<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>کالم &#8211; ZNN</title>
	<atom:link href="https://www.znn.com.pk/category/%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.znn.com.pk</link>
	<description>leading news agency in Pakistan</description>
	<lastBuildDate>Mon, 24 Aug 2026 12:10:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1</generator>
	<item>
		<title>خصوصی بچے بوجھ یا قوم کا سرمایہ</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%a8%d9%88%d8%ac%da%be-%db%8c%d8%a7-%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%a8%d9%88%d8%ac%da%be-%db%8c%d8%a7-%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Aug 2026 22:47:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[خصوصی بچے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1958</guid>

					<description><![CDATA[<p>کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں،...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%a8%d9%88%d8%ac%da%be-%db%8c%d8%a7-%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81/">خصوصی بچے بوجھ یا قوم کا سرمایہ</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-904" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/WhatsApp-Image-2026-04-10-at-11.54.16-AM-300x188.jpeg" alt="" width="300" height="188" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/WhatsApp-Image-2026-04-10-at-11.54.16-AM-300x188.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/WhatsApp-Image-2026-04-10-at-11.54.16-AM.jpeg 456w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، کشادہ سڑکوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ وہاں کمزور، محروم اور خصوصی افراد کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ خصوصی بچے معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری اور انسانی سرمایہ ہیں۔ اگر انہیں مناسب تعلیم، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ خودمختار، باصلاحیت اور باوقار شہری بن کر ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔<br />
خصوصی بچوں سے مراد وہ بچے ہیں جو ذہنی، جسمانی یا نشوونما سے متعلق کسی ایسی کیفیت کا سامنا کرتے ہیں جس کے باعث انہیں عام بچوں کی نسبت تعلیم، ابلاغ، نقل و حرکت یا روزمرہ زندگی میں اضافی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان میں جسمانی معذوری رکھنے والے، بصارت یا سماعت سے محروم، قوتِ گویائی سے محروم اور ذہنی یا نشوونما سے متعلق خصوصی ضروریات رکھنے والے بچے شامل ہیں۔ ان کی ضرورت محض ہمدردی نہیں بلکہ عزت، قبولیت، تعلیم اور برابر مواقع ہیں۔<br />
بدقسمتی سے بعض خاندانوں میں خصوصی بچوں کو بوجھ سمجھ کر گھروں تک محدود کردیا جاتا ہے۔ یہ رویہ بچے کی صلاحیتوں کو دبا دیتا ہے اور اس کے اندر احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معذوری انسان کی پوری شخصیت نہیں ہوتی۔ ایک صلاحیت میں کمی کے باوجود انسان میں کئی دوسری صلاحیتیں موجود ہوسکتی ہیں، جنہیں مناسب تربیت سے اجاگر کیا جاسکتا ہے۔<br />
دنیا کی تاریخ ایسے لوگوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے جسمانی رکاوٹوں کو اپنی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔ ہیلن کیلر نابینا اور بہری تھیں، لیکن تعلیم حاصل کرکے وہ مصنفہ، مقررہ اور سماجی کارکن بنیں اور دنیا بھر میں معذور افراد کے حقوق کی علامت بن گئیں۔ اسی طرح معروف برطانوی سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ شدید جسمانی معذوری کے باوجود جدید طبیعیات کے عظیم ترین سائنس دانوں میں شمار ہوئے۔ ان دونوں مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی کمزوری صلاحیت، ذہانت اور عزم کو ختم نہیں کرتی؛ مناسب مواقع ملیں تو انسان اپنی محدودیتوں سے آگے بڑھ سکتا ہے۔<br />
اسلام نے بھی انسان کی عزت کو اس کی جسمانی طاقت یا ظاہری حیثیت سے مشروط نہیں کیا۔ قرآن کریم سورۂ عبس میں حضرت عبداللہ ابن اُمِّ مکتومؓ، جو نابینا صحابی تھے، کے واقعے کے ذریعے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ جسمانی معذوری انسان کی قدر و منزلت کم نہیں کرتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی عزت و تکریم فرمائی اور انہیں معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع دیے۔<br />
حضرت عبداللہ ابن اُمِّ مکتومؓ ہی کی مثال ہمارے لیے نہایت روشن ہے۔ سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے انہیں، نابینا ہونے کے باوجود، لوگوں کی امامت کے لیے اپنا نائب مقرر فرمایا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ معذوری کسی انسان کو معاشرے کے لیے غیر مفید نہیں بناتی۔ اصل چیز اس کی صلاحیت کو پہچاننا اور اسے مناسب ذمہ داری دینا ہے۔<br />
خصوصی بچوں کے والدین کی ذمہ داری سب سے اہم ہے۔ انہیں بچے کو چھپانے یا اس کی معذوری پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس کی صلاحیت پہچاننی چاہیے۔ محبت، حوصلہ، تعلیم اور تربیت بچے کا حق ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ ماہرینِ تعلیم، ڈاکٹرز، تھراپسٹ اور خصوصی تعلیم کے اداروں سے بروقت رابطہ کریں اور بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیں۔<br />
حکومت کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم ہے۔ خصوصی بچوں کے لیے تعلیمی مراکز کی تعداد اور معیار میں اضافہ، تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی، معاون آلات، تھراپی، فنی تعلیم اور روزگار کے مواقع حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونے چاہئیں۔ اسکولوں، سرکاری دفاتر، سڑکوں اور عوامی مقامات کو بھی خصوصی افراد کے لیے قابلِ رسائی بنانا ضروری ہے۔<br />
خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں حکومت کے سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت مختلف اضلاع اور علاقوں میں خصوصی تعلیم کے مراکز قائم ہیں، جہاں بچوں کو مفت تعلیم و تربیت کی سہولیات تعلیم، کتابیں، یونیفارم، بیگ اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ بعض پروگراموں میں مالی معاونت یا ماہانہ وظیفے کی سہولت بھی موجود ہے۔ پاکستان بیت المال کے زیرانتظام بھی خصوصی افراد کے لیے مختلف تعلیمی اور بحالی کی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔<br />
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے خصوصی بچوں کو گھروں میں محدود رکھنے کے بجائے سرکاری سپیشل ایجوکیشن سنٹرز اور پاکستان بیت المال کے متعلقہ اداروں میں داخل کروائیں۔ تعلیم کے ساتھ اگر بچے کو کوئی مناسب ہنر بھی سکھا دیا جائے تو وہ مستقبل میں اپنے اخراجات پورے کرنے اور باعزت روزگار حاصل کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔<br />
ہمیں خصوصی بچوں کے بارے میں اپنی اجتماعی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔ مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے سہارے زندگی گزاریں، بلکہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق تعلیم حاصل کریں، ہنر سیکھیں، روزگار کے قابل بنیں، اپنے فیصلے خود کرسکیں اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاریں۔ کوئی بچہ کمپیوٹر، مصوری، دستکاری، تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروبار یا کسی اور شعبے میں غیر معمولی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔<br />
والدین، حکومت، اساتذہ، مخیر حضرات، میڈیا، مذہبی رہنما اور معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خصوصی بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے، ان کے لیے فنی تربیت اور روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں اور انہیں معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے۔<br />
خصوصی بچوں کو ترس نہیں، تربیت؛ خیرات نہیں، مواقع؛ تنہائی نہیں، شمولیت؛ اور احساسِ کمتری نہیں، عزتِ نفس چاہیے۔<br />
آئیے عہد کریں کہ کسی بچے کو اس کی معذوری کی وجہ سے پیچھے نہیں چھوڑیں گے۔ والدین اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے مراکز تک پہنچائیں، حکومت سہولیات کو مزید مؤثر بنائے اور معاشرہ انہیں عزت و برابری کا حق دے۔<br />
خصوصی بچے معاشرے کا بوجھ نہیں، ہمارا قیمتی انسانی سرمایہ ہیں۔ انہیں تعلیم، ہنر اور مواقع دے کر ہم صرف ایک بچے کا مستقبل نہیں سنوارتے بلکہ پاکستان کے مستقبل کو مضبوط بناتے ہیں۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%a8%d9%88%d8%ac%da%be-%db%8c%d8%a7-%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81/">خصوصی بچے بوجھ یا قوم کا سرمایہ</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%d8%ae%d8%b5%d9%88%d8%b5%db%8c-%d8%a8%da%86%db%92-%d8%a8%d9%88%d8%ac%da%be-%db%8c%d8%a7-%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گوگل پاکستان: ایک دفتر، کئی امکانات !</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%8c-%da%a9%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%8c-%da%a9%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Aug 2026 22:42:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل پاکستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1954</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; تاریخ کے سفر میں بعض واقعات بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر وقت گزرنے...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%8c-%da%a9%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/">گوگل پاکستان: ایک دفتر، کئی امکانات !</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>تاریخ کے سفر میں بعض واقعات بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ کسی قوم کی زندگی میں سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ کسی عالمی ادارے کا کسی ملک میں دفتر قائم کرنا بھی بظاہر ایک کاروباری فیصلہ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ ادارہ گوگل ہو تو معاملہ محض ایک عمارت، چند کمروں اور چند میزوں تک محدود نہیں رہتا۔ یہ دراصل علم، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تعلیم، کاروبار اور انسانی صلاحیتوں کے ایک نئے عہد کی دستک بن جاتا ہے۔</p>
<p>18 اگست 2026ء کو اسلام آباد میں گوگل کے پہلے مقامی پاکستانی دفتر کا باضابطہ افتتاح بھی ایسا ہی ایک اہم واقعہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے نائب صدر ولسن ایل وائٹ کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے بعد دفتر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر گوگل نے پاکستانی طلبہ کے لیے ایک سال کی مفت جیمنائی سبسکرپشن کا اعلان بھی کیا، جبکہ پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا مرکز بنانے کے حکومتی وژن کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔<br />
مگر اس واقعے کی حقیقی معنویت سمجھنے کے لیے ہمیں گوگل کے دفتر سے کہیں آگے، اس کمپنی کی پوری داستانِ ارتقا پر نظر ڈالنا ہوگی۔</p>
<p>گوگل کی کہانی 1990ء کی دہائی کے وسط میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے دو نوجوان کمپیوٹر سائنس کے طالب علموں، لیری پیج اور سرگے برن، سے شروع ہوتی ہے۔ دونوں نے انٹرنیٹ پر موجود بے شمار ویب صفحات کے درمیان تعلق اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے ایک تحقیقی منصوبے پر کام شروع کیا۔ اس منصوبے کا ابتدائی نام ’’بیک رب‘‘ تھا، جس نے آگے چل کر ویب صفحات کی اہمیت جانچنے والے ایک نئے تصور کو جنم دیا۔</p>
<p>1998ء میں گوگل باضابطہ طور پر ایک کمپنی کے طور پر سامنے آیا۔ ابتدا محدود وسائل، چھوٹی ٹیم اور بڑے خوابوں سے ہوئی، مگر اس خواب کی بنیاد ایک غیر معمولی خیال پر تھی: دنیا کی معلومات کو منظم کرنا اور اسے ہر انسان کے لیے قابلِ رسائی بنانا۔<br />
یہی سادہ مگر انقلابی تصور گوگل کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ اس نے صرف ایک سرچ انجن نہیں بنایا بلکہ انسان اور معلومات کے درمیان فاصلے کو کم کر دیا۔ چند الفاظ لکھیں اور دنیا بھر میں پھیلی معلومات آپ کی اسکرین پر حاضر!<br />
یہی وہ مقام تھا جہاں سے گوگل کا سفر ایک کمپنی سے بڑھ کر ایک عالمی ڈیجیٹل قوت بننے کی طرف شروع ہوا۔<br />
گوگل کا ابتدائی تعارف سرچ انجن کے طور پر ہوا، لیکن وقت کے ساتھ اس نے اپنی خدمات کا دائرہ حیرت انگیز طور پر وسیع کر لیا۔ جی میل نے خط و کتابت کے انداز کو بدل دیا، گوگل میپس نے دنیا کو اسکرین پر سمیٹ دیا، اینڈرائیڈ نے اسمارٹ فون کو عام انسان کی جیب تک پہنچایا، یوٹیوب نے ویڈیو کو عالمی اظہار کا ذریعہ بنایا، گوگل ڈرائیو اور گوگل ڈاکس نے دفتری و تعلیمی کام کو بادلوں تک پہنچایا، جبکہ گوگل کلاؤڈ نے کاروباری اداروں کو جدید کمپیوٹنگ کی طاقت فراہم کی۔</p>
<p>اب گوگل مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی دنیا کی اہم کمپنیوں میں شامل ہے۔ جیمنائی جیسے مصنوعی ذہانت کے اوزار اس بات کی علامت ہیں کہ گوگل کا سفر صرف معلومات تلاش کرنے سے آگے بڑھ کر معلومات کو سمجھنے، ترتیب دینے اور انسانی کام میں معاونت فراہم کرنے تک پہنچ چکا ہے۔ یوں گوگل کی داستان کو ایک جملے میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: سرچ سے خدمات، خدمات سے کلاؤڈ، کلاؤڈ سے مصنوعی ذہانت اور مصنوعی ذہانت سے ایک نئے ڈیجیٹل انسانی تجربے تک۔</p>
<p>پاکستان ایک نوجوان آبادی والا ملک ہے۔ یہاں لاکھوں بچے اور نوجوان ہر سال تعلیمی اداروں میں داخل ہوتے ہیں اور ہزاروں نوجوان آئی ٹی، آزاد پیشہ ورانہ خدمات، سافٹ ویئر سازی، ڈیجیٹل تشہیر اور آن لائن کاروبار کی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ایسے ملک میں گوگل جیسے عالمی ٹیکنالوجی ادارے کی مستقل مقامی موجودگی صرف ایک کاروباری پیش رفت نہیں بلکہ انسانی سرمائے کی ترقی کا بھی اہم موقع ہے۔</p>
<p>گوگل کے مطابق پاکستان میں اس کی سرگرمیاں گزشتہ ایک دہائی سے جاری ہیں اور کمپنی نے مختلف تربیتی پروگراموں کے ذریعے 10 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی مہارتوں میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس سفر میں ڈیجیٹل مہارتوں، مصنوعی ذہانت، پروگرام سازی، نئے کاروباری اداروں، ڈیجیٹل خواندگی اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔ یہ اعداد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد کا دفتر کسی اچانک شروع ہونے والے سفر کا آغاز نہیں، بلکہ پاکستان اور گوگل کے درمیان ایک طویل شراکت داری کا اگلا مرحلہ ہے۔<br />
آج کا پاکستانی طالب علم دنیا کے علمی وسائل تک اس طرح رسائی حاصل کر سکتا ہے جس کا تصور چند دہائیاں پہلے مشکل تھا۔ گوگل سرچ سے تحقیقی معلومات، گوگل اسکالر سے علمی مواد، یوٹیوب سے تعلیمی لیکچرز، گوگل ڈرائیو سے دستاویزات اور جیمنائی جیسے مصنوعی ذہانت کے اوزاروں سے تحقیق، ذہن سازی، خلاصہ اور تعلیمی معاونت حاصل کی جا سکتی ہے۔<br />
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے: مصنوعی ذہانت استاد کا متبادل نہیں، بلکہ استاد اور طالب علم کی صلاحیت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ اگر طالب علم جیمنائی سے جواب حاصل کرکے اسے بغیر سمجھے نقل کر دے تو ٹیکنالوجی اس کی ذہانت میں اضافہ نہیں کرے گی۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب وہ مصنوعی ذہانت سے سوال کرنا، جواب کو پرکھنا، مختلف ذرائع سے تصدیق کرنا اور اپنی فکری صلاحیت استعمال کرنا سیکھے۔ پاکستانی طلبہ کے لیے ایک سال کی مفت جیمنائی رسائی کا اعلان اسی لیے اہم ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اب مزید نوجوانوں تک پہنچ سکتی ہے۔<br />
گوگل سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسی مہنگی ڈگری یا بڑے دفتر کی ضرورت نہیں۔ ایک طالب علم گوگل سرچ کے ذریعے اپنی تعلیم بہتر بنا سکتا ہے۔ کوئی استاد آن لائن تعلیمی مواد تیار کر سکتا ہے۔ کوئی دکاندار اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل دنیا میں متعارف کرا سکتا ہے۔ کوئی آزاد پیشہ ور عالمی صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔ کوئی نوجوان ڈیجیٹل تشہیر، پروگرام سازی، سائبر سکیورٹی یا اعداد و شمار کے تجزیے جیسی مہارتیں سیکھ سکتا ہے۔<br />
گوگل ترجمہ زبان کی رکاوٹ کم کرتا ہے، گوگل میپس سفر اور مقامات کے بارے میں رہنمائی دیتا ہے، جی میل پیشہ ورانہ رابطے کا ذریعہ بنتا ہے، گوگل ڈرائیو فائلوں کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور یوٹیوب دنیا کے مختلف شعبوں کے تعلیمی مواد کا وسیع ذخیرہ ہے۔ یعنی گوگل کا اصل فائدہ صرف یہ نہیں کہ ہم اس سے معلومات تلاش کریں ۔<br />
اصل فائدہ یہ ہے کہ ہم اس کے ذریعے اپنی صلاحیت دنیا تک پہنچائیں۔<br />
پاکستان میں آزاد پیشہ ورانہ کام پہلے ہی ہزاروں نوجوانوں کے لیے آمدنی کا ذریعہ بن چکا ہے، لیکن مستقبل کی معیشت اس سے کہیں آگے جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، اعداد و شمار کا تجزیہ، سافٹ ویئر سازی، ڈیجیٹل تشہیر اور مصنوعی ذہانت سے معاونت یافتہ کاروبار جیسے شعبے روزگار کی نئی راہیں پیدا کر رہے ہیں۔ اگر تربیتی پروگراموں کو تعلیمی اداروں، حکومت اور نجی شعبے کے ساتھ منظم انداز میں جوڑ دیا جائے تو یہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور پاکستان کے لیے قیمتی زرمبادلہ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔<br />
پاکستان کی ڈیجیٹل کہانی کا ایک اہم باب ہری پور میں بھی لکھا جا رہا ہے، جہاں کروم بکس کی مقامی اسمبلی کے منصوبے کو تعلیم، روزگار اور مستقبل میں ہارڈویئر کی برآمدات کے امکانات سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب صرف سافٹ ویئر سے نہیں آتا۔ اس کے لیے آلات، انٹرنیٹ، بجلی، تربیت، مہارت اور قابلِ رسائی ٹیکنالوجی سب ضروری ہیں۔<br />
گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر عالمی سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کا اظہار کیا ہے، جبکہ گوگل کی جانب سے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل میں مزید تعاون کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔<br />
یہ ہدف یقیناً بڑا ہے ، مگر بڑے خواب ہمیشہ بڑے اہداف سے ہی شروع ہوتے ہیں۔<br />
اصل چیلنج یہ ہے کہ پاکستان ان خوابوں کو تعلیم، پالیسی، ہنرمندی، تحقیق، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی منڈی سے مضبوط رابطے کے ذریعے حقیقت میں تبدیل کرے۔</p>
<p>گوگل کا دفتر اسلام آباد میں کھل گیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟<br />
صرف دفتر کھلنے سے ڈیجیٹل انقلاب نہیں آتا۔ اس کے لیے تعلیمی نظام کو جدید بنانا ہوگا، نوجوانوں کو عملی مہارتیں دینا ہوں گی، انٹرنیٹ کی رسائی بہتر بنانا ہوگی، تحقیق اور اختراع کو فروغ دینا ہوگا اور دیہی و پسماندہ علاقوں کے بچوں کو بھی وہی مواقع دینا ہوں گے جو بڑے شہروں کے نوجوانوں کو حاصل ہیں۔</p>
<p>اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اسلام آباد کے ساتھ نارووال، شکرگڑھ، ظفروال ، تھرپارکر، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کا طالب علم بھی عالمی ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنا سکے۔<br />
کیونکہ ڈیجیٹل ترقی کا اصل معیار یہ نہیں کہ بڑے شہروں میں کتنے ٹیکنالوجی دفاتر قائم ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ دور دراز علاقوں کا نوجوان ان امکانات سے کتنا فائدہ اٹھا سکا۔<br />
دو نوجوانوں کے ایک خیال سے شروع ہونے والا سفر آج دنیا کی بااثر ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والے گوگل تک پہنچ چکا ہے۔ اور اب 2026ء میں اسی گوگل نے اسلام آباد میں اپنا پہلا باقاعدہ پاکستانی دفتر کھول دیا ہے۔<br />
یہ محض ایک دفتر کا افتتاح نہیں ، یہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک دعوتِ عمل ہے۔ علم کو ہنر میں بدلنے کی دعوت، ہنر کو روزگار میں تبدیل کرنے کی دعوت، روزگار کو خوش حالی اور ٹیکنالوجی کو قومی ترقی میں ڈھالنے کی دعوت۔<br />
ایک دفتر، مگر امکانات<br />
بے شمار۔<br />
ایک طالب علم کے لیے علم کا امکان، ایک استاد کے لیے تدریس کا امکان، ایک نوجوان کے لیے ہنر اور روزگار کا امکان، ایک کاروباری شخص کے لیے عالمی منڈی تک رسائی کا امکان اور پاکستان کے لیے ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت کا امکان۔<br />
