“مار نہیں ، پیار” سے کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ تک “

تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ستون ہے۔ یہ محض کتابوں ، امتحانات اور نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ انسان کی شخصیت ، کردار ، فکر اور شعور کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے ۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام وہی ہوتا ہے جو کمزور کو سہارا دے ، غلطی کرنے والے کو سیکھنے کا موقع دے اور ناکامی کو انجام نہیں بلکہ بہتری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز سمجھے۔ اسی تصور کے تحت دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات نے سزا کے بجائے اصلاح ، خوف کے بجائے اعتماد اور جبر کے بجائے محبت کو ترجیح دی ہے۔

پاکستان میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران تعلیمی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
“مار نہیں، پیار” کا فلسفہ اپنایا گیا ، جسمانی سزا کے خاتمے پر زور دیا گیا، بچوں کو نفسیاتی طور پر محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی اور
“کوئی بچہ فیل نہیں ہوگا” جیسی پالیسیوں کے ذریعے یہ تسلیم کیا گیا کہ ہر بچہ اپنی استعداد ، رفتار اور حالات کے مطابق سیکھتا ہے۔ اس لیے اسے بہتری کے مواقع دینا ہی حقیقی تعلیم کا تقاضا ہے۔
مگر یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ اگر یہی فلسفہ سرکاری سکولوں میں درست سمجھا جاتا ہے تو پھر پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام (PSRP) کے تحت پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے پارٹنرز کے ذریعے چلنے والے سکولوں کے لیے یہی وسعتِ نظر کیوں دکھائی نہیں دیتی؟
ایک طرف طلبہ کو بار بار مواقع دینے کی بات کی جاتی ہے ، جبکہ دوسری طرف انہی بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھانے والے اداروں کو صرف دو مرتبہ کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ (QAT) میں مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے پر معاہدہ منسوخ ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
احتساب ہر نظام کی ضرورت ہے اور معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ، مگر احتساب کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے ، سزا نہیں۔
جب کسی نظام میں اصلاح کے مواقع محدود اور سزائیں زیادہ ہو جائیں تو اس کے اثرات صرف اداروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہزاروں طلبہ ، اساتذہ اور والدین بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پی ایس آر پی کے تحت پیف پارٹنرز کو ایسے سرکاری سکول ملے جو پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار تھے۔ کہیں طلبہ کی تعداد نہایت کم تھی ، کہیں داخلوں کا سلسلہ برسوں سے متاثر تھا ، کہیں عمارتیں خستہ حال تھیں اور کہیں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان تھا۔
ان سکولوں کو فعال ، معیاری اور پُرکشش تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنا کسی ایک امتحان یا ایک تعلیمی سال کا کام نہیں بلکہ مسلسل محنت ، وسائل اور مؤثر حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ طلبہ کی تعلیمی بنیاد کا ہے۔ بیشتر سکولوں میں آنے والے بچے ایسے پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بنیادی خواندگی بھی کمزور ہوتی ہے۔ بہت سے طلبہ اپنی جماعت کے مطابق نہ روانی سے پڑھ سکتے ہیں، نہ درست لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بنیادی ریاضی ، اردو اور انگریزی کی مہارت رکھتے ہیں۔
بعض اوقات تو طلبہ اپنا نام بھی درست انداز میں تحریر نہیں کر پاتے۔ یہ کمزوریاں کسی ایک استاد یا سکول کی پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کے تعلیمی خلا کا نتیجہ ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے وقت، صبر اور مسلسل معاونت درکار ہوتی ہے۔
اس کے باوجود پیف پارٹنرز نے ان سکولوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے قومی امانت کے طور پر قبول کیا۔ محدود وسائل میں داخلوں میں اضافہ کیا، اساتذہ کی پیشہ ورانہ رہنمائی کی ، تدریسی نظم و ضبط بہتر بنایا ، والدین کا اعتماد بحال کیا اور ایسے سکولوں کو دوبارہ فعال کیا جو بند ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے ، بلکہ کئی تو بند ہو چکے تھے ۔
آج بہت سے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی انہی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔
دیہی علاقوں میں قائم ان سکولوں کو ایسے سماجی اور معاشی چیلنجز کا بھی سامنا ہے جنہیں صرف امتحانی نتائج سے نہیں ناپا جا سکتا۔ غربت ، بے روزگاری ، بچوں کی گھریلو اور زرعی مصروفیات ، والدین کی محدود تعلیمی استعداد اور نجی ٹیوشن کی عدم دستیابی جیسے عوامل براہِ راست تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرکے صرف ایک امتحان کی بنیاد پر کسی ادارے کا مستقبل طے کرنا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پیف پارٹنرز معیار میں نرمی یا غیر ضروری رعایت کے طلبگار نہیں۔ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ احتساب کے ساتھ اصلاح ، نگرانی کے ساتھ معاونت اور نتائج کے ساتھ بہتری کے مناسب مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ اگر کسی سکول کی کارکردگی مطلوبہ معیار سے کم ہو تو فوری معاہدہ ختم کرنے کے بجائے اصلاحی ایکشن پلان ، اساتذہ کی تربیت ، مسلسل رہنمائی اور بہتری کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ یہی اصول دنیا کے کامیاب تعلیمی نظاموں کی بنیاد ہے۔
کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ کے طریقہ کار میں بھی چند اصلاحات ناگزیر ہیں۔ امتحانی عمل مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے تاکہ نتائج پر ہر قسم کے شکوک ختم ہوں ، کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح طلبہ کے انتخاب کے موجودہ طریقہ کار پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔
اگر امتحان کے لیے منتخب ہونے والے طلبہ میں سے نصف کا انتخاب سسٹم اور نصف کا انتخاب سکول انتظامیہ کرے تو نتائج زیادہ متوازن ، حقیقت پسندانہ اور قابلِ اعتماد ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح طویل المدتی منصوبہ بندی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر پی ایس آر پی سکول کم از کم بیس سال کے لیے لیز پر پیف پارٹنرز کے سپرد کیے جائیں ، جبکہ ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے ، تو شراکت دار زیادہ اعتماد کے ساتھ عمارتوں ، لیبارٹریوں ، فرنیچر ، کھیل کے میدانوں اور دیگر بنیادی سہولیات پر سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ اس کا براہِ راست فائدہ طلبہ اور مقامی کمیونٹی کو پہنچے گا۔
معیارِ تعلیم ہر صورت بہتر ہونا چاہیے ، کیونکہ یہی قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے۔ لیکن معیار کا حصول صرف سزا سے نہیں بلکہ رہنمائی ، تربیت ، اعتماد اور مسلسل بہتری سے ممکن ہوتا ہے۔
اگر ایک کمزور طالب علم کو سنبھلنے کے کئی مواقع دیے جا سکتے ہیں تو ایسے تعلیمی اداروں کو بھی ، جو انتہائی مشکل حالات میں قوم کے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی جدوجہد کر رہے ہیں ، صرف دو امتحانات کی بنیاد پر ناکام قرار دینا انصاف کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کی کامیابی کو صرف ایک امتحان کے نتائج سے نہ ناپا جائے بلکہ سکول کی مجموعی پیش رفت، ابتدائی حالات ، طلبہ کی تعلیمی بنیاد ، مقامی سماجی و معاشی حقائق اور بہتری کی رفتار کو بھی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے۔ یہی متوازن طرزِ فکر احتساب کو مؤثر ، انصاف کو یقینی اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
کلام مختصر کہ
“مار نہیں، پیار” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تعلیمی فلسفہ ہے۔ اگر یہ فلسفہ بچوں کے لیے درست ہے تو انہی بچوں کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھانے والے تعلیمی اداروں کے لیے بھی اس کی روح برقرار رہنی چاہیے۔
تعلیم میں سزا آخری راستہ ہونی چاہیے ، پہلا نہیں ۔ مضبوط تعلیمی نظام ادارے بند کرنے سے نہیں بلکہ اداروں کو سنبھالنے ، ان کی اصلاح کرنے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے سے تشکیل پاتے ہیں ۔ یہی انصاف کا تقاضا ، قومی مفاد اور پاکستان کے ہر بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *