چوہدری افضل

پنجاب کی دھرتی، جو صدیوں سے زرخیزی اور فیاضی کی پہچان رہی ہے، آج ایک عجیب بے چینی کا شکار ہے۔ یہی وہ زمین ہے جہاں گندم کی سنہری بالیاں لہلہا کر خوشحالی کی نوید دیتی ہیں، مگر ستم یہ ہے کہ انہی بالیوں کو اگانے والا کسان خود پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اس کی محنت، اس کا پسینہ اور اس کی امیدیں منڈیوں کے غیر منصفانہ نظام اور حکومتی بے توجہی کے باعث دم توڑتی دکھائی دیتی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اپنی حکومت کے دوران متعدد عوامی فلاحی اقدامات کیے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر، ہسپتالوں کی بہتری، تعلیمی منصوبے اور عوامی ریلیف کے پروگرام یقیناً قابلِ تعریف ہیں۔ مگر زرعی شعبہ، جو اس صوبے کی بنیاد ہے، آج بھی مکمل توجہ کا منتظر ہے۔ کسان وہ طبقہ ہے جو اپنی محنت سے اس ملک کو خوراک فراہم کرتا ہے، مگر بدلے میں اسے وہ عزت اور سہولت میسر نہیں آتی جس کا وہ حقیقی حق دار ہے۔

گندم محض ایک فصل نہیں بلکہ ہماری زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ ہمارے گھروں کے چولہوں کی حرارت، ہماری معیشت کا سہارا اور ہماری بقا کی ضمانت ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی دنیا میں اناج کی کمی واقع ہوئی، اس کے اثرات نہایت دور رس ثابت ہوئے۔ آج بھی عالمی حالات کچھ اسی نوعیت کے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، جنگیں اور رسد کے مسائل دنیا بھر میں اناج کی ممکنہ قلت کا عندیہ دے رہے ہیں۔

روس اور یوکرین کی جنگ نے عالمی سطح پر گندم کی فراہمی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی ممالک اب بھی خوراک کے بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو سہارا دے رہے ہیں؛ انہیں مالی معاونت، جدید سہولیات اور فصل کی یقینی خریداری فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ پیداوار جاری رکھ سکیں۔

اس کے برعکس، ہمارے ہاں کسان کی حالت نہایت تشویشناک ہے۔ جب وہ اپنی گندم لے کر منڈی پہنچتا ہے تو اسے بیوپاریوں، آڑھتیوں اور غیر یقینی نرخوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کھاد، بیج، ڈیزل اور پانی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس کی لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھا چکا ہے۔ ایسے میں اگر گندم کی قیمت کم رکھی جائے تو یہ کسان کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔

اسی پس منظر میں میرے برادرِ مکرم و دہقان چوہدری اقبال مانگری کے مشاہدات اس کرب کی سچی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کسان دن رات محنت کر کے فی ایکڑ گندم پر 60,000 روپے سے زائد خرچ کرتا ہے۔ زمین کی تیاری ، بیج ، کھادیں ، ڈی اے پی، یوریا، ڈیزل ، زرعی سپرے اور ہارویسٹنگ
کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ جب خونِ جگر سے فصل تیار ہوتی ہے تو بمشکل 35 سے 40 من پیداوار حاصل ہوتی ہے، جس کا منڈی میں بھاؤ صرف 3,000 سے 3,200 روپے فی من لگایا جاتا ہے۔ اس حساب سے 40 من فروخت کرنے پر زیادہ سے زیادہ 1,28,000 روپے حاصل ہوتے ہیں، جن میں سے تقریباً 60,000روپے اخراجات نکالنے کے بعد بچت محض 20,000 سے 30,000 روپے رہ جاتی ہے۔ اگر زمین ٹھیکے پر ہو یا پیداوار 35 من تک محدود رہے تو یہ بچت 10,000 روپے تک سمٹ جاتی ہے، جو اکثر ایک ماہ کے بل بجلی کے لیے بھی ناکافی ہوتی ہے۔ مزید برآں، موسم کی سختیاں یا سرکاری نرخ نہ ملنے کی صورت میں کسان الٹا قرض کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخراجات کا پہاڑ ہر سال بلند تر ہوتا جا رہا ہے، مگر کسان کی بچت مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ اسی لیے کسان کا بجا مطالبہ ہے کہ کھاد، بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں کم کی جائیں اور گندم کا نرخ لاگت کو مدنظر رکھ کر مقرر کیا جائے، تاکہ روٹی اگانے والا خود فاقوں پر مجبور نہ ہو۔
یہی وہ درد ہے جو ہر کسان کے سینے میں دھڑک رہا ہے، مگر اکثر اس کی صدا ایوانِ اقتدار تک پوری شدت کے ساتھ نہیں پہنچ پاتی۔
یہاں “باردانہ” کا مسئلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو ہر سال کسان کے لیے امید اور امتحان دونوں بن کر سامنے آتا ہے۔ حالیہ حکومتی اعلان کے مطابق تقریباً 6 ارب روپے مالیت کا باردانہ فراہم کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاشتکاروں کو فی ایکڑ مخصوص تعداد میں بوریاں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی گندم محفوظ انداز میں سرکاری خریداری مراکز تک پہنچا سکیں۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اقدام ہے، مگر عملی صورتِ حال اکثر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ باردانہ اکثر اپنے اصل مستحقین تک بروقت نہیں پہنچ پاتا۔ اس کی تقسیم میں شفافیت کا فقدان، مقامی اثر و رسوخ اور آڑھتیوں کا کردار کسان کو اس کے حق سے محروم کر دیتا ہے۔ چھوٹا کسان، جو چند ایکڑ زمین کا مالک ہوتا ہے، طویل قطاروں میں کھڑا رہتا ہے، جبکہ بااثر افراد اور درمیانی عناصر اس سہولت سے زیادہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔
اسی لیے آج بھی کسان کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ آیا یہ 6 ارب روپے کا باردانہ واقعی اس تک پہنچ پائے گا یا ایک بار پھر آڑھتی ہی اس سے فیضیاب ہوں گے؟ امید تو یہی کی جا سکتی ہے کہ اس بار نظام میں بہتری آئے گی، مگر ماضی کے تلخ تجربات اس امید کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اگر گندم کی قیمت 4000 روپے فی من سے کم رکھی گئی تو کسان کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا بھی دشوار ہو جائے گا۔ وہ قرضوں میں جکڑ جائے گا اور آئندہ فصل کی کاشت کے لیے اس کا حوصلہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ یہ صورتحال نہ صرف کسان بلکہ پوری قومی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کسان نے کاشت کم کر دی تو گندم کی پیداوار میں کمی آئے گی اور ملک کو درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا، جس سے قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑے گا۔
پنجاب کی منڈیوں کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کسان اپنی فصل فروخت کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرتا ہے، جبکہ درمیانی عناصر زیادہ منافع سمیٹ لیتے ہیں۔ یہ نظام نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ کسان کو مزید مایوسی کی طرف دھکیلتا ہے۔
دنیا بھر میں کسان کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ وہ خوراک فراہم کرتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کسان کو ریاستی تحفظ حاصل ہوتا ہے، اسے مالی معاونت دی جاتی ہے اور اس کی فصل کی قیمت پیشگی طے کی جاتی ہے تاکہ وہ نقصان سے محفوظ رہے۔ ہمیں بھی اپنے کسان کو وہی مقام دینا ہوگا۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ گندم کی قیمت کم از کم 4000 روپے فی من مقرر کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ فصل کی خریداری کا نظام شفاف، منصفانہ اور بروقت ہونا چاہیے تاکہ کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ مل سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں کمی کی جائے تاکہ کسان کے اخراجات کم ہوں۔ باردانہ کی تقسیم کو مکمل شفاف بنایا جائے اور اس کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ اصل مستحقین تک اس کا فائدہ پہنچ سکے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے عملی فیصلے کریں جو کسان کے حق میں ہوں۔ ایک خوشحال کسان ہی ایک مضبوط اور خود کفیل پاکستان کی ضمانت ہے۔
کلام مختصر کہ گندم کی ہر بالی ایک خاموش پیغام رکھتی ہے ، اگر کسان خوشحال ہوگا تو ملک بھی خوشحال ہوگا، اور اگر کسان کمزور پڑ گیا تو پوری قوم اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ صدا ایوانِ اقتدار تک پہنچتی ہے یا نہیں، اور اگر پہنچتی ہے تو اس پر عمل بھی ہوتا ہے یا یہ بھی محض ایک وعدہ بن کر رہ جاتی ہے۔

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
علامہ محمد اقبال

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *