ہانس قبیلہ پاکستان کے مرکزی چوہدری عبدالستار ہانس و چوہدری ابرار حسین کے ہمراہ ایک نجی کام سے ملکہ ہانس جانے کا اتفاق ہوا دہائیوں قبل پرانی عمارت میں قائم تھانہ میں ایس ایچ او حاجی ذوالفقار سلوترا سے مختصر سی ملاقات کے بعد ہم ساہیوال پاکپتن روڈ پر اڈا ملکہ ہانس وہاں سے گنجائش آبادی میں داخل ہو کر گذرتے ہوئے ماضی میں متعدد پراسرار داستانوں کے مرکز اور برصغیر کے لازوال تاریخی اور وسیع و عریض قصبہ ملکہ ہانس پہنچے قصبہ کی دو تین مین گذر گاہوں کی حالت دیکھ کر وہاں کے سیاست دان اور ضلعی انتظامیہ بہت یاد آئی سابق چیرمین میاں مظہر ہانس ایڈووکیٹ کے ڈیرے پر پہنچے مجھے اس عظیم قصبہ میں پہلی بار آنے کا اتفاق ہوا تھا یہاں مجموعی طور پر ہانس قبیلہ ہی آباد ہے اس تاریخی قصبہ کی اصل شہرت پیر وارث شاہ کی لازوال لکھی گئی ہیر وارث شاہ اور ہندو قوم کی بہترین نسل پرنامی فرقے کا مندر ہیں صدیوں قبل جب ہانس قبیلہ عرب سے ہندوستان پہنچا تو 1245 میں صوبہ پنجاب کے گاوں پکا سدھار کو اپنا مسکن بنایا اسی 1627میں جہانگیر مغل بادشاہ کے بعد جب شاہ جہاں نے حکومت سنبھالی تو ان تک ہانس قبیلے کی معتبر علمی شخصیت قطب الدین جو کہ طب اور ریاضی سمیت دیگر علوم پر دسترس رکھتے تھے کی بازگشت پہنچی شاہ جہاں نے ان سے متاثر ہو کر انہیں اپنے بیٹوں کا استاد مقرر کر دیا قطب الدین ہانس نے شہزاہ دار شکوہ شہزادہ شجاع محمد اور شہزادہ محی الدین َاورنگ زیب کو فلسفہ منطق اور طب کے علوم سے آراستہ کیا جس سے خوش ہو کر شاہ جہاں نے 1658 میں پروانہ جاری کرتے ہوئے انہیں بطور حاکم تحصیل اجودھن کا شمالی علاقہ سونپ دیا اورنگ زیب نے بھی اپنے استاد قطب الدین کو قطب آباد جیسا گاوں سونپا جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوگیا مگر اس کی باقیات اب بھی ملکہ ہانس کے جنوب میں ہیں اس پورے تعلقہ کا نام قطب الدین پڑ گیا جس میں بکھا ہانس گامی پکا سدھار ٹبہ ہانساں کوٹ حکیم سنگھ موہر سنگھ قطب آباد سلیم کوٹ چک شفیع کلاچیاں جوایا حل اور جوگی ہانس وغیرہ علاقے شامل تھے شیخ قطب الدین کی اولاد میں سے ملک محمد ہانس عرف ملک نے اس علاقے کا نام اپنی قوم و گوت کے نام پر ملکہ ہانس رکھا ہانس قبیلہ کے اس علاقے میں دیگر اقوام کے ساتھ متعدد ٹکراؤ ہوئے میاں مظہر ہانس ایڈووکیٹ و دیگر احباب کے ساتھ گفتگو کے بعد ہم میاں شعیب ہانس کے ہمراہ تنگ گلیوں میں نکل پڑے پورا قصبہ تنگ و تاریخی گلیوں پر مشتمل نظر آیا بل کھاتی اور پر اسرار گلیوں میں سے ہوتے ہوئے ہم پرنامی مندر پہنچے اس مندر کی تاریخ بعض روایات کے مطابق 2 ۔کہیں 5 سے 6 اور کہیں 8 سو سال پرانی ہے جس کے بانی پرنامی ناتھ جی نامی ایک ہندو پروہت تھے جنہیں اکثر پرنامی سمیر رائے بھی کہا جاتا تھا البتہ اس فرقہ کے بانی دیا رام تھے ہندو مت کے اندر یہ اَیک منفرد اور فلسفیانہ فرقہ ہے جو خدا کو ایک مطلب توحید ہر ایمان رکھتا ہے ان کی تعلیمات میں ویشنو مت اسلام و دیگر مذاہب کے درمیان پہلووں کا مرکب ملتا ہے جس میں بھائی چارے محبت روحانی بیداری اور خود شناسی کی تعلیم شامل ہے ان کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں اس فرقہ کے زیادہ پیروکار گجرات راجھستان مدھیہ پردیش اور پاکستان کے صوبہ سندھ میں بھی بہت زیادہ ہیں پرنامی مندر ہندو اور سکھ مذہبی تاریخ میں قریبی تعلق رکھتا ہے مجموعی طور ہر باریک اینٹوں سنگ مر مر اور سرخ پتھر سے بنا یہ پانچ منزلہ عمارت پر مشتمل مندر ہندو فن تعمیر کا شاہکار تھا یہ مندر پرنامی ہندو فرقہ کی مرکزی عبادت گاہ تھی دیوان بابا اور دیا رام کی سمادھی بھی اس کے اندر ہیں بنیادی طور ہر یہ جچھ ہندو قوم کی 3 سو ایکڑ رقبہ پر مشتمل عبادت گاہ تھی قیام پاکستان سے قبل چیت میں یہاں برصغیر کا بہت بڑا ہندو میلہ لگتا تھا مندر کا مرکزی جو بہت بڑا لکڑی کا لکڑی کا دروازہ ہے جس پر عجب نقش و نگار اور کتابت جو دیگر مندروں سے منفرد ہے ان کے ایک مذہبی پیشوا مہاراج گوبند راس نے ملکہ ہانس میں پرنامی ہائی سکول بھی قائم کیا تھا یہاں ہر ہندوں کے متروکہ مکانات زیادہ تر رحمانی برادری کو ملے برصغیر میں کبھی پرنامی مندر شہرت کی بلندیوں پر تھا مگر آج مخدوش ترین حالت میں ہے صرف مندر کی زمین 70 ایکڑ سے زائد تھی جو اب زیادہ سے ایک دو کنال پر مشتمل ہو گی سب کرپشن خود غرضی کے تحت قرب و جواہر میں رہائش گاہوں میں بدل گئی ہم نے دیکھا کہ اب بھی متعدد گھروں کے َسامنے ہندو عبارت میں پتھر کی سلیٹیں لگی ہے جنہیں ہر طرح سے مٹانے کی کوشش کی جا چکی ہے مگر وہ نہیں مٹ سکی اس مندر کی مرکزی عمارت کے نیچے ہمیں ایک بند سرنگ کا حصہ دکھایا گیا جو بند ہے جس کے حوالے سے مشہور ہے کہ یہ َسرنگ براستہ پاکپتن بھومن شاہ تک جاتی ہے ( بھومن شاہ میں بھی ہندو عبادات کی بہت بڑی تعداد تھی) میاں شعیب ہانس نے بتایا کہ َمندر کی عمارت میں قائم دراصل بورڈنگ سکول تھا جہاں سنسکرت زبان میں تعلیم دی جاتی پرنامی مندر کا پروہت اپنے وقت کی اہم ترین شخصیت ہوتا یہ مندر ہندو مت کے مرکزی ناتھ مندر کمیٹی سے بھی منسلک تھا یہ مندر ورثہ سسک سسک کر اپنی شان و شوکت کھوتا چلا گیا اب وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے نہ جانے کیسے سینکڑوں ایکڑ آمدنی کے اس ہندو مندر کی بحالی بارے ہندو وقف اوقاف کو خیال تک نہ آیا یہاں معلوم ہوا کہ ورلڈ بینک کی 16 ارب روپے سے زائد رقم کی خصوصی گرانٹ سے اس کی بحالی کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے لیکن سب کتے مار کام ہو رہا ہے جیسے متعلقہ محکمے کا کوئی والی وارث ہی نہیں پرانی بنیادوں پر ہی نئی دیوار شروع ایسی دیواریں کیسے کامیاب ہو سکتی ہے در حقیقت کرپشن کی گنگا ملکہ ہانس میں موجود اس پرنامی مندر میں گھس چکی ہے سب خانہ پری پرانا پتھر ہی دوبارہ لگانے کا پروگرام ناقص ترین میٹیریل کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں نہ جانے اس محکمہ کے بڑے کہاں گم ہیں یا کرپشن کی بدترین دلدل میں لتھڑے ہیں یہ ایک ایسی ہندو عبادت گاہ ہے جسے منظم طریقے سے بنایا جائے کرپشن کے ناسور سے بچایا جانے جو اس وقت دھڑلے سے جاری ہے ایماندار افسران کے ذریعے اس کی تعمیر مکمل کرائی جائے تو یہ سیاحت کا ایک بہت بڑا بلکہ عالمی مرکز بن سکتا ہے قیام پاکستان کے بعد ہندو وزیر ایچ کے َایل بھگت یہاں آ چکے ہیں ان کا والد یہاں کا سب سے بڑا پروہت تھا راجیو گاندھی نے بھی یہاں کا دورہ کیا تھا میاں شعیب ہانس ہمیں دکھانے کے بعد مسجد یر وارث شاہ میں لے گئے الراقم نے زندگی بھر ایسی مسجد نہیں دیکھی جس کی متعدد ڈاٹ دیواریں کم از 6 فٹ چوڑی عجیب منظر عجیب نظارا عجیب پیش کر رہی تھیں روحانیت کا ایک ایسا شاہکار جو نایاب ترین ہے ہم نیچے جاتی سیڑھیوں کے ذریعے اس مختصر سے حجرے میں بھی گئے جہاں حضرت پیر وارث شاہ نے ہیر رانجھا کی لوک داستان منظوم صورت میں تخلیق کی جو اب ہیر وارث شاہ کے نام سے پنجابی زبان کا عظیم شاہکار اور انسائیکلوپیڈیا ہے اس حجرے کا موسم یوں لگ رہا تھا جیسے اے سی چل رہا ہو مسجد کی پچھلی جانب ایک حصہ میں سابقہ خطیبوں کی دو قبریں ہیں ان میں سے ایک حافظ غلام مرتضیٰ میاں وڈا کی ہے میاں وڈا قصور میں پیر وارث شاہ اور بابا بلھے شاہ کے ہم سبق تھے جو تعلیم مکمل کر کے اسی بادشاہی ( پرانا نام) کے خطیب بن گئے اس زمانے میں اپنی قدامت خوبصورتی اور اہمیت کے لحاظ سے ملکہ ہانس کا شمار بر صغیر کی اہم ترین مقام میں ہوتا تھا ضلعی ہیڈ کوارٹر پاکپتن سے صرف 8 کلومیٹر دور تاریخ کی انمول جگہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تو اس مقام کو ترجیحی بنیادوں پر اپ گریڈ کرنا چاہئے تھا مگر اس قدر تاریخی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر میں بسنے والے لوگوں کے نصیب میں شاید صرف کھڈے ہی ہیں 90 کی دہائی میں ملکہ ہانس کے رقبہ پر بابا فرید ائیر پورٹ منظور ہوا تھا وہ بھی خواب ثابت ہوا اسی شہر میں حضرت مالن شاہ سید مہر علی شاہ اور پیر حاجی دیوان کے مزارات اور مسجد بابا بلھے شاہ ہیں جبکہ اندرون شہر میں سمادھی سکھاں پرنامی مندر شمشان گھاٹ بھی تھے اس پورے قصبے کا مجموعی کاروبار تنگ و تاریک گلیوں میں ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق 12 سو سے زائد دکانیں ہیں جہاں پر ہر قسم کی تجارت ہوتی ہے ان تنگ گلیوں میں اتنے موڑ ہیں کہ ایک اجنبی شخص اپنے راستے کا تعین نہیں کر سکتا ملکہ ہانس کے مین بازار میں ایک اور ہندو قبیلے کا اووم مندر بھی موجود ہے ۔ ہانس قبیلے کی مزید بہت عجب داستان ہیں انہیں یہاں متعدد مزاحمتوں لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا جس کا نہ صرف انہوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ متعدد مرتبہ حملے بھی کئے ڈوگر ان کے حامی تھے دیوان پاکپتن وٹو اور سکھ ان کے مخالف تھے۔ صابر مغل ۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد 0300 6969277 Post navigation تاندلیانوالہ محرومیوں کا قیدی اور امید کی نئی کرن استاد کا وقار ، تدریس، تحقیق اور شخصیت کی ہم آہنگی۔۔۔!