دنیا ڈیجیٹل دور کی اگلی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سفر شروع ہوگا یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ پاکستان اس سفر میں صرف مسافر ہوگا یا منزل بنانے والوں میں شامل ہوگا؟<br />
اسلام آباد میں گوگل کا دفتر شاید اسی سوال کا ایک امید افزا جواب ہے۔ اور شاید یہ نئی صبح ہمیں یہی پیغام دے رہی ہے کہ آنے والے زمانے میں وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو علم کو طاقت، ٹیکنالوجی کو وسیلہ، ہنر کو سرمایہ اور نوجوانوں کو اپنا سب سے بڑا اثاثہ سمجھیں گی۔<br />
گوگل پاکستان میں صرف ایک دفتر نہیں کھول رہا؛ اس نے امکانات کی ایک کھڑکی کھولی ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس کھڑکی سے آنے والی روشنی کو صرف دیکھتے ہیں یا اسے اپنے تعلیمی اداروں، اپنے نوجوانوں، اپنی معیشت اور اپنے مستقبل کو روشن کرنے کے لیے استعمال بھی کرتے ہیں۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%8c-%da%a9%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/">گوگل پاکستان: ایک دفتر، کئی امکانات !</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/08/21/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1%d8%8c-%da%a9%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/08/18/%d9%88%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%d8%9f/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/08/18/%d9%88%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 18 Aug 2026 23:17:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[بیٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1942</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; &#8220;عورت کے بغیر کائنات شاید ایک بے روح لاش ہو۔&#8221; عورت صرف ایک فرد...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/18/%d9%88%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%d8%9f/">وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>&#8220;عورت کے بغیر کائنات شاید ایک بے روح لاش ہو۔&#8221;</p>
<p>عورت صرف ایک فرد نہیں، ایک کیفیت ہے۔ وہ ماں بنے تو دعا ، بہن بنے تو سایہ، بیٹی بنے تو گھر کی رونق، بیوی بنے تو زندگی کی رفیق ، اور بہو بن کر کسی گھر میں داخل ہو تو اپنے ساتھ صرف سامان نہیں لاتی ، بلکہ وہ اپنے ماں باپ کی تربیت ، خواب ، خواہشیں اور ایک نئی زندگی کی امید بھی ساتھ لاتی ہے۔<br />
مگر سوال یہ ہے کہ جس عورت کو ہم اپنی بیٹی کی صورت میں کائنات کہتے ہیں ، وہی کسی دوسرے گھر کی بہو بن کر اکثر امتحان کیوں بن جاتی ہے۔۔۔؟<br />
یہ سوال صرف عورت کا نہیں، ہماری تربیت، اخلاق اور اجتماعی ضمیر کا سوال ہے۔<br />
بیٹی پیدا ہوتی ہے تو ہم اسے لاڈلی، شہزادی اور آنکھوں کا تارا کہتے ہیں۔ پھر وہی بیٹی کسی گھر کی بہو بنتی ہے تو ہماری زبان بدل جاتی ہے۔ جو کل تک کسی کی پوری کائنات تھی ، آج صرف بہو کیوں رہ جاتی ہے؟<br />
ہم بھول جاتے ہیں کہ رشتے بدلنے سے انسان نہیں بدلتا۔<br />
جس بیٹی کو ہم نے دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا، وہ کسی دوسرے گھر جا کر کسی کی بہو ضرور بنی ہے ، مگر کسی کی بیٹی ہونا اس کے وجود سے ختم نہیں ہوا۔ وہ آج بھی کسی ماں کی دعا، کسی باپ کی عزت، کسی بھائی کی بہن، کسی بچے کی ماں اور سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان ہے۔</p>
<p>وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟<br />
شاید یہی ایک سوال ہمارے گھروں کی بہت سی بند کھڑکیاں کھول سکتا ہے۔<br />
بیٹا بڑا ہوتا ہے ، شادی کرتا ہے اور اس کی زندگی میں ایک نئی عورت داخل ہوتی ہے۔ ماں کے لیے یہ خوشی کا موقع بھی ہے اور محبت کا ایک نیا امتحان بھی۔ بیٹے کی محبت تقسیم نہیں ہوتی، اس کی صورت بدلتی ہے۔ مگر ہم اکثر اس تبدیلی کو محبت کی کمی سمجھ لیتے ہیں۔<br />
ماں سوچتی ہے: &#8220;میرا بیٹا پہلے میرا تھا، اب کسی اور کا کیوں ہو گیا؟&#8221;<br />
حالانکہ بیٹا پہلے بھی اس کا تھا اور آج بھی اس کا ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔<br />
بیٹے کی زندگی میں بیوی کا آنا ماں کے مقام کی نفی نہیں۔ محبت اگر سچی ہو تو تقسیم نہیں ہوتی ، پھیلتی ہے۔<br />
مگر جب بہو کو حریف سمجھ لیا جائے تو گھر میں صرف دو عورتیں نہیں لڑتیں ، دو نسلیں ٹکرا جاتی ہیں۔ اور نسلوں کی لڑائی میں دیواریں خاموش رہتی ہیں، مگر بچے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔</p>
<p>بہو خاموش رہے تو اچھی، بولے تو بدتمیز؛ کام کرے تو فرض ، آرام کرے تو سست ، سسرال کا خیال رکھے تو ذمہ دار ، اپنے والدین کا خیال رکھے تو خود غرض۔<br />
شوہر کے ساتھ خوش رہے تو کہا جاتا ہے:<br />
&#8220;بیٹے کو قابو کر لیا ہے&#8221;،<br />
اور شوہر سے شکوہ کرے تو: &#8220;گھر توڑ رہی ہے۔&#8221;</p>
<p>آخر بہو کرے تو کیا کرے۔۔۔۔؟<br />
شاید مسئلہ بہو کا نہیں، ہماری توقعات کا ہے۔<br />
ہم بہو سے بیٹی جیسی محبت چاہتے ہیں ، مگر بیٹی جیسے حقوق نہیں دیتے ۔ چاہتے ہیں کہ وہ گھر کو اپنا سمجھے ، مگر اسے یہ احساس دینے میں ناکام رہتے ہیں کہ یہ گھر واقعی اس کا بھی ہے۔<br />
رشتے حکم سے نہیں ، احساس سے بنتے ہیں۔<br />
ہماری ایک عجیب عادت ہے کہ بیٹے کی اولاد ہماری جان ہوتی ہے، مگر اس اولاد کی ماں اکثر ہماری نظروں میں اجنبی رہتی ہے۔ پوتا گھر کا شہزادہ ہے تو اسے جنم دینے والی عورت بری کیسے ہوگئی؟<br />
جس ماں نے نو ماہ بچے کو اپنے وجود میں پالا، وہ خاندان کے لیے اجنبی کیوں ہے ؟</p>
<p>پوتی اگر جگر کا ٹکڑا ہے تو اس کی ماں بھی کسی کے جگر کا ٹکڑا ہے۔<br />
یہ بات یاد رکھنے سے زیادہ سمجھنے کی ہے۔<br />
طلاق ایک لفظ ہے ، مگر اس کے اندر کئی زندگیوں کے بکھرنے کی آواز ہوتی ہے۔ ایک عورت کا خواب ، ایک مرد کی امید، والدین کا اطمینان اور بچوں کے دل میں &#8220;گھر&#8221; کے معنی بدل جاتے ہیں۔<br />
طلاق ہمیشہ ظلم کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ کبھی دو انسان واقعی ایک دوسرے کے لیے موزوں نہیں ہوتے اور علیحدگی بہتر راستہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب رشتہ انا، خاندانی دباؤ، غیر ضروری مداخلت، ساس بہو کے تنازع یا مردانہ ضد کی نذر ہو جائے تو سوال صرف میاں بیوی سے نہیں ، پورے خاندان سے بنتا ہے۔<br />
کیا ہم نے دونوں طرف کی بات سنی ؟<br />
کیا ہم نے بہو کو انسان سمجھا ؟<br />
کیا ہم نے بیٹے کو سمجھایا کہ بیوی کا احترام بھی مردانگی ہے ؟<br />
کیا ہم نے ماں کو بتایا کہ بیٹے کی شادی اس سے محبت کی شکست نہیں؟<br />
ہر ٹوٹا ہوا گھر کسی ایک فرد کے جرم کی داستان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات دو مختلف مزاج، توقعات اور ذہن ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی کے گھر کی شکست کو ایک ہی کردار کے سر ڈال دینا انصاف نہیں۔</p>
<p>ادب ہمیں الزام لگانا نہیں، سمجھنا سکھاتا ہے۔<br />
ساس بہو کا مسئلہ ہو اور شوہر خاموش ہو تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ شوہر کو ماں اور بیوی کے درمیان جج نہیں بننا چاہیے، مگر تماشائی بھی نہیں بننا چاہیے۔<br />
ماں کا احترام ضروری ہے اور بیوی کا حق بھی۔ دونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا مرد کی ذمہ داری نہیں ، دونوں کے درمیان انصاف قائم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔<br />
ماں کو یہ نہیں کہنا چاہیے &#8220;میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا گیا۔&#8221;<br />
بیوی کو یہ نہیں کہنا چاہیے: &#8220;آپ اپنی ماں سے تعلق ختم کر دیں۔&#8221;<br />
اور شوہر کو یہ نہیں کہنا چاہیے:<br />
&#8220;آپ دونوں خود دیکھ لیں۔&#8221;</p>
<p>کیونکہ کبھی کبھی خاموشی غیر جانب داری نہیں ہوتی ، ناانصافی کا دوسرا نام ہوتی ہے۔<br />
انصاف کسی ایک کا ساتھ دینا نہیں، حق کا ساتھ دینا ہے۔<br />
ہم دین سے اپنے حقوق نکال لیتے ہیں اور دوسروں کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ ماں کی اطاعت یاد رہتی ہے، مگر بیوی کے احترام کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بیٹی کو رحمت کہتے ہیں، مگر بہو کو آزمائش بنا دیتے ہیں۔<br />
مسئلہ دین میں کم اور ہماری خواہشات میں زیادہ ہے۔<br />
ہر ساس کبھی بہو تھی، اور ہر بہو ایک دن ساس بن سکتی ہے۔ زندگی ایک چکر ہے۔ جو آج ہم کرتے ہیں، کل ہماری اولاد اسے روایت سمجھ کر آگے بڑھاتی ہے۔<br />
اگر آپ نے بہو کو عزت دی تو آپ نے اپنے بیٹے کی تربیت کی۔ اگر آپ نے اسے ذلیل کیا تو آپ نے اپنے پوتے پوتیوں کے لیے ایک غلط مثال چھوڑی۔<br />
اچھی ماں وہ نہیں جو بیٹے کو اپنے پاس باندھ کر رکھے؛ اچھی ماں وہ ہے جو بیٹے کو اتنا انسان بنا دے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بھی انصاف کر سکے۔<br />
اچھا شوہر وہ نہیں جو ہر بات پر بیوی کی طرف داری کرے؛ اچھا شوہر وہ ہے جو حق کی طرف داری کرے۔<br />
اور اچھی بہو وہ نہیں جو اپنی ذات مٹا دے؛ اچھی بہو وہ ہے جو محبت، احترام اور حدود کے ساتھ گھر کا حصہ بنے۔<br />
جب ہم اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہیں تو کہتے ہیں: &#8220;بیٹی، خوش رہنا۔&#8221;<br />
کبھی اپنی بہو کو بھی دیکھ کر دل میں یہی دعا کر کے دیکھیں۔ وہ بھی کسی گھر سے دعائیں لے کر آئی ہے۔ اس کی ماں نے بھی اسے رخصت کرتے ہوئے یہی کہا ہوگا:<br />
&#8220;بیٹی، اپنا گھر بسا کر رکھنا۔&#8221;<br />
اس نے یہ نہیں کہا ہوگا: &#8220;جا، کسی کے گھر کی دشمن بننا۔&#8221;<br />
وہ بھی محبت چاہتی ہے، عزت چاہتی ہے، کبھی تھک جاتی ہے، کبھی بیمار ہوتی ہے، اپنے ماں باپ کو یاد کرتی ہے اور اپنے شوہر سے دو لفظ محبت کے چاہتی ہے۔<br />
اور سب سے بڑھ کر، وہ بھی انسان ہے۔<br />
رشتوں کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہم انسان کو اس کے رشتے سے دیکھتے ہیں، اس کے وجود سے نہیں۔ بیٹی میں محبت نظر آتی ہے، بہو میں توقع۔<br />
بیٹی کی غلطی کو بچپنا کہتے ہیں، بہو کی اسی غلطی کو تربیت کی کمی۔<br />
رشتے بدلتے ہی ہماری نظر بدل جاتی ہے۔<br />
طلاق کا گراف صرف قانون سے نہیں گرے گا۔ یہ تب گرے گا جب گھروں میں انا کا گراف نیچے آئے گا؛ جب ساس کو یاد رہے گا کہ وہ بھی کبھی بہو تھی، جب شوہر کو یاد رہے گا کہ انصاف مردانگی ہے، اور جب بہو یہ سمجھے گی کہ سسرال جیتنے کی جگہ نہیں، رشتہ نبھانے کی جگہ ہے۔<br />
رشتے ملکیت نہیں ہوتے، امانت ہوتے ہیں۔<br />
کسی کی بیٹی کو آنسو دینا آسان ہے، مگر یہ یاد رکھنا مشکل کہ وہ آنسو کبھی ہماری اپنی بیٹی کی آنکھوں میں بھی آ سکتے ہیں۔<br />
شاید دنیا میں سب سے بڑا انصاف یہی ہے کہ انسان دوسروں کی بیٹی میں اپنی بیٹی دیکھ لے۔<br />
پھر ساس کو بہو نظر نہیں آئے گی، ایک انسان نظر آئے گا۔ شوہر کو صرف بیوی نہیں، ایک انسان نظر آئے گا۔ اور جہاں انسان نظر آ جائے، وہاں رشتہ بچنے کی امید بھی پیدا ہو جاتی ہے۔<br />
کیونکہ آخرکار سوال صرف یہ نہیں کہ وہ بہو ہے۔۔۔<br />
اصل سوال یہ ہے: وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/18/%d9%88%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%d8%9f/">وہ بھی کسی کی بیٹی ہے۔۔۔؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/08/18/%d9%88%db%81-%d8%a8%da%be%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%db%81%db%92%db%94%db%94%db%94%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>۔11اگست 1947ء قائد اعظم کا عہدِ مساوات</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/08/10/11-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-1947%d8%a1-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d9%88%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/08/10/11-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-1947%d8%a1-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d9%88%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 10 Aug 2026 10:40:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1856</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; تاریخ کے اوراق میں بعض دن صرف تاریخ نہیں رہتے ، بلکہ اپنے اندر...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/10/11-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-1947%d8%a1-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d9%88%d8%a7%d8%aa/">۔11اگست 1947ء قائد اعظم کا عہدِ مساوات</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>&nbsp;</p>
<p>تاریخ کے اوراق میں بعض دن صرف تاریخ نہیں رہتے ، بلکہ اپنے اندر آنے والی نسلوں کے لیے ایک مکمل پیغام ، ایک عہد اور ایک سمت محفوظ کر لیتے ہیں۔<br />
11 اگست 1947ء بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی ایک دن ہے ۔<br />
ایک ایسا دن جب پاکستان ابھی دنیا کے نقشے پر باقاعدہ طور پر طلوع بھی نہیں ہوا تھا ، مگر اس کی ریاستی روح ، آئینی سمت اور شہری تصور کے خدوخال نمایاں ہونا شروع ہو گئے تھے۔</p>
<p>قیامِ پاکستان سے صرف تین روز قبل کراچی میں نئی مملکت کی پہلی دستور ساز اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔ اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 اگست کو سندھ اسمبلی کی عمارت میں منعقد ہوا ، جبکہ اگلے روز ، 11 اگست 1947ء کو ایک ایسا تاریخی مرحلہ آیا جس نے پاکستان کے ابتدائی سیاسی سفر کو ایک واضح سمت عطا کی۔ برصغیر کی ایک طویل سیاسی کشمکش اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی ، مگر نئی ریاست کے سامنے ایک بالکل نئی دنیا کی تعمیر کا چیلنج کھڑا تھا۔</p>
<p>اس روز قائداعظم محمد علی جناح کو متفقہ طور پر پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ یوں وہ شخص جس نے ایک طویل اور کٹھن سیاسی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن حاصل کیا تھا ، اب اسی نئی ریاست کے پہلے قانون ساز ادارے کی سربراہی بھی سنبھال رہا تھا۔ یہ محض ایک منصب کا حصول نہیں تھا ، یہ اس سیاسی جدوجہد کے ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا، جس میں تحریکِ آزادی کو ریاست سازی میں تبدیل ہونا تھا۔</p>
<p>لیکن 11 اگست کی اصل عظمت صرف قائداعظم کے انتخاب تک محدود نہیں تھی ۔ اسی روز انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے اپنا تاریخی صدارتی خطاب کیا ، جو پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ کی اہم ترین تقاریر میں شمار ہوتا ہے۔ قائداعظم نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا جس میں شہری کی شناخت اس کے مذہب ، ذات یا عقیدے سے نہیں ، بلکہ اس کی شہریت سے متعین ہوئی ۔<br />
ان کے نزدیک ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو مساوی حقوق ، تحفظ اور انصاف فراہم کرے۔<br />
یہ پیغام ایسے وقت میں دیا گیا جب برصغیر شدید فرقہ وارانہ کشیدگی ، خونریزی ، ہجرت اور سیاسی بے یقینی کی لپیٹ میں تھا۔ لاکھوں انسان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور تھے ، بستیاں اجڑ رہی تھیں اور نئی ریاست کو بیک وقت انتظامی ، معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا تھا۔ ایسے میں قائداعظم نے نفرت اور انتقام کے بجائے قانون ، شہری برابری ، باہمی تعاون اور ریاستی ذمہ داری کو مستقبل کا راستہ قرار دیا۔</p>
<p>قائداعظم کے خطاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ماضی کے باہمی اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی اجتماعی زندگی کی طرف بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ نئی ریاست میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہونی چاہیے اور ریاستی معاملات میں کسی فرد کے ساتھ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔<br />
یہ تصور محض ایک تقریری جملہ نہیں تھا ، بلکہ ایک نئی مملکت کے لیے بنیادی ریاستی وژن تھا۔<br />
قائداعظم ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو ، شہریوں کے بنیادی حقوق محفوظ ہوں اور ریاستی ادارے عوام کی خدمت اور فلاح کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 11 اگست کا تاریخی پیغام محض ماضی کا حوالہ نہیں رہتا ، بلکہ آج کے پاکستان کے لیے بھی ایک سوال بن جاتا ہے۔<br />
کہ کیا ہم نے اس عہد کو اپنی قومی زندگی میں پوری طرح سمجھا اور نبھایا ہے؟</p>
<p>11 اگست کا ایک اور تاریخی پہلو پاکستان کے قومی پرچم کی باضابطہ منظوری تھا۔ سبز و سفید پرچم بعد ازاں پاکستان کی قومی شناخت اور آزادی کی علامت بن گیا۔ اس کے سبز حصے کو مسلم اکثریت ، جبکہ سفید حصے کو غیر مسلم شہریوں کی نمائندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یوں قومی پرچم بھی نئی ریاست کے اجتماعی تشخص اور مختلف برادریوں کی شمولیت کی علامت بن گیا۔</p>
<p>اس تاریخی منظرنامے میں جوگیندر ناتھ منڈل کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ 10 اگست کو دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں انہوں نے عارضی طور پر اجلاس کی صدارت کی۔ ایک غیر مسلم رہنما کا نئی ریاست کے اولین پارلیمانی اجلاس کی صدارت کرنا اس دور کے سیاسی ماحول میں ایک قابلِ توجہ علامتی واقعہ تھا۔ بعد ازاں وہ پاکستان کی پہلی کابینہ میں وزیرِ قانون بھی مقرر ہوئے۔<br />
یہ واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی ریاستی تشکیل محض ایک انتظامی عمل نہیں تھی ، اس میں مختلف طبقات کو نئی قومی زندگی میں شریک کرنے کا تصور بھی موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 11 اگست کے خطاب کو سمجھنے کے لیے اسے صرف چند جملوں کی تقریر کے طور پر نہیں ، بلکہ قیامِ پاکستان کے وسیع تر تاریخی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔</p>
<p>11 اگست کے بعد دستور ساز اسمبلی نے شہریوں کے بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے معاملات پر بھی توجہ مرکوز کی۔ بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی گئی۔ یہ پیش رفت اس امر کی عکاس تھی کہ نئی ریاست کے ابتدائی آئینی سفر میں شہری آزادیوں اور اقلیتی حقوق کو اہمیت حاصل تھی۔</p>
<p>اس وقت پاکستان کے سامنے مسائل کی ایک طویل فہرست تھی۔ مہاجرین کی آبادکاری ، امن و امان کا قیام ، سرکاری اداروں کی تشکیل ، مالی وسائل کی کمی ، انتظامی ڈھانچے کی تعمیر اور مستقبل کے آئین کی تیاری جیسے بڑے چیلنجز نئی ریاست کے منتظر تھے۔ ایسے حالات میں ایک ایسی قومی شناخت تشکیل دینا بھی ضروری تھا جو مختلف زبانوں، علاقوں، برادریوں اور مذہبی گروہوں کو ایک مشترکہ ریاستی تصور میں جوڑ سکے۔</p>
<p>11 اگست کا پیغام اسی وسیع تر قومی تعمیر کا حصہ تھا۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف کرے اور شہری بھی ریاست کے قانون اور اجتماعی مفاد کا احترام کریں۔ آزادی کے بعد اصل امتحان یہی تھا کہ سیاسی آزادی کو ایک منظم ، عادلانہ اور ذمہ دار ریاست میں کیسے تبدیل کیا جائے۔<br />
وقت کے ساتھ 11 اگست کی تاریخی معنویت مزید نمایاں ہوتی گئی۔<br />
حکومتِ پاکستان نے 2009ء میں 11 اگست کو قومی یومِ اقلیت کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ، تاکہ پاکستان کی تعمیر میں اقلیتی برادریوں کے کردار کو تسلیم کیا جا سکے اور قائداعظم کے 11 اگست کے خطاب میں بیان کیے گئے مساوی شہریت کے تصور کو اجاگر کیا جا سکے۔</p>
<p>آج جب ہم 11 اگست 1947ء کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں صرف ایک تاریخی تقریر ، ایک اسمبلی اجلاس یا ایک قومی پرچم کی منظوری یاد نہیں کرنی چاہیے ، ہمیں اس دن کے ریاستی فلسفے کو بھی سمجھنا چاہیے۔ قائداعظم کا پیغام دراصل یہ تھا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ قانون ، انصاف ، شہری مساوات اور اجتماعی فلاح پر قائم ہونے والی ریاست ہونا چاہیے۔</p>
<p>11 اگست ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی صرف سرحد حاصل کرنے کا نام نہیں۔ آزادی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ ریاست اپنے ہر شہری کو عزت، تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرے۔ اکثریت اور اقلیت کی تقسیم سے بلند ہو کر ہر فرد کو ریاست کا برابر کا شہری سمجھا جائے۔</p>
<p>قومیں اپنے ماضی کو صرف یاد نہیں کرتیں ، وہ اس سے اپنے حال اور مستقبل کے لیے رہنمائی بھی حاصل کرتی ہیں۔ اسی لیے 11 اگست 1947ء کو یاد کرنا دراصل اپنے ریاستی سفر کے بنیادی سوالات کو دوبارہ سامنے لانا ہے ۔<br />
ہم کس قسم کی ریاست چاہتے ہیں؟<br />
ہمارے ہاں شہری کی قدر کس بنیاد پر ہوگی؟<br />
قانون کی نظر میں سب برابر ہوں گے یا نہیں؟<br />
اور کیا ریاست اپنے ہر شہری کو اس کا جائز حق ، تحفظ اور عزت فراہم کر سکے گی؟</p>
<p>11 اگست 1947ء اسی لیے پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس میں ایک نئی ریاست نے اپنی آزادی کا جشن منانے سے پہلے ہی اپنے شہریوں کے حقوق ، قانون کی بالادستی اور مساوی شہریت کا خواب دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا۔</p>
<p>اور شاید یہی اس دن کا سب سے بڑا پیغام ہے کہ ریاستیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں ، وہ اپنے شہریوں کے حقوق ، انصاف کے اصول اور اجتماعی عہد سے مضبوط ہوتی ہیں۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/08/10/11-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-1947%d8%a1-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d9%88%d8%a7%d8%aa/">۔11اگست 1947ء قائد اعظم کا عہدِ مساوات</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/08/10/11-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-1947%d8%a1-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af-%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d9%88%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>محفوظ چھت، محفوظ مستقبل</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/07/17/%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%da%86%da%be%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/07/17/%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%da%86%da%be%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 17 Jul 2026 11:28:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[محفوظ چھت، محفوظ مستقبل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1690</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/07/17/%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%da%86%da%be%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/">محفوظ چھت، محفوظ مستقبل</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<p>کسی بھی معاشرے کی اصل ترقی کا اندازہ صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید شاہراہوں یا بڑے ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ایک محفوظ گھر ہر انسان کا بنیادی حق ہے، کیونکہ گھر صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی امیدوں، خوابوں، سکون اور تحفظ کا مرکز ہوتا ہے۔ جب یہی چھت کمزور ہو جاءے یا حادثے کا سبب بننے لگے تو اس کے اثرات صرف ایک عمارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان زندگی بھر کے دکھ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔<br />
چند روز قبل کاہنہ میں پیش آنے والا افسوسناک سانحہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی تھا۔ زیر تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ایسا المیہ ہے جس نے پورے پنجاب کو غمزدہ کر دیا۔ ایسے سانحات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ صرف افسوس اور تعزیت پر اکتفا نہ کیا جاءے بلکہ مستقبل میں ان کی روک تھام کے لیے عملی اور پاءیدار اقدامات کیے جاءیں۔ اسی تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے ’’اپنی چھت، محفوظ چھت‘‘ پروگرام کا اجرا ایک اہم عوامی فلاحی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا بنیادی مقصد کمزور اور خستہ حال گھروں کو محفوظ بنانا اور کم آمدن والے خاندانوں کو مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔<br />
یہ پروگرام اپنی نوعیت کے اعتبار سے صرف ایک قرضہ اسکیم نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ سے جڑا ہوا منصوبہ ہے۔ حکومت پنجاب نے پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرض کی فراہمی کا اعلان کیا ہے تاکہ شہری اپنی کمزور چھتوں، دیواروں اور دیگر خطرناک حصوں کی مرمت یا مضبوطی کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے خاندان جہاں ایک ہی گھر میں کءی گھرانے رہاءش پذیر ہیں، ان کے لیے اضافی کمروں یا دوسری منزل کی تعمیر کے لیے دس لاکھ روپے تک بلاسود قرض کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قرض کی ماہانہ اقساط کو عام آدمی کی استطاعت کے مطابق رکھا گیا ہے، تاکہ محدود آمدن رکھنے والے افراد بھی آسانی سے اس سہولت سے فاءدہ اٹھا سکیں۔<br />
حکومت نے صرف مالی معاونت تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ درخواست دینے کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا ہے۔ آن لاءن پورٹل، ڈپٹی کمشنر دفاتر، اسسٹنٹ کمشنر دفاتر، پھاٹا کے مراکز اور ہیلپ لاءن کے ذریعے شہریوں کو متعدد ذراءع فراہم کیے گءے ہیں۔ سرکاری منصوبوں میں پیچیدہ کاغذی کاررواءی اکثر عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے، لیکن اگر قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر سادہ طریقہ کار کے ذریعے قرض فراہم کیا جاتا ہے تو یقیناً اس سے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد فاءدہ اٹھا سکیں گے۔<br />
اس منصوبے کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ حکومت نے پراسیسنگ فیس اور دیگر سرکاری واجبات خود ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ فلاحی منصوبوں کا اصل مقصد ضرورت مند افراد تک سہولت پہنچانا ہونا چاہیے، نہ کہ اضافی اخراجات کے ذریعے ان کے لیے نءی رکاوٹیں پیدا کرنا۔ اسی طرح قرض کے اجرا کے بعد تین ماہ کا گریس پیریڈ بھی عام شہری کو مالی دباؤ سے بچانے کی ایک مثبت مثال ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہر سال بارشوں، آندھیوں، موسمی شدت اور غیر معیاری تعمیرات کے باعث متعدد حادثات پیش آتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں کچی چھتیں جبکہ شہری علاقوں میں خستہ حال عمارتیں انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوءی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشوں اور غیر معمولی موسمی حالات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر محفوظ تعمیرات اب صرف ترقیاتی مسءلہ نہیں بلکہ انسانی تحفظ کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں اگر حکومت کمزور گھروں کی مضبوطی کے لیے بلاسود قرض فراہم کرتی ہے تو یہ قدرتی آفات سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کو کم کرنے کی جانب ایک بروقت اور قابلِ توجہ قدم ہے۔<br />
یہ امر بھی خوش آءند ہے کہ’’اپنی چھت، محفوظ چھت‘‘ کسی الگ منصوبے کے طور پر نہیں بلکہ حکومت پنجاب کی ہاؤسنگ حکمت عملی کے تسلسل کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘اور’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘جیسے منصوبوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کو رہاءش کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی گءی۔ اب ان منصوبوں کے ساتھ محفوظ رہاءش کا تصور شامل کر کے حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ صرف گھر بنانا کافی نہیں بلکہ اس گھر کو محفوظ بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔اس منصوبے کے معاشی اثرات بھی قابل ذکر ہو سکتے ہیں۔ جب ہزاروں خاندان اپنے گھروں کی مرمت، توسیع یا مضبوطی کریں گے تو تعمیراتی صنعت، سیمنٹ، سریا، اینٹوں، بجری، لکڑی اور دیگر تعمیراتی سامان سے وابستہ کاروبار میں سرگرمی بڑھے گی۔ مستری، مزدور، انجینءر، ٹیکنیشن اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے روزگار کے نءے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ یوں ایک فلاحی منصوبہ سماجی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔<br />
تاہم ہر سرکاری پروگرام کی طرح اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار بھی اس کے مؤثر اور شفاف نفاذ پر ہوگا۔ ضروری ہے کہ قرضوں کی تقسیم میں مکمل شفافیت، مستحق افراد کی درست جانچ، تعمیراتی معیار کی نگرانی اور فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنایا جاءے۔ اگر نگرانی کا مضبوط نظام قاءم کیا گیا تو نہ صرف وساءل کا درست استعمال ممکن ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید مستحکم ہوگا۔آج کے دور میں اچھی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ ریاست عوام کی فوری ضرورتوں کو سمجھے اور ان کا بروقت حل پیش کرے۔ محفوظ رہاءش انہی بنیادی ضرورتوں میں شامل ہے۔ اگر ایک خاندان کو مضبوط چھت میسر آ جاءے تو وہ صرف بارش، آندھی یا گرمی سے ہی محفوظ نہیں ہوتا بلکہ اسے ذہنی سکون اور بہتر مستقبل کی امید بھی ملتی ہے۔<br />
’’اپنی چھت، محفوظ چھت‘‘پروگرام اسی سوچ کا مظہر ہے کہ ترقی صرف نءے منصوبوں کے افتتاح سے نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری لانے سے آتی ہے۔ اگر اس پروگرام پر اس کی اصل روح کے مطابق شفافیت، دیانت داری اور رفتار کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کو محفوظ رہاءش فراہم کرے گا بلکہ پنجاب میں عوامی خدمت، سماجی تحفظ اور فلاحی طرز حکمرانی کی ایک مضبوط مثال بھی قاءم کرے گا۔ یہی وہ سمت ہے جس میں ریاست، معاشرہ اور عوام ایک محفوظ، باوقار اور خوشحال مستقبل کی جانب مشترکہ سفر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/07/17/%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%da%86%da%be%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/">محفوظ چھت، محفوظ مستقبل</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/07/17/%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%da%86%da%be%d8%aa%d8%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اصلاح کا فلسفہ یا سزا کا نظام ؟</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d8%9f/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 15 Jul 2026 10:04:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[اصلاح کا فلسفہ یا سزا کا نظام ؟]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1679</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#8220;مار نہیں ، پیار&#8221; سے کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ تک &#8220; تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d8%9f/">اصلاح کا فلسفہ یا سزا کا نظام ؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">&#8220;مار نہیں ، پیار&#8221; سے کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ تک &#8220;</p>
<p style="text-align: right;">تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ستون ہے۔ یہ محض کتابوں ، امتحانات اور نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ انسان کی شخصیت ، کردار ، فکر اور شعور کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے ۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام وہی ہوتا ہے جو کمزور کو سہارا دے ، غلطی کرنے والے کو سیکھنے کا موقع دے اور ناکامی کو انجام نہیں بلکہ بہتری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز سمجھے۔ اسی تصور کے تحت دنیا بھر میں تعلیمی اصلاحات نے سزا کے بجائے اصلاح ، خوف کے بجائے اعتماد اور جبر کے بجائے محبت کو ترجیح دی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">پاکستان میں بھی گزشتہ برسوں کے دوران تعلیمی پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔<br />
&#8220;مار نہیں، پیار&#8221; کا فلسفہ اپنایا گیا ، جسمانی سزا کے خاتمے پر زور دیا گیا، بچوں کو نفسیاتی طور پر محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی گئی اور<br />
&#8220;کوئی بچہ فیل نہیں ہوگا&#8221; جیسی پالیسیوں کے ذریعے یہ تسلیم کیا گیا کہ ہر بچہ اپنی استعداد ، رفتار اور حالات کے مطابق سیکھتا ہے۔ اس لیے اسے بہتری کے مواقع دینا ہی حقیقی تعلیم کا تقاضا ہے۔<br />
مگر یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔ اگر یہی فلسفہ سرکاری سکولوں میں درست سمجھا جاتا ہے تو پھر پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام (PSRP) کے تحت پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے پارٹنرز کے ذریعے چلنے والے سکولوں کے لیے یہی وسعتِ نظر کیوں دکھائی نہیں دیتی؟<br />
ایک طرف طلبہ کو بار بار مواقع دینے کی بات کی جاتی ہے ، جبکہ دوسری طرف انہی بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری اٹھانے والے اداروں کو صرف دو مرتبہ کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ (QAT) میں مطلوبہ معیار حاصل نہ کرنے پر معاہدہ منسوخ ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔<br />
احتساب ہر نظام کی ضرورت ہے اور معیار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے ، مگر احتساب کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے ، سزا نہیں۔<br />
جب کسی نظام میں اصلاح کے مواقع محدود اور سزائیں زیادہ ہو جائیں تو اس کے اثرات صرف اداروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہزاروں طلبہ ، اساتذہ اور والدین بھی غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔<br />
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پی ایس آر پی کے تحت پیف پارٹنرز کو ایسے سرکاری سکول ملے جو پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار تھے۔ کہیں طلبہ کی تعداد نہایت کم تھی ، کہیں داخلوں کا سلسلہ برسوں سے متاثر تھا ، کہیں عمارتیں خستہ حال تھیں اور کہیں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان تھا۔<br />
ان سکولوں کو فعال ، معیاری اور پُرکشش تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنا کسی ایک امتحان یا ایک تعلیمی سال کا کام نہیں بلکہ مسلسل محنت ، وسائل اور مؤثر حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے۔<br />
اس سے بھی بڑا مسئلہ طلبہ کی تعلیمی بنیاد کا ہے۔ بیشتر سکولوں میں آنے والے بچے ایسے پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بنیادی خواندگی بھی کمزور ہوتی ہے۔ بہت سے طلبہ اپنی جماعت کے مطابق نہ روانی سے پڑھ سکتے ہیں، نہ درست لکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بنیادی ریاضی ، اردو اور انگریزی کی مہارت رکھتے ہیں۔<br />
بعض اوقات تو طلبہ اپنا نام بھی درست انداز میں تحریر نہیں کر پاتے۔ یہ کمزوریاں کسی ایک استاد یا سکول کی پیدا کردہ نہیں بلکہ برسوں کے تعلیمی خلا کا نتیجہ ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے وقت، صبر اور مسلسل معاونت درکار ہوتی ہے۔<br />
اس کے باوجود پیف پارٹنرز نے ان سکولوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے قومی امانت کے طور پر قبول کیا۔ محدود وسائل میں داخلوں میں اضافہ کیا، اساتذہ کی پیشہ ورانہ رہنمائی کی ، تدریسی نظم و ضبط بہتر بنایا ، والدین کا اعتماد بحال کیا اور ایسے سکولوں کو دوبارہ فعال کیا جو بند ہونے کے قریب پہنچ چکے تھے ، بلکہ کئی تو بند ہو چکے تھے ۔<br />
آج بہت سے علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی انہی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔<br />
دیہی علاقوں میں قائم ان سکولوں کو ایسے سماجی اور معاشی چیلنجز کا بھی سامنا ہے جنہیں صرف امتحانی نتائج سے نہیں ناپا جا سکتا۔ غربت ، بے روزگاری ، بچوں کی گھریلو اور زرعی مصروفیات ، والدین کی محدود تعلیمی استعداد اور نجی ٹیوشن کی عدم دستیابی جیسے عوامل براہِ راست تعلیمی کارکردگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو نظرانداز کرکے صرف ایک امتحان کی بنیاد پر کسی ادارے کا مستقبل طے کرنا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔<br />
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ پیف پارٹنرز معیار میں نرمی یا غیر ضروری رعایت کے طلبگار نہیں۔ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ احتساب کے ساتھ اصلاح ، نگرانی کے ساتھ معاونت اور نتائج کے ساتھ بہتری کے مناسب مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ اگر کسی سکول کی کارکردگی مطلوبہ معیار سے کم ہو تو فوری معاہدہ ختم کرنے کے بجائے اصلاحی ایکشن پلان ، اساتذہ کی تربیت ، مسلسل رہنمائی اور بہتری کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ یہی اصول دنیا کے کامیاب تعلیمی نظاموں کی بنیاد ہے۔<br />
کوالٹی ایشورنس ٹیسٹ کے طریقہ کار میں بھی چند اصلاحات ناگزیر ہیں۔ امتحانی عمل مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے تاکہ نتائج پر ہر قسم کے شکوک ختم ہوں ، کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ہوتا ہوا نظر آنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح طلبہ کے انتخاب کے موجودہ طریقہ کار پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔<br />
اگر امتحان کے لیے منتخب ہونے والے طلبہ میں سے نصف کا انتخاب سسٹم اور نصف کا انتخاب سکول انتظامیہ کرے تو نتائج زیادہ متوازن ، حقیقت پسندانہ اور قابلِ اعتماد ہو سکتے ہیں۔<br />
اسی طرح طویل المدتی منصوبہ بندی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر پی ایس آر پی سکول کم از کم بیس سال کے لیے لیز پر پیف پارٹنرز کے سپرد کیے جائیں ، جبکہ ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے ، تو شراکت دار زیادہ اعتماد کے ساتھ عمارتوں ، لیبارٹریوں ، فرنیچر ، کھیل کے میدانوں اور دیگر بنیادی سہولیات پر سرمایہ کاری کر سکیں گے۔ اس کا براہِ راست فائدہ طلبہ اور مقامی کمیونٹی کو پہنچے گا۔<br />
معیارِ تعلیم ہر صورت بہتر ہونا چاہیے ، کیونکہ یہی قوموں کی ترقی کی بنیاد ہے۔ لیکن معیار کا حصول صرف سزا سے نہیں بلکہ رہنمائی ، تربیت ، اعتماد اور مسلسل بہتری سے ممکن ہوتا ہے۔<br />
اگر ایک کمزور طالب علم کو سنبھلنے کے کئی مواقع دیے جا سکتے ہیں تو ایسے تعلیمی اداروں کو بھی ، جو انتہائی مشکل حالات میں قوم کے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی جدوجہد کر رہے ہیں ، صرف دو امتحانات کی بنیاد پر ناکام قرار دینا انصاف کے تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔<br />
وقت کا تقاضا ہے کہ پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کی کامیابی کو صرف ایک امتحان کے نتائج سے نہ ناپا جائے بلکہ سکول کی مجموعی پیش رفت، ابتدائی حالات ، طلبہ کی تعلیمی بنیاد ، مقامی سماجی و معاشی حقائق اور بہتری کی رفتار کو بھی پالیسی سازی کا حصہ بنایا جائے۔ یہی متوازن طرزِ فکر احتساب کو مؤثر ، انصاف کو یقینی اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔<br />
کلام مختصر کہ<br />
&#8220;مار نہیں، پیار&#8221; صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک تعلیمی فلسفہ ہے۔ اگر یہ فلسفہ بچوں کے لیے درست ہے تو انہی بچوں کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھانے والے تعلیمی اداروں کے لیے بھی اس کی روح برقرار رہنی چاہیے۔<br />
تعلیم میں سزا آخری راستہ ہونی چاہیے ، پہلا نہیں ۔ مضبوط تعلیمی نظام ادارے بند کرنے سے نہیں بلکہ اداروں کو سنبھالنے ، ان کی اصلاح کرنے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے سے تشکیل پاتے ہیں ۔ یہی انصاف کا تقاضا ، قومی مفاد اور پاکستان کے ہر بچے کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d8%9f/">اصلاح کا فلسفہ یا سزا کا نظام ؟</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%84%d8%b3%d9%81%db%81-%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفا کا صلہ</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d9%88%d9%81%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d9%84%db%81/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d9%88%d9%81%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d9%84%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 15 Jul 2026 09:01:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[وفا کا صلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1677</guid>

					<description><![CDATA[<p>آج سے تقریباً آٹھ سال قبل مجھے عارضۂ قلب لاحق ہوا۔ مختلف طبی معائنے کے...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d9%88%d9%81%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d9%84%db%81/">وفا کا صلہ</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-904" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/WhatsApp-Image-2026-04-10-at-11.54.16-AM-300x188.jpeg" alt="" width="300" height="188" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/WhatsApp-Image-2026-04-10-at-11.54.16-AM-300x188.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/WhatsApp-Image-2026-04-10-at-11.54.16-AM.jpeg 456w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p style="text-align: right;">آج سے تقریباً آٹھ سال قبل مجھے عارضۂ قلب لاحق ہوا۔ مختلف طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے بائی پاس آپریشن کا مشورہ دیا۔ آپریشن سے پہلے مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان شاء اللہ آپریشن کے بعد صحت پہلے سے بہتر ہو جائے گی، جسم میں نئی توانائی آئے گی اور آپ خود کو جوانی کی سی تازگی محسوس کریں گے۔ ان امید افزا باتوں نے میرے دل میں بھی کئی خواب جگا دیے۔<br />
انسان فطرتاً صحت، طاقت اور جوانی کی خواہش رکھتا ہے۔ میرے دل میں بھی یہ خیال آیا کہ اگر دوبارہ بھرپور صحت مل گئی تو شاید نئی زندگی کے کچھ اور خواب بھی پورے کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت انسان کی سوچ سے کہیں بلند ہوتی ہے۔<br />
آپریشن کے بعد جب میں گھر واپس آیا تو میری اہلیہ نے جس محبت، ایثار، خلوص اور وفاداری کا مظاہرہ کیا، وہ میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا سبق بن گیا۔ اس نے دن رات، سردی گرمی، آرام و سکون، حتیٰ کہ اپنی نیند اور اپنی ضروریات تک کی پروا کیے بغیر میری خدمت کی۔ میری دوا، غذا، صفائی، آرام اور ہر ضرورت کا اس محبت سے خیال رکھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیے بغیر نہ رہ سکا۔<br />
جوں جوں میری صحت بہتر ہوتی گئی، دل میں ایک نئی سوچ نے جنم لیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اصل حسن جوانی میں نہیں بلکہ وفاداری میں ہے، اصل دولت حسنِ سیرت ہے، اور اصل خوشی اس شریکِ حیات میں ہے جو آزمائش کے وقت انسان کا سہارا بن جائے۔ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں مجھے اسی وفادار، مخلص، خدمت گزار اور نیک بیوی کا ساتھ عطا فرمائے۔<br />
اسلام نے دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کی اجازت ضرور دی ہے، لیکن اس اجازت کے ساتھ عدل و انصاف کی ایسی شرط عائد کی ہے جس سے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔<br />
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:<br />
&#8220;پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی (بیوی پر اکتفا کرو)۔&#8221;<br />
(سورۃ النساء: 3)<br />
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br />
&#8220;جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف زیادہ مائل ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔&#8221;<br />
(سنن ابوداؤد، جامع ترمذی)<br />
یہاں ایک معروف صوفیانہ حکایت بھی قابلِ غور ہے۔ حضرت ابوالحسن خرقانیؒ کے بارے میں روایت ہے کہ لوگوں نے ان سے ان کے بلند روحانی مقام کا راز پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی اہلیہ کی بعض تلخ باتوں پر بھی صبر کیا، کیونکہ جب میرے والدین نے اس کا رشتہ مانگا تھا تو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یہ امانت اپنے گھر لائے تھے۔ مجھے خوف رہتا تھا کہ اگر میں اس امانت کی ناقدری کروں یا اس پر ظلم کروں تو کہیں اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے۔ اگرچہ یہ ایک صوفیانہ حکایت ہے، لیکن اس میں ہمارے لیے یہ سبق ضرور ہے کہ ازدواجی زندگی صبر، وفاداری، درگزر اور حقوق کی ادائیگی کا نام ہے۔<br />
اسی مضمون سے ملتی جلتی ایک مشہور حکایت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی منقول ہے۔ روایت ہے کہ ایک بدو اپنی بیوی کی شکایت لے کر حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب وہ آپؓ کے گھر کے قریب پہنچا تو اندر سے حضرت عمرؓ کی اہلیہ کی بلند آواز سنائی دی، جو کسی معاملے پر سخت لہجے میں گفتگو کر رہی تھیں، جبکہ حضرت عمرؓ خاموشی سے سن رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر بدو واپس پلٹنے لگا۔ حضرت عمرؓ باہر تشریف لائے تو اس سے واپس جانے کی وجہ پوچھی۔ اس نے عرض کیا: &#8220;امیرالمؤمنین! میں تو اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا، لیکن جب دیکھا کہ آپ کے گھر میں بھی یہی کیفیت ہے تو میں نے سمجھا کہ میری شکایت بے معنی ہے۔&#8221;<br />
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: &#8220;میں اپنی اہلیہ کی بعض باتوں پر اس لیے صبر کرتا ہوں کہ اس کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں۔ وہ میرے بچوں کی ماں ہے، میرے گھر کی نگہبان ہے، میرے لیے کھانا تیار کرتی ہے، میرے کپڑے سنبھالتی ہے اور میرے گھر کے بہت سے معاملات انجام دیتی ہے، حالانکہ ان میں سے بہت سے کام اس پر شرعاً لازم بھی نہیں۔ اس لیے اگر کبھی اس سے کوئی سخت بات ہو جائے تو میں اس کے ان احسانات کو یاد کرکے درگزر کر لیتا ہوں۔&#8221;<br />
اگرچہ یہ ایک مشہور حکایت ہے، لیکن اس کا پیغام یہی ہے کہ ازدواجی زندگی صرف حقوق لینے کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کی خدمات، قربانیوں اور احسانات کی قدر کرنے کا نام بھی ہے۔<br />
نکاح صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک مقدس امانت ہے۔ والدین اللہ کا واسطہ دے کر اپنی بیٹی کو ایک نئے گھر کے سپرد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کی حفاظت کرنا شوہر کی دینی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔<br />
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:<br />
&#8220;اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔&#8221;<br />
(سورۃ النساء: 19)<br />
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:<br />
&#8220;تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔&#8221;<br />
(جامع ترمذی)<br />
آج کے دور میں دوسری شادی، ناانصافی، گھریلو جھگڑوں اور ناجائز تعلقات کی وجہ سے خاندان بکھر رہے ہیں، حالانکہ اسلام ظلم نہیں بلکہ عدل، محبت اور ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔<br />
میری زندگی کے اس سفر نے مجھے یہ سبق دیا کہ بیماری میں ساتھ دینے والا، تکلیف میں سہارا بننے والا، خوشی اور غم میں وفا نبھانے والا شریکِ حیات اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر کرنا، اس کے حقوق ادا کرنا اور اس کے دل کو ٹھیس نہ پہنچانا ہی حقیقی مردانگی اور اسلامی کردار ہے۔<br />
آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ دل کی بھی حفاظت کریں گے اور اس دل سے جڑے ان پاکیزہ رشتوں کی بھی، جو اللہ کے نام پر قائم ہوتے ہیں۔ ان رشتوں کی بنیاد محبت، وفاداری، صبر، ایثار اور عدل پر استوار کریں گے تاکہ ہمارے گھر سکون، رحمت اور برکت کا گہوارہ بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں کو ایمان سے، اپنے گھروں کو محبت سے، اپنے رشتوں کو وفاداری سے اور اپنے معاملات کو عدل و انصاف سے آراستہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d9%88%d9%81%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d9%84%db%81/">وفا کا صلہ</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/07/15/%d9%88%d9%81%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایل اے 37 جموں 4 نارووال ۔!سیاسی بساط، بدلتے مہرے</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/22/%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%92-37-%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-4-%d9%86%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%a7%d8%b7%d8%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/22/%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%92-37-%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-4-%d9%86%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%a7%d8%b7%d8%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 22 Jun 2026 18:01:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1580</guid>

					<description><![CDATA[<p>سیاست کے سینے میں تاریخ کی دھڑکنیں اور مستقبل کی امیدیں ایک ساتھ سانس لیتی...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/22/%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%92-37-%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-4-%d9%86%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%a7%d8%b7%d8%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa/">ایل اے 37 جموں 4 نارووال ۔!سیاسی بساط، بدلتے مہرے</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p style="text-align: right;">سیاست کے سینے میں تاریخ کی دھڑکنیں اور مستقبل کی امیدیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ انتخابی موسم جب اپنے قدم جماتا ہے تو محض امیدوار ہی نہیں بلکہ سیاسی روایات، خاندانی اثر و رسوخ، نظریاتی وابستگیاں اور عوامی توقعات بھی میدان میں اتر آتی ہیں۔ برصغیر کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بعض اوقات ایک فیصلہ، ایک اعلان یا ایک ٹکٹ پورے سیاسی منظرنامے کا رخ بدل دیتا ہے۔ضلع نارووال ہمیشہ سے سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے جہاں انتخابی معرکے صرف ووٹوں کی جنگ نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، حکمتِ عملی، تعلقات اور عوامی اعتماد کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ 2026ء کے انتخابات کے تناظر میں حلقہ ایل اے 37 جموں 4 نارووال ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث و مباحثے کا محور بن چکا ہے، جہاں ہر نءی پیش رفت سیاسی افق پر ایک نءی کہانی رقم کرتی دکھاءی دیتی ہے۔<br />
اب تک کے سیاسی داؤ پیچ کا غیر جانب دارانہ جاءزہ لیا جاءے تو وفاقی وزیر احسن اقبال نے اپنے ایم پی اے صاحبزادے احمد اقبال کی سیاسی ناتجربہ کاری اور بعض سیاسی جلد بازیوں کے باوجود اپنی سیاسی بصیرت، حکمتِ عملی اور تدبر کے ذریعے معاملات کو نہایت مہارت سے سنبھالا ہے۔ سیاست میں بعض اوقات تجربہ سے زیادہ دور اندیشی اور اجتماعی حکمت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے، اور یہاں یہی عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے درجنوں امیدواروں کے درمیان سیاسی ماحول کو خوب گرما کر بالآخر ٹکٹ میاں رشید خاندان کے نام کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ بظاہر ایک معمول کا تنظیمی اقدام دکھاءی دیتا ہے، مگر سیاسی حلقوں میں اسے ایک بڑی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔<br />
مختلف مبصرین اسے طاقت کے توازن کی نءی ترتیب قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ حلقے اسے مقامی سیاسی انجینءرنگ کا تسلسل بھی کہتے ہیں۔ تاہم جمہوری نظام میں ہر راءے کا احترام اپنی جگہ ایک بنیادی اصول ہے۔<br />
میاں محمد رشید کا &#8220;ہر حال میں الیکشن لڑیں گے&#8221; والا دو ٹوک اور غیر لچکدار موقف انہیں سیاسی منظرنامے میں مسلسل فعال رکھے ہوءے ہے۔ دوسری جانب احسن اقبال کی قیادت میں دیگر امیدواروں کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی بھی ایک منظم سیاسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں اختلاف کو مکمل ٹکراؤ میں بدلنے کے بجاءے اسے توازن میں رکھا جا رہا ہے۔اس حلقے کی سیاست کو عمومی طور پر مقامی زبان میں &#8220;ریاستی الیکشن&#8221; بھی کہا جاتا ہے، اور اس اصطلاح کے پیچھے ایک طویل سیاسی تاریخ پوشیدہ ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہاں انتخابی نتاءج ہمیشہ جماعتی بنیادوں پر طے نہیں ہوتے بلکہ ذاتی تعلقات، برادریوں کے اتحاد اور مقامی اثر و رسوخ زیادہ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست محض نعروں کی نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کی سیاست ہے۔<br />
گزشتہ سیاسی منظرنامے میں میاں محمد رشید اپنے امیدوار کو کامیاب کروانے کے باوجود سیاسی طور پر ایک بند گلی کی طرف چلے گءے تھے، اور اب اسی سیاسی راستے کے نءے مسافر موجودہ ایم ایل اے اکمل سرگالہ دکھاءی دیتے ہیں۔بعض سیاسی مبصرین اسے حالات کے بدلتے ہوءے تقاضوں اور سیاسی مکافاتِ عمل کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جہاں ہر قدم کا سیاسی ردعمل دیر یا سویر سامنے آتا ہے۔لہذا یوں محسوس ہوتا ہے کہ احسن اقبال ضلع نارووال میں اپنی سیاسی گرفت مزید مضبوط کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کی حکمتِ عملی میں صرف انتخابی جیت نہیں بلکہ طویل المدتی سیاسی استحکام کا عنصر بھی شامل دکھاءی دیتا ہے۔ توقع تھی کہ مقامی اپوزیشن ، خصوصاً سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز چوہدری کی قیادت میں کوءی مضبوط اور منظم سیاسی چیلنج سامنے آءے گا، مگر تاحال صورتحال غیر واضح اور منتشر نظر آتی ہے۔<br />
ایل اے 37 جموں 4 نارووال کی سیاست پر ماضی میں تین بڑے سیاسی خاندان نمایاں اثر رکھتے رہے ہیں ۔ میاں محمد رشید خاندان، مرحوم چوہدری محمد حسین سرگالہ خاندان اور چوہدری صدیق بھٹلی خاندان۔<br />
ان خاندانوں کی سیاست محض ذاتی اثر و رسوخ تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے حلقے کی سیاسی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ان سیاسی فتوحات کے پس منظر میں کبھی مرحوم چوہدری انور عزیز کا کردار نمایاں رہا ، کبھی مرحوم محمد حسین سرگالہ سیاسی افق پر چھاءے رہے، کبھی رپو چک ہاؤس کا اثر و رسوخ زیر بحث آیا ، اور کبھی پیر صاحبانِ مراڑا شریف کی حمایت کو فیصلہ کن عنصر قرار دیا گیا۔ یہ تمام عوامل اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس حلقے کی سیاست ہمیشہ ایک کثیر الجہتی نظام کے تحت چلتی رہی ہے۔ تاہم نارووال اور احسن اقبال اس کا مرکز کبھی نہیں رہے بلکہ شکرگڑھ ہی اس سیٹ کا مرکز رہ چکا ھے ۔2026ء کے انتخابات اس وقت مزید دلچسپ ہو گءے جب بعض ممکنہ امیدوار میدان سے باہر ہوتے دکھاءی دیے۔ اسی دوران ایک کاروباری حلقے سے تعلق رکھنے والے میاں مشتاق برادران نے ٹکٹ پر اپنا دعویٰ پیش کر دیا، جس نے سیاسی ماحول میں نءی ہلچل پیدا کر دی۔ اس صورتحال نے نہ صرف اندرونی اختلافات کو نمایاں کیا بلکہ انتخابی حکمتِ عملی کو بھی نءے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ احسن اقبال کا یہ مؤقف کہ ٹکٹ کا فیصلہ مکمل مشاورت اور زمینی حقاءق کے مطابق ہوگا، جبکہ دوسری طرف میاں مشتاق برادران اپنے دعوے پر قاءم رہے کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ ان کے پاس ہے۔ یہی کشمکش سیاسی فضا کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بناتی رہی اور جہاں ہر فریق اپنی سیاسی سچاءی کا دعویدار ہے۔ہمارے سیاسی ماحول کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ انتخابی نتاءج کو اکثر پہلے سے طے شدہ بیانیوں کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔ اگر حکمران جماعت کا امیدوار کامیاب ہو جاءے تو کہا جاتا ہے کہ اسے &#8220;جتوایا گیا&#8221; ہے، اور اگر مخالف امیدوار ہار جاءے تو کہا جاتا ہے کہ اسے &#8220;ہرایا گیا&#8221; ہے۔ اس بیانیے کی جنگ میں اکثر اصل سیاسی عوامل، عوامی راءے، زمینی حقاءق اور مقامی اثرات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔<br />
جہاں تک حکمران جماعت کے فیصلوں کا تعلق ہے تو بظاہر یہ کہا جا سکتا ہے کہ زمینی حقاءق، سیاسی گراف اور تنظیمی توازن کو مدنظر رکھتے ہوءے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہی اصول دوسری جانب بھی اپنایا جاءے تو عادل صدیق بھٹلی ایک مضبوط اور متحرک امیدوار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر مقامی سیاسی اتحاد کی صورت میں چوہدری صدیق بھٹلی اپنی تجربہ کاری، مقامی روابط اور قابلِ قبول حیثیت کے باعث ایک متفقہ امیدوار بننے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی بارہ نشستوں کا سیاسی ماحول براہِ راست وفاقی اور صوباءی سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومتی پوزیشن اور احسن اقبال کی مضبوط سیاسی گرفت آزاد حیثیت سے آنے والے امیدواروں کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے، جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔اسی تناظر میں مختلف &#8220;سیاسی کارڈز&#8221; ہو استعمال آ سکتے ہیں ، جن میں گوجر اور راجپوت کارڈ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم آج کا ووٹر ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور ہو چکا ہے۔<br />
وہ صرف برادری یا روایت نہیں بلکہ کردار، کارکردگی، سیاسی ساکھ اور عوامی رابطے کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہی تبدیلی اس حلقے کی سیاست کو ایک نءے دور میں داخل کر رہی ہے۔مختصراً یہ کہ ایل اے 37 جموں 4 نارووال اس وقت ایک ایسے سیاسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں شخصیات، برادریاں، جماعتیں اور حکمتِ عملیاں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ بظاہر سیاسی بساط پر تمام مہرے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اصل فیصلہ آنے والا وقت اور عوامی راءے ہی کرے گی۔یہ حقیقت اپنی جگہ قاءم ہے کہ ووٹ اور نوٹ دونوں رکھنے والے امیدوار موجود ہیں، لیکن اقتدار، وساءل اور حکومتی اثر و رسوخ ہمیشہ انتخابی ماحول پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اور آزاد امیدوار عوامی ہمدردی، نظریاتی وابستگی اور مقامی روابط کے سہارے میدان میں اترتے ہیں۔اگر ماضی کے انتخابات کا جاءزہ لیا جاءے تو اس حلقے کے عوام نے بارہا سیاسی اندازوں کو غلط ثابت کیا ہے اور اپنے فیصلوں سے سب کو حیران کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2026ء کے انتخابات بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ بظاہر سیاسی نقشہ واضح ہے، مگر زمینی حقیقتیں اب بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آءیں۔سیاست امکانات کا نام ہے اور امکانات کی دنیا میں حرفِ آخر کبھی نہیں ہوتا۔ آج جو مضبوط ہے وہ کل کمزور ہو سکتا ہے، اور جو آج غیر متعلق سمجھا جا رہا ہے وہ کل سیاسی مرکزِ نگاہ بن سکتا ہے۔فیصلہ آخرکار عوام ہی کریں گے، اور تاریخ ہمیشہ یہی بتاتی ہے کہ سیاست کے شور میں آخری فیصلہ خاموش عوام ہی سناتے ہیں۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/22/%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%92-37-%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-4-%d9%86%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%a7%d8%b7%d8%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa/">ایل اے 37 جموں 4 نارووال ۔!سیاسی بساط، بدلتے مہرے</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/22/%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%92-37-%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-4-%d9%86%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%a7%d8%b7%d8%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جب انسان خود سے ملتا ہے ۔۔۔!</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Jun 2026 11:47:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1573</guid>

					<description><![CDATA[<p>انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نگاہ آسمان...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/">جب انسان خود سے ملتا ہے ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نگاہ آسمان میں کسی گمشدہ شے کو تلاش کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے عمارتیں بناتا ہے، سمندروں کو چیرتا ہے، پہاڑوں کے سینے میں سرنگیں کھودتا ہے، ستاروں تک رسائی کے خواب دیکھتا ہے، لیکن پھر بھی رات کے کسی پہر اچانک جاگ کر خود سے پوچھتا ہے،<br />
’’میں کون ہوں؟‘‘<br />
یہ سوال اتنا ہی پرانا ہے جتنا انسان خود۔<br />
تہذیبیں بدل گئیں ، زمانے گزر گئے ، علم نے بے شمار منزلیں طے کیں ، مگر انسان کے اندر اٹھنے والا یہ سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ زندہ ہے۔ شاید اسی لیے انسان کی سب سے بڑی جستجو کائنات کو جاