سیاست کے سینے میں تاریخ کی دھڑکنیں اور مستقبل کی امیدیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ انتخابی موسم جب اپنے قدم جماتا ہے تو محض امیدوار ہی نہیں بلکہ سیاسی روایات، خاندانی اثر و رسوخ، نظریاتی وابستگیاں اور عوامی توقعات بھی میدان میں اتر آتی ہیں۔ برصغیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بعض اوقات ایک فیصلہ، ایک اعلان یا ایک ٹکٹ پورے سیاسی منظرنامے کا رخ بدل دیتا ہے۔ضلع نارووال ہمیشہ سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے جہاں انتخابی معرکے صرف ووٹوں کی جنگ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، حکمتِ عملی، تعلقات اور عوامی اعتماد کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ 2026ء کے انتخابات کے تناظر میں حلقہ ایل اے 37 جموں 4 نارووال ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث و مباحثے کا محور بن چکا ہے، جہاں ہر نءی پیش رفت سیاسی افق پر ایک نءی کہانی رقم کرتی دکھاءی دیتی ہے۔
اب تک کے سیاسی داؤ پیچ کا غیر جانب دارانہ جاءزہ لیا جاءے تو وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے ایم پی اے صاحبزادے احمد اقبال کی سیاسی ناتجربہ کاری اور بعض سیاسی جلد بازیوں کے باوجود اپنی سیاسی بصیرت، حکمتِ عملی اور تدبر کے ذریعے معاملات کو نہایت مہارت سے سنبھالا ہے۔ سیاست میں بعض اوقات تجربہ سے زیادہ دور اندیشی اور اجتماعی حکمت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اور یہاں یہی عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے درجنوں امیدواروں کے درمیان سیاسی ماحول کو خوب گرما کر بالآخر ٹکٹ میاں رشید خاندان کے نام کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ بظاہر ایک معمول کا تنظیمی اقدام دکھاءی دیتا ہے، مگر سیاسی حلقوں میں اسے ایک بڑی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مختلف مبصرین اسے طاقت کے توازن کی نءی ترتیب قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے اسے مقامی سیاسی انجینءرنگ کا تسلسل بھی کہتے ہیں۔ تاہم جمہوری نظام میں ہر راءے کا احترام اپنی جگہ ایک بنیادی اصول ہے۔
میاں محمد رشید کا “ہر حال میں الیکشن لڑیں گے” والا دو ٹوک اور غیر لچکدار موقف انہیں سیاسی منظرنامے میں مسلسل فعال رکھے ہوءے ہے۔ دوسری جانب احسن اقبال کی قیادت میں دیگر امیدواروں کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی بھی ایک منظم سیاسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اختلاف کو مکمل ٹکراؤ میں بدلنے کے بجاءے اسے توازن میں رکھا جا رہا ہے۔اس حلقے کی سیاست کو عمومی طور پر مقامی زبان میں “ریاستی الیکشن” بھی کہا جاتا ہے، اور اس اصطلاح کے پیچھے ایک طویل سیاسی تاریخ پوشیدہ ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہاں انتخابی نتاءج ہمیشہ جماعتی بنیادوں پر طے نہیں ہوتے بلکہ ذاتی تعلقات، برادریوں کے اتحاد اور مقامی اثر و رسوخ زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست محض نعروں کی نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کی سیاست ہے۔
گزشتہ سیاسی منظرنامے میں میاں محمد رشید اپنے امیدوار کو کامیاب کروانے کے باوجود سیاسی طور پر ایک بند گلی کی طرف چلے گءے تھے، اور اب اسی سیاسی راستے کے نءے مسافر موجودہ ایم ایل اے اکمل سرگالہ دکھاءی دیتے ہیں۔بعض سیاسی مبصرین اسے حالات کے بدلتے ہوءے تقاضوں اور سیاسی مکافاتِ عمل کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جہاں ہر قدم کا سیاسی ردعمل دیر یا سویر سامنے آتا ہے۔لہذا یوں محسوس ہوتا ہے کہ احسن اقبال ضلع نارووال میں اپنی سیاسی گرفت مزید مضبوط کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کی حکمتِ عملی میں صرف انتخابی جیت نہیں بلکہ طویل المدتی سیاسی استحکام کا عنصر بھی شامل دکھاءی دیتا ہے۔ توقع تھی کہ مقامی اپوزیشن ، خصوصاً سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری کی قیادت میں کوءی مضبوط اور منظم سیاسی چیلنج سامنے آءے گا، مگر تاحال صورتحال غیر واضح اور منتشر نظر آتی ہے۔
ایل اے 37 جموں 4 نارووال کی سیاست پر ماضی میں تین بڑے سیاسی خاندان نمایاں اثر رکھتے رہے ہیں ۔ میاں محمد رشید خاندان، مرحوم چوہدری محمد حسین سرگالہ خاندان اور چوہدری صدیق بھٹلی خاندان۔
ان خاندانوں کی سیاست محض ذاتی اثر و رسوخ تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے حلقے کی سیاسی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ان سیاسی فتوحات کے پس منظر میں کبھی مرحوم چوہدری انور عزیز کا کردار نمایاں رہا ، کبھی مرحوم محمد حسین سرگالہ سیاسی افق پر چھاءے رہے، کبھی رپو چک ہاؤس کا اثر و رسوخ زیر بحث آیا ، اور کبھی پیر صاحبانِ مراڑا شریف کی حمایت کو فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا۔ یہ تمام عوامل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس حلقے کی سیاست ہمیشہ ایک کثیر الجہتی نظام کے تحت چلتی رہی ہے۔ تاہم نارووال اور احسن اقبال اس کا مرکز کبھی نہیں رہے بلکہ شکرگڑھ ہی اس سیٹ کا مرکز رہ چکا ھے ۔2026ء کے انتخابات اس وقت مزید دلچسپ ہو گءے جب بعض ممکنہ امیدوار میدان سے باہر ہوتے دکھاءی دیے۔ اسی دوران ایک کاروباری حلقے سے تعلق رکھنے والے میاں مشتاق برادران نے ٹکٹ پر اپنا دعویٰ پیش کر دیا، جس نے سیاسی ماحول میں نءی ہلچل پیدا کر دی۔ اس صورتحال نے نہ صرف اندرونی اختلافات کو نمایاں کیا بلکہ انتخابی حکمتِ عملی کو بھی نءے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ احسن اقبال کا یہ مؤقف کہ ٹکٹ کا فیصلہ مکمل مشاورت اور زمینی حقاءق کے مطابق ہوگا، جبکہ دوسری طرف میاں مشتاق برادران اپنے دعوے پر قاءم رہے کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ان کے پاس ہے۔ یہی کشمکش سیاسی فضا کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بناتی رہی اور جہاں ہر فریق اپنی سیاسی سچاءی کا دعویدار ہے۔ہمارے سیاسی ماحول کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ انتخابی نتاءج کو اکثر پہلے سے طے شدہ بیانیوں کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ اگر حکمران جماعت کا امیدوار کامیاب ہو جاءے تو کہا جاتا ہے کہ اسے “جتوایا گیا” ہے، اور اگر مخالف امیدوار ہار جاءے تو کہا جاتا ہے کہ اسے “ہرایا گیا” ہے۔ اس بیانیے کی جنگ میں اکثر اصل سیاسی عوامل، عوامی راءے، زمینی حقاءق اور مقامی اثرات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
جہاں تک حکمران جماعت کے فیصلوں کا تعلق ہے تو بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمینی حقاءق، سیاسی گراف اور تنظیمی توازن کو مدنظر رکھتے ہوءے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہی اصول دوسری جانب بھی اپنایا جاءے تو عادل صدیق بھٹلی ایک مضبوط اور متحرک امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر مقامی سیاسی اتحاد کی صورت میں چوہدری صدیق بھٹلی اپنی تجربہ کاری، مقامی روابط اور قابلِ قبول حیثیت کے باعث ایک متفقہ امیدوار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی بارہ نشستوں کا سیاسی ماحول براہِ راست وفاقی اور صوباءی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومتی پوزیشن اور احسن اقبال کی مضبوط سیاسی گرفت آزاد حیثیت سے آنے والے امیدواروں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے، جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔اسی تناظر میں مختلف “سیاسی کارڈز” ہو استعمال آ سکتے ہیں ، جن میں گوجر اور راجپوت کارڈ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم آج کا ووٹر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور ہو چکا ہے۔
وہ صرف برادری یا روایت نہیں بلکہ کردار، کارکردگی، سیاسی ساکھ اور عوامی رابطے کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہی تبدیلی اس حلقے کی سیاست کو ایک نءے دور میں داخل کر رہی ہے۔مختصراً یہ کہ ایل اے 37 جموں 4 نارووال اس وقت ایک ایسے سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں شخصیات، برادریاں، جماعتیں اور حکمتِ عملیاں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ بظاہر سیاسی بساط پر تمام مہرے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل فیصلہ آنے والا وقت اور عوامی راءے ہی کرے گی۔یہ حقیقت اپنی جگہ قاءم ہے کہ ووٹ اور نوٹ دونوں رکھنے والے امیدوار موجود ہیں، لیکن اقتدار، وساءل اور حکومتی اثر و رسوخ ہمیشہ انتخابی ماحول پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اور آزاد امیدوار عوامی ہمدردی، نظریاتی وابستگی اور مقامی روابط کے سہارے میدان میں اترتے ہیں۔اگر ماضی کے انتخابات کا جاءزہ لیا جاءے تو اس حلقے کے عوام نے بارہا سیاسی اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے اور اپنے فیصلوں سے سب کو حیران کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026ء کے انتخابات بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ بظاہر سیاسی نقشہ واضح ہے، مگر زمینی حقیقتیں اب بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آءیں۔سیاست امکانات کا نام ہے اور امکانات کی دنیا میں حرفِ آخر کبھی نہیں ہوتا۔ آج جو مضبوط ہے وہ کل کمزور ہو سکتا ہے، اور جو آج غیر متعلق سمجھا جا رہا ہے وہ کل سیاسی مرکزِ نگاہ بن سکتا ہے۔فیصلہ آخرکار عوام ہی کریں گے، اور تاریخ ہمیشہ یہی بتاتی ہے کہ سیاست کے شور میں آخری فیصلہ خاموش عوام ہی سناتے ہیں۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *