گوہر ہاشمی

10 مئی 2025ء کو شروع ہونے والا آپریشن“بنیان مرصوص”پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ قومی خودمختاری، جرات اور اجتماعی عزم کا عملی اظہار تھا۔ بھارتی جارحیت کے جواب میں شروع ہونے والا یہ آپریشن دراصل اس پیغام کی تجدید تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کی صلاحیت اور حوصلہ رکھتا ہے۔“بنیان مرصوص”ایک قرآنی اصطلاح ہے، جس کا مطلب ہے“سیسہ پلائی ہوئی دیوار”ایک ایسی مضبوط اور متحد قوت جسے توڑنا ممکن نہ ہو۔ اس نام کا انتخاب بذاتِ خود اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کارروائی محض عسکری حکمتِ عملی نہیں بلکہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت بھی تھی۔ جب قوم اور افواج ایک صف میں کھڑے ہوں تو کوئی بھی طاقت ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتی۔
6 اور 7 مئی 2025ء کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان کے پاس جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔ اس پس منظر میں“معرکہ حق”کے عنوان سے شروع ہونے والی کارروائی نے نہ صرف دشمن کو مؤثر جواب دیا بلکہ دنیا کو یہ باور بھی کرایا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، مگر کمزور ہرگز نہیں۔آپریشن کے دوران مبینہ طور پر دشمن کی اہم فوجی تنصیبات اور ایئر فیلڈز کو نشانہ بنایا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف دفاع بلکہ بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کامیابی کے بعد ملک بھر میں توپوں کی سلامی دی گئی، جو اس بات کی علامت تھی کہ قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں اور کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
اس تمام منظرنامے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا کردار بھی نہایت اہم رہا۔ عسکری کامیابی کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی پاکستان نے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی۔ عالمی برادری کو بروقت آگاہ کرنا، اپنے مؤقف کو مدلل انداز میں پیش کرنا اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششیں کرنایہ سب ایک متوازن اور ذمہ دارنہ خارجہ پالیسی کی نشانیاں ہیں۔پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سنجیدہ خواہش کا اظہار بھی کیا۔ بڑی طاقتوں اور عالمی اداروں کے ساتھ رابطے رکھ کر یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو تصادم کے بجائے استحکام کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیا گیا اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں سفارتی کوششیں معاون ثابت ہوئیں۔
مزید برآں، دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنا اور عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنا بھی اس خارجہ پالیسی کی کامیابی کا حصہ ہے۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں صرف میدانِ جنگ ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔آپریشن“بنیان مرصوص”کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے۔ اول، اس نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوم، اس نے قومی یکجہتی کو فروغ دیا، جہاں ہر طبقہ فکر نے افواجِ پاکستان کے ساتھ یک زبان ہو کر حمایت کا اظہار کیا۔ سوم، اس نے خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کیا اور دشمن کو یہ پیغام دیا کہ جارحیت کا جواب ہمیشہ دیا جائے گا۔اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں عسکری قوت اور سفارتی بصیرت کا حسین امتزاج نظر آیا۔ جہاں ایک طرف دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا، وہیں دوسری جانب خارجہ محاذ پر دانشمندی اور تدبر کا ثبوت دیا گیا۔
تاہم، اس تمام صورتحال میں یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ اگرچہ دفاعِ وطن ہر ریاست کا بنیادی حق ہے، مگر پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششیں، مذاکرات اور باہمی احترام ناگزیر ہیں۔“بنیان مرصوص”نے جہاں دفاعی قوت کا مظاہرہ کیا، وہیں یہ موقع بھی فراہم کیا کہ خطے میں امن کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپریشن“بنیان مرصوص”صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ ایک قومی بیانیہ ہے ایسا بیانیہ جو اتحاد، حوصلے، خودداری اور دانشمندانہ خارجہ پالیسی پر مبنی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم ایک“بنیان مرصوص”بن جائے تو کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی، اور جب اس کے ساتھ مضبوط سفارت کاری بھی شامل ہو تو کامیابی مزید پائیدار بن جاتی ہے۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *