حکومت کی جانب سے مختلف کاروباری اور خدماتی شعبوں پر 25 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس عائد کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس فہرست میں تعمیرات، خوراک، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دیگر سروس سیکٹرز سے وابستہ کاروبار شامل ہیں۔ فکس ٹیکس کے دائرہ کار میں عمارتوں کی تعمیر، بیکریاں، کنفیکشنری شاپس، ٹریول ایجنسیاں، ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیمی ادارے، ہوٹل سروسز، ریستوران، میرج ہالز، بینکوئٹ ہالز، مارکیز، کیٹرنگ سروسز اور پٹرول پمپس شامل ہیں۔ اسی طرح ڈیپارٹمنٹل سٹورز، جنرل و کریانہ سٹورز، دودھ کی دکانیں، آئس کریم شاپس، نان شاپس، فوڈ پوائنٹس، جوس کارنرز، چائے کے سٹالز، برگر و شوارما پوائنٹس، ڈھابے، گول گپہ سٹالز، فوڈ ٹرکس، آن لائن کچن اور آن لائن فوڈ سروس فراہم کرنے والے کاروبار بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔ تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات پر قائم کینٹینز، جن میں سکول، کالج، یونیورسٹی، ہسپتال، پارکس، ٹرانسپورٹ سٹیشنز، فیکٹریوں اور ہاسٹلز کی کینٹینز و میس شامل ہیں، ان پر بھی 25 ہزار روپے فکس ٹیکس لاگو ہوگا۔ علاوہ ازیں دودھ اور گوشت کی ترسیل سے وابستہ مختلف گاڑیاں، رکشے، پک اپس، ٹرک، ٹینکرز اور موٹر سائیکلیں بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ فکس ٹیکس کے نفاذ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا، جبکہ حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو باقاعدہ دستاویزی نظام میں لانا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔ Post navigation جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر 9 ملزمان گرفتار