آج سے تقریباً آٹھ سال قبل مجھے عارضۂ قلب لاحق ہوا۔ مختلف طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن کا مشورہ دیا۔ آپریشن سے پہلے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان شاء اللہ آپریشن کے بعد صحت پہلے سے بہتر ہو جائے گی، جسم میں نئی توانائی آئے گی اور آپ خود کو جوانی کی سی تازگی محسوس کریں گے۔ ان امید افزا باتوں نے میرے دل میں بھی کئی خواب جگا دیے۔ انسان فطرتاً صحت، طاقت اور جوانی کی خواہش رکھتا ہے۔ میرے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ اگر دوبارہ بھرپور صحت مل گئی تو شاید نئی زندگی کے کچھ اور خواب بھی پورے کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت انسان کی سوچ سے کہیں بلند ہوتی ہے۔ آپریشن کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو میری اہلیہ نے جس محبت، ایثار، خلوص اور وفاداری کا مظاہرہ کیا، وہ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا سبق بن گیا۔ اس نے دن رات، سردی گرمی، آرام و سکون، حتیٰ کہ اپنی نیند اور اپنی ضروریات تک کی پروا کیے بغیر میری خدمت کی۔ میری دوا، غذا، صفائی، آرام اور ہر ضرورت کا اس محبت سے خیال رکھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیے بغیر نہ رہ سکا۔ جوں جوں میری صحت بہتر ہوتی گئی، دل میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اصل حسن جوانی میں نہیں بلکہ وفاداری میں ہے، اصل دولت حسنِ سیرت ہے، اور اصل خوشی اس شریکِ حیات میں ہے جو آزمائش کے وقت انسان کا سہارا بن جائے۔ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں مجھے اسی وفادار، مخلص، خدمت گزار اور نیک بیوی کا ساتھ عطا فرمائے۔ اسلام نے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کی اجازت ضرور دی ہے، لیکن اس اجازت کے ساتھ عدل و انصاف کی ایسی شرط عائد کی ہے جس سے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی (بیوی پر اکتفا کرو)۔” (سورۃ النساء: 3) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف زیادہ مائل ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔” (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی) یہاں ایک معروف صوفیانہ حکایت بھی قابلِ غور ہے۔ حضرت ابوالحسن خرقانیؒ کے بارے میں روایت ہے کہ لوگوں نے ان سے ان کے بلند روحانی مقام کا راز پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی اہلیہ کی بعض تلخ باتوں پر بھی صبر کیا، کیونکہ جب میرے والدین نے اس کا رشتہ مانگا تھا تو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یہ امانت اپنے گھر لائے تھے۔ مجھے خوف رہتا تھا کہ اگر میں اس امانت کی ناقدری کروں یا اس پر ظلم کروں تو کہیں اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے۔ اگرچہ یہ ایک صوفیانہ حکایت ہے، لیکن اس میں ہمارے لیے یہ سبق ضرور ہے کہ ازدواجی زندگی صبر، وفاداری، درگزر اور حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔ اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک مشہور حکایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی منقول ہے۔ روایت ہے کہ ایک بدو اپنی بیوی کی شکایت لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب وہ آپؓ کے گھر کے قریب پہنچا تو اندر سے حضرت عمرؓ کی اہلیہ کی بلند آواز سنائی دی، جو کسی معاملے پر سخت لہجے میں گفتگو کر رہی تھیں، جبکہ حضرت عمرؓ خاموشی سے سن رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر بدو واپس پلٹنے لگا۔ حضرت عمرؓ باہر تشریف لائے تو اس سے واپس جانے کی وجہ پوچھی۔ اس نے عرض کیا: “امیرالمؤمنین! میں تو اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا، لیکن جب دیکھا کہ آپ کے گھر میں بھی یہی کیفیت ہے تو میں نے سمجھا کہ میری شکایت بے معنی ہے۔” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: “میں اپنی اہلیہ کی بعض باتوں پر اس لیے صبر کرتا ہوں کہ اس کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں۔ وہ میرے بچوں کی ماں ہے، میرے گھر کی نگہبان ہے، میرے لیے کھانا تیار کرتی ہے، میرے کپڑے سنبھالتی ہے اور میرے گھر کے بہت سے معاملات انجام دیتی ہے، حالانکہ ان میں سے بہت سے کام اس پر شرعاً لازم بھی نہیں۔ اس لیے اگر کبھی اس سے کوئی سخت بات ہو جائے تو میں اس کے ان احسانات کو یاد کرکے درگزر کر لیتا ہوں۔” اگرچہ یہ ایک مشہور حکایت ہے، لیکن اس کا پیغام یہی ہے کہ ازدواجی زندگی صرف حقوق لینے کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خدمات، قربانیوں اور احسانات کی قدر کرنے کا نام بھی ہے۔ نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک مقدس امانت ہے۔ والدین اللہ کا واسطہ دے کر اپنی بیٹی کو ایک نئے گھر کے سپرد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کی حفاظت کرنا شوہر کی دینی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔” (سورۃ النساء: 19) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔” (جامع ترمذی) آج کے دور میں دوسری شادی، ناانصافی، گھریلو جھگڑوں اور ناجائز تعلقات کی وجہ سے خاندان بکھر رہے ہیں، حالانکہ اسلام ظلم نہیں بلکہ عدل، محبت اور ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔ میری زندگی کے اس سفر نے مجھے یہ سبق دیا کہ بیماری میں ساتھ دینے والا، تکلیف میں سہارا بننے والا، خوشی اور غم میں وفا نبھانے والا شریکِ حیات اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنا، اس کے حقوق ادا کرنا اور اس کے دل کو ٹھیس نہ پہنچانا ہی حقیقی مردانگی اور اسلامی کردار ہے۔ آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دل کی بھی حفاظت کریں گے اور اس دل سے جڑے ان پاکیزہ رشتوں کی بھی، جو اللہ کے نام پر قائم ہوتے ہیں۔ ان رشتوں کی بنیاد محبت، وفاداری، صبر، ایثار اور عدل پر استوار کریں گے تاکہ ہمارے گھر سکون، رحمت اور برکت کا گہوارہ بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو ایمان سے، اپنے گھروں کو محبت سے، اپنے رشتوں کو وفاداری سے اور اپنے معاملات کو عدل و انصاف سے آراستہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ Post navigation ایل اے 37 جموں 4 نارووال ۔!سیاسی بساط، بدلتے مہرے اصلاح کا فلسفہ یا سزا کا نظام ؟