لاہور میں ’’ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ اینڈ ایکسپو 2026‘‘ کے لوگو کی رونماءی تقریب راشد لطیف خان گروپ کے زیراہتمام میگا ایونٹ 31 اگست تک جاری رہے گا تحریروترتیب پروفیسرشبیر صادق کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار دو بنیادی شعبوں، صحت اور تعلیم، پر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں وہی ممالک پاءیدار ترقی کی منزلیں طے کر رہے ہیں جنہوں نے انسانی وساءل کی بہتری، معیاری تعلیم اور جدید طبی سہولیات کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ پاکستان میں بھی سرکاری اور نجی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے جو ان دونوں اہم شعبوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر قومی ترقی کی راہ ہموار کریں۔ اس تناظر میں راشد لطیف خان گروپ کے زیرِ اہتمام’’ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ اینڈ ایکسپو 2026‘‘ کا انعقاد ایک خوش آءند اور قابلِ ستاءش اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ لاہور میں منعقدہ لوگو رونماءی تقریب نے اس اہم قومی ایونٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ راشد لطیف خان یونیورسٹی کے مرکزی آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی اس پروقار تقریب میں چیءرمین ہاءر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ چیءرمین آر ایل کے گروپ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان اور سی ای او صباحت خان بھی تقریب میں شریک تھے۔ تقریب میں صحت، تعلیم، صنعت و تجارت اور میڈیا سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی موجودگی نے اس بات کی عکاسی کی کہ یہ ایونٹ محض ایک ادارے کا پروگرام نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک اہم فکری اور عملی کاوش ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوءے چیئرمین ہاءر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے صحت اور تعلیم کو معاشرتی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیتے ہوءے کہا کہ ان شعبوں میں مؤثر اشتراک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ اینڈ ایکسپو 2026‘‘ مختلف شعبہ ہاءے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے پیشہ ورانہ تعاون اور پاءیدار ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے خیالات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے پیچیدہ مساءل کا حل اجتماعی دانش اور ادارہ جاتی اشتراک میں پوشیدہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ آر ایل کے گروپ نے ہمیشہ معیاری تعلیم اور جدید طبی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ سمٹ اور ایکسپو انہی مسلسل کاوشوں کا تسلسل ہے جس کا مقصد مختلف شعبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا اور قومی ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی کو فروغ دینا ہے۔ ان کی قیادت میں قاءم اداروں نے گزشتہ برسوں میں صحت اور تعلیم کے میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ نجی شعبہ بھی قومی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سی ای او آر ایل کے گروپ محترمہ صباحت خان نے اپنے خطاب میں پبلک پراءیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور طبی تنظیموں کے درمیان مؤثر تعاون کے ذریعے ملک کو درپیش معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور طبی چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کا یہ نقطہ نظر عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی میں بھی سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان مضبوط اشتراک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تقریب کا ایک نمایاں پہلو اس کی بہترین اور منظم انتظامیہ تھی۔ منتظمین نے نہ صرف تقریب کے انعقاد میں پیشہ ورانہ معیار کا مظاہرہ کیا بلکہ شرکاء کو سمٹ اور ایکسپو کے اغراض و مقاصد، مجوزہ سرگرمیوں اور متوقع نتاءج سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ پروگرام کی ترتیب، مہمانوں کا استقبال، معلوماتی سیشنز اور مجموعی انتظامات اس امر کی غمازی کر رہے تھے کہ راشد لطیف خان گروپ اس ایونٹ کو قومی سطح کی مؤثر اور نتیجہ خیز سرگرمی بنانے کے لیے سنجیدگی سے کوشاں ہے۔ منتظمین کے مطابق 31 اگست تک جاری رہنے والی اس سمٹ اور ایکسپو میں مختلف سیمینارز، پینل ڈسکشنز، ورکشاپس اور خصوصی سیشنز کا انعقاد کیا جاءے گا۔ ان سرگرمیوں میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین، جامعات، طبی ادارے، صنعتکار، محققین، طلبہ اور پالیسی ساز شریک ہوں گے۔ یہ تنوع اس ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے کیونکہ مختلف شعبوں کے ماہرین ایک دوسرے کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کر سکیں گے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں کو درپیش چیلنجز آج پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے ایک سنجیدہ مسءلہ ہیں۔ بڑھتی ہوءی آبادی، جدید طبی ضروریات، تحقیقی سرگرمیوں کی کمی، معیاری تعلیم تک رساءی اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال جیسے موضوعات پر جامع غور و فکر وقت کی ضرورت ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ سمٹ ان موضوعات پر نہ صرف سیر حاصل مکالمے کا موقع فراہم کرے گی بلکہ قابلِ عمل سفارشات بھی سامنے لاءے گی جو مستقبل کی پالیسی سازی میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔اس تقریب میں میڈم زلیخا خان، ڈاکٹر ہارون لطیف، پروفیسر ڈاکٹر سعیدالحسن چشتی، رجسٹرار ایاز قیصر، بریگیڈیئر (ر) عاصم عمران، ڈاکٹر شاہان چیمہ اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت نے بھی پروگرام کو مزید وقعت بخشی۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ایونٹ قومی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے اور مستقبل میں مزید وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایسے پلیٹ فارمز نوجوان نسل کے لیے نءی راہیں متعین کرتے ہیں۔ طلبہ، محققین اور پیشہ ور افراد کو ماہرین سے براہ راست سیکھنے اور جدید رجحانات سے آگاہ ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح اداروں کے درمیان روابط مضبوط ہوتے ہیں اور تحقیق، جدت اور سرمایہ کاری کے نءے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر’’ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ اینڈ ایکسپو 2026‘‘ کا آغاز ایک مثبت اور امید افزا پیش رفت ہے۔ راشد لطیف خان گروپ اور اس کی انتظامیہ نے اس اہم قومی ایونٹ کی منصوبہ بندی اور انعقاد میں جس پیشہ ورانہ مہارت، دور اندیشی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم پر ہونے والی گفتگو اور سفارشات کو عملی اقدامات میں ڈھالا گیا تو یہ سمٹ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری، ادارہ جاتی تعاون کے فروغ اور قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان کو آج ایسے ہی بامقصد اقدامات کی ضرورت ہے جو مختلف شعبوں کے ماہرین، اداروں اور پالیسی سازوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت جمع کریں۔ ’’ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن سمٹ اینڈ ایکسپو 2026‘‘ اسی سمت میں ایک قابل قدر کوشش ہے جس سے مستقبل میں صحت مند، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیادیں مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ Post navigation پاکستان، قطر کی ثالثی سے ایران امریکہ مذاکرات آگے بڑھ گئے ایران-امریکا جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں بحال