہ یہ نہیں کہ پنجاب میں صنعت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ صنعت کی نوعیت اب بھی کم ویلیو ایڈیشن تک محدود ہے۔ دنیا جہاں الیکٹرانکس، بائیوٹیکنالوجی، رینیوایبل انرجی اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے، وہاں پنجاب کی معیشت اب بھی بنیادی پیداوار اور ابتدائی پروسیسنگ کے گرد گھوم رہی ہے۔ ہم کپاس پیدا کرتے ہیں مگر عالمی معیار کے برانڈز نہیں بناتے، ہم زرعی اجناس اگاتے ہیں مگر ویلیو ایڈیڈ ایکسپورٹس میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یوں خام مال یہاں سے نکلتا ہے اور اصل منافع کہیں اور منتقل ہو جاتا ہے۔
یہ تضاد جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان جیسے علاقے زرخیزی میں بے مثال ہیں، مگر صنعتی ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے باعث ان کی معیشت اپنی اصل صلاحیت سے بہت پیچھے ہے۔ اگر یہی خطہ ایگرو بیسڈ انڈسٹری، فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ حب میں تبدیل ہو جائے تو نہ صرف علاقائی عدم توازن کم ہو سکتا ہے بلکہ پنجاب کی مجموعی معیشت کو بھی نئی سمت مل سکتی ہے۔
حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے: توجہ کا مرکز زیادہ تر فنانسنگ ہے۔ قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے جو بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا سرمایہ ہی سب کچھ ہے؟ اگر جدید ٹیکنالوجی، تربیت یافتہ افرادی قوت، مستحکم پالیسی فریم ورک اور عالمی منڈی تک رسائی میسر نہ ہو تو یہ کاروبار کب تک زندہ رہیں گے؟ آسان قرض ترقی کا دروازہ کھول سکتا ہے، مگر اس کے اندر داخل ہونے کے لیے ایک مکمل نظام درکار ہوتا ہے۔
پنجاب کو اب ایک نئے صنعتی وژن کی ضرورت ہے—ایسا وژن جو محض بقا نہیں بلکہ عالمی مسابقت کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا جائے۔ اس کے لیے “سیکٹر مخصوص حکمت عملی” ناگزیر ہے۔ فیصل آباد کو ٹیکسٹائل انوویشن اور ٹیکنالوجی اپگریڈیشن کا مرکز بنایا جا سکتا ہے، سیالکوٹ کو برانڈڈ ایکسپورٹس اور ہائی ویلیو مینوفیکچرنگ کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کو ایگرو انڈسٹریل پاور ہاؤس بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بڑے شہری مراکز میں الیکٹرانکس، الیکٹرک وہیکلز اور رینیوایبل انرجی کے لیے خصوصی زونز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اصل چیلنج وسائل کی کمی نہیں بلکہ سمت کا تعین ہے۔ پنجاب کے پاس زرخیز زمین، محنتی افرادی قوت اور ایک فعال کاروباری طبقہ موجود ہے۔ اگر ان تمام عناصر کو ایک مربوط پالیسی کے تحت جوڑ دیا جائے تو یہی صوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں صنعتی قیادت کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب کی اصل طاقت اس کے بڑے شہر نہیں بلکہ اس کی “ماہر تحصیلیں” ہیں۔ یہی وہ مقامات ہیں جہاں ہنر جنم لیتا ہے، جہاں چھوٹے کاروبار بڑے خواب دیکھتے ہیں، اور جہاں سے صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اگر پالیسی کا رخ ان تحصیلوں کی طرف موڑ دیا جائے تو ترقی کا دائرہ چند شہروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے صوبے میں پھیل جائے گا۔
آخرکار سوال وہی رہتا ہے: کیا ہم آج مستقبل کی صنعتیں تعمیر کر رہے ہیں یا کل کے مواقع ضائع کر رہے ہیں؟ پنجاب کی معاشی تقدیر کا فیصلہ اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *