انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نگاہ آسمان میں کسی گمشدہ شے کو تلاش کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے عمارتیں بناتا ہے، سمندروں کو چیرتا ہے، پہاڑوں کے سینے میں سرنگیں کھودتا ہے، ستاروں تک رسائی کے خواب دیکھتا ہے، لیکن پھر بھی رات کے کسی پہر اچانک جاگ کر خود سے پوچھتا ہے،
’’میں کون ہوں؟‘‘
یہ سوال اتنا ہی پرانا ہے جتنا انسان خود۔
تہذیبیں بدل گئیں ، زمانے گزر گئے ، علم نے بے شمار منزلیں طے کیں ، مگر انسان کے اندر اٹھنے والا یہ سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ زندہ ہے۔ شاید اسی لیے انسان کی سب سے بڑی جستجو کائنات کو جاننے سے پہلے خود کو جاننا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے کائنات کے بے شمار راز دریافت کر لیے ہیں۔
وہ جانتا ہے کہ سورج زمین سے کتنے فاصلے پر ہے، ستارے کس رفتار سے گردش کرتے ہیں، جسم کے اندر خون کس نظام کے تحت رواں رہتا ہے اور ایک ننھا سا خلیہ کس طرح ایک مکمل انسان کی صورت اختیار کرتا ہے۔ سائنس نے مشاہدے، تجربے اور عقل کی مدد سے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
آج انسان مصنوعی ذہانت تخلیق کر رہا ہے، جینیاتی علوم میں نئی راہیں کھول رہا ہے اور اربوں نوری سال دور کہکشاؤں کی تصاویر حاصل کر رہا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان نے خود کو جان لیا ہے ؟
“شاید نہیں ”
کیونکہ جوں جوں علم بڑھتا ہے، حیرت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ پہلے انسان آسمان کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، اب وہ ایٹم کو دیکھ کر حیران ہے۔ پہلے وہ ستاروں کے راز پوچھتا تھا، اب شعور کے اسرار جاننا چاہتا ہے۔ سائنس اسے بتاتی ہے کہ دل کیسے دھڑکتا ہے، مگر یہ نہیں بتا پاتی کہ کس کے لیے دھڑکتا ہے ۔ وہ دماغ کے خلیات کی سرگرمی ریکارڈ کر لیتی ہے، مگر خواب کی معنویت اور احساس کی گہرائی کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتی۔

ٹچ موبائل ہی کو لے لیجیے۔ اکثریتی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید صرف کالز، آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کے استعمال کا ریکارڈ ہی محفوظ کیا جا سکتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ ہمارے قریب رکھا ہوا موبائل ہماری سرگرمیوں، ترجیحات، نقل و حرکت اور روزمرہ معمولات کا مسلسل ریکارڈ مرتب کرتا رہتا ہے۔ بظاہر یہ ایک خاموش آلہ ہے، مگر درحقیقت معلومات کا ایک متحرک خزانہ ہے۔ انسان کی زندگی کے بے شمار نقوش اس میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں۔
یہ منظر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب انسان کی بنائی ہوئی مشینیں اتنا کچھ محفوظ رکھ سکتی ہیں تو پھر اس کائنات کے خالق کے نظامِ حساب میں کسی عمل، کسی لفظ اور کسی نیت کا محفوظ رہ جانا کیوں ناممکن ہو ؟
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدید سائنسی ایجادات غیر محسوس طور پر انسان کو یومِ حساب کے اس تصور کے قریب لے جا رہی ہیں جس کے مطابق انسان کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک نہ ایک صورت میں محفوظ رہتا ہے۔
یہیں سے انسان کے سامنے ایک اور دروازہ کھلتا ہے۔ وہ دروازہ فلسفے کا ہے۔
فلسفہ انسان سے پوچھتا ہے کہ اگر ہر شے کی ایک علت ہے تو خود علتِ اولیٰ کیا ہے؟
اگر کائنات ایک عظیم نظم کے تحت چل رہی ہے تو اس نظم کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اگر شعور صرف مادّے کی پیداوار ہے تو پھر انسان حق و باطل، خیر و شر اور حسن و قبح کا ادراک کیوں رکھتا ہے؟
فلسفہ جواب کم دیتا ہے اور سوال زیادہ پیدا کرتا ہے ، لیکن یہی سوال انسان کو اپنی ظاہری زندگی سے اٹھا کر باطنی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے آپ سے ملنے لگتا ہے۔
یہیں سے دین کا سفر شروع ہوتا ہے۔
دین انسان کو سوال کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
قرآنِ حکیم بار بار انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کے الٹ پھیر ، بارش کے نزول اور خود اپنی پیدائش میں غور کرنے کی تلقین کرتا ہے۔
گویا کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور انسان اس کا قاری ۔
فرق صرف اتنا ہے کہ سائنس نشانی کو دیکھتی ہے جبکہ دین نشانی کے پیچھے موجود معنی کو تلاش کرتا ہے۔
ایک سائنس دان درخت کو نباتاتی نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ ایک صاحبِ دل اسے قدرت کی ایک نشانی سمجھتا ہے۔ دونوں غلط نہیں، دونوں اپنے اپنے زاویۂ نگاہ سے درست ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایک زاویہ دوسرے کو مکمل طور پر رد کرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان دو جہانوں کا مسافر ہے۔ اس کا جسم مٹی سے بنا ہے اور اس کی روح کسی اور جہان کی امانت ہے۔
جسم قوانینِ فطرت کا پابند ہے، مگر روح آزادی ، محبت ، خوف ، امید اور جستجو کے ایسے تجربات سے گزرتی ہے جنہیں محض پیمانوں اور اعداد و شمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔
شاید اسی لیے انسان کبھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔
اس کے پاس دولت آ جائے تو وہ سکون تلاش کرتا ہے، شہرت مل جائے تو تنہائی محسوس کرتا ہے، طاقت حاصل ہو جائے تو کسی نامعلوم کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ گویا انسان کے اندر ایک ایسی پیاس رکھی گئی ہے جو دنیا کی کسی نہر سے نہیں بجھتی۔
صوفیا نے اسے روح کی پیاس کہا، فلسفیوں نے وجودی سوال کا نام دیا اور ماہرینِ نفسیات نے اسے انسانی شعور کی گہرائیوں سے تعبیر کیا۔ الفاظ بدلتے رہے، مگر حقیقت ایک ہی رہی۔
انسان اپنے اندر کسی گمشدہ شے کی تلاش میں ہے۔
شاید اسی تلاش کا نام ” زندگی ” ہے۔
جب انسان صرف باہر کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے تو مشین بننے لگتا ہے، اور جب صرف اندر کی دنیا میں کھو جاتا ہے تو حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ اصل حکمت ان دونوں کے درمیان پل تعمیر کرنے میں ہے۔ علم اور ایمان، عقل اور دل، مشاہدہ اور ادراک ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔
کائنات کا ہر ذرہ ایک سوال بھی ہے اور ایک جواب بھی۔ ایک بیج سوال ہے کہ اس کے اندر درخت کیسے پوشیدہ ہے، اور درخت جواب ہے کہ قدرت کس طرح خاموشی سے اپنا کام کرتی ہے۔ انسان بھی ایک ایسا ہی معمہ ہے۔ وہ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔
اسی لیے زندگی کی سب سے بڑی دانائی شاید یہ نہیں کہ انسان ہر سوال کا جواب حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سوال کے ساتھ جینا سیکھ لے، کیونکہ بعض سوالات جواب کے لیے نہیں ہوتے، بیداری کے لیے ہوتے ہیں۔
جس دن انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے اور حقیقت اس کی گرفت سے کہیں زیادہ وسیع، اسی دن اس کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اکثر اوقات حقیقت کے دروازے علم سے زیادہ عاجزی پر کھلتے ہیں۔
آخرکار انسان ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ اندر کا سوال کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا اور باہر کا جواب کبھی مکمل طور پر کافی نہیں ہوگا۔ ان دونوں کے درمیان جو خاموش مکالمہ جاری ہے، وہی انسان کی اصل زندگی ہے۔
شاید انسان کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ وہ جوابوں کا نہیں، تلاش کا مسافر ہے۔ وہ جتنا باہر کی دنیا کو دریافت کرتا ہے، اتنا ہی اپنے باطن کی وسعتوں سے آشنا ہوتا جاتا ہے۔ ہر دریافت اسے ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے اور ہر سوال اسے اپنی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔
اور شاید خود شناسی کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوتا ہے۔ جب انسان کائنات کی وسعتوں میں بھٹکنے کے بعد پلٹ کر اپنے اندر جھانکتا ہے، جب وہ علم کی بلندیوں سے اتر کر عاجزی کی زمین پر قدم رکھتا ہے، جب وہ باہر کے شور سے نکل کر اپنے باطن کی آواز سنتا ہے، تب پہلی بار اس کا سامنا اپنے حقیقی وجود سے ہوتا ہے۔
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے ،
“جب انسان خود سے ملتا ہے” ۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *