“مرہم رکھنے والے ہاتھوں پر جب خود ستم کے گہرے نشان سج جائیں، تو شفا خانوں کی دیواریں بھی نوحہ کناں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کا یہ دکھ صرف ایک وجود کا نہیں، بلکہ اس معاشرے کے ضمیر پر لگا وہ زخم ہے جس کا فی الحال کوئی مداوا نہیں۔”

اسلام نے عورت کو عزت، وقار، تحفظ اور احترام کا وہ بلند مقام عطا کیا ہے جو صدیوں تک دنیا کے بیشتر معاشروں کے لیے محض ایک خواب رہا۔ قرآنِ کریم نے عورت کو معاشرے کا معزز ترین فرد قرار دیا، ماں کے قدموں تلے جنت رکھی، بیٹی کو رحمت اور بہن کو محبت و شفقت کی علامت بنایا۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو عورت پر ہونے والے ہر ظلم کو صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ انسانی اقدار، عدل اور انصاف پر حملہ قرار دیتی ہیں۔
طب کا شعبہ انسانیت کی خدمت کا وہ مقدس میدان ہے جہاں انسان دوسرے انسان کے درد کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر وہ ہیں جو اپنی نیند، سکون اور ذاتی زندگی قربان کر کے دوسروں کی زندگیوں میں امید کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ جب کوئی مریض درد سے تڑپ رہا ہو تو یہی سفید کوٹ پہنے ہوئے لوگ اس کے لیے زندگی کی آخری امید بن جاتے ہیں۔ مگر جب انہی مسیحاؤں میں سے کوئی خود ظلم، تشدد اور سفاکیت کا نشانہ بن جائے تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا زخم بن جاتا ہے۔

کوئٹہ میں سرجری کی ماہر ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کا واقعہ اسی نوعیت کا ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے، جس نے پورے ملک کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر، جو مریضوں کی زندگیوں میں امید بانٹ رہی تھیں، اچانک ایک ایسے وحشیانہ حملے کا شکار ہو گئیں جس کا تصور بھی روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ تیزاب صرف جسم کو نہیں جلاتا، یہ خواب، اعتماد، شناخت اور مسکراہٹوں کو بھی جھلسا دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ طب کے مقدس پیشے، خواتین کے تحفظ اور معاشرتی شعور پر ایک سنگین سوال ہے۔
خوش آئند امر یہ ہے کہ طبی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی حالت خطرے سے باہر ہے، ان کی بینائی محفوظ ہے اور ماہر ڈاکٹر ان کے علاج میں مصروف ہیں۔ پوری قوم ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایسے سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں جن سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔
اطلاعات کے مطابق نامزد ملزم چند گھنٹوں کے اندر پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، مگر اس تیزی نے عوامی سطح پر کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ کیا اس واقعے کی مکمل اور شفاف تفتیش ہو سکی؟ کیا اس جرم کے محرکات اور پس منظر تک پہنچنے کا موقع ملا؟ یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ انصاف صرف سزا نہیں بلکہ حقیقت تک رسائی کا نام بھی ہے۔
اسی سانحے کا ایک اور تکلیف دہ پہلو سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برن یونٹ کی عدم دستیابی کے باعث متاثرہ ڈاکٹر کو پہلے نجی ہسپتال اور بعد ازاں کراچی منتقل کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ہمارے صحت کے نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر جیسے حساس کیس کو فوری سہولت میسر نہ ہو تو عام شہری کس حال میں ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کے ضمیر پر پڑنے والا بوجھ ہے۔ جب ظلم اپنی انتہا کو چھونے لگے اور الفاظ درد کی شدت بیان کرنے سے قاصر ہو جائیں تو احساسات لوک شاعری اور بولیوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔
اسی کرب اور احتجاج کو لفظوں کا جامہ پہنانے کے لیے میری یہ پنجابی بولی نذرِ قارئین ہے:

“ناری جا جہنّم سَڑیا
نور تے تیزاب سُٹ کے”

یہ بولی محض دو مصرعے نہیں بلکہ ایک زخمی معاشرے کی سسکی، ایک بے گناہ بیٹی کے درد کی چیخ اور انسانیت کے جھلسے ہوئے ضمیر کا نوحہ ہے۔ یہ صرف ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف احتجاج ہے جو عورت کے وجود، وقار اور شناخت کو نشانہ بناتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تیزاب گردی محض جسمانی تشدد نہیں بلکہ انسانی شناخت کو مٹانے کی ایک سفاک کوشش ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں اسے خواتین کے خلاف بدترین تشدد کی شکل سمجھا گیا ہے، اور مہذب اقوام نے اس کے خلاف سخت قوانین اور عملی اقدامات کو یقینی بنایا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد عالمی سطح پر پاکستان جیسے ممالک کو نہ صرف ہمدردی بلکہ تنقید اور سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کے نظامِ انصاف، قانون کے نفاذ اور سماجی رویّوں پر اٹھتا ہے۔
پاکستان میں اگرچہ تیزاب گردی کے خلاف قوانین موجود ہیں اور سزائیں بھی سخت کی گئی ہیں، مگر اصل مسئلہ ان کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ جب تک ایک عورت، ایک ڈاکٹر یا ایک طالبہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، تب تک قانون اپنی اصل روح کے ساتھ مکمل نہیں ہو سکتا۔
یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ آج ایک باپ اپنی بیٹی، ایک ماں اپنے بیٹے اور ایک پیشہ ور خاتون اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ سانحہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا ہمارے ہسپتال، ادارے اور سیکیورٹی نظام ایسے حساس حالات سے نمٹنے کے لیے واقعی تیار ہیں؟ اگر نہیں تو اصلاح اب محض ضرورت نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہے۔
قوموں کی عظمت صرف عمارتوں، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور، خدمت گزار اور باعزت شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہیں۔ ڈاکٹر، استاد اور اہلِ علم کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔
آج ڈاکٹر ماہ نور صحت یابی کی طرف بڑھ رہی ہیں، یہ خبر امید کی ایک کرن ہے۔ مگر ان کے زخم ہمیں ایک اجتماعی سوال دے گئے ہیں—کیا ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں خدمت کرنے والے خود خوف سے آزاد ہوں؟
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور کو مکمل صحت، عافیت اور حوصلہ عطا فرمائے، اور ہمیں بھی یہ شعور عطا کرے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں نور پر تیزاب نہیں بلکہ نور پر احترام، تحفظ اور محبت ہو۔
کیونکہ قوموں کی اصل پہچان ان کے انسان ہوتے ہیں، نہ کہ ان کے دعوے۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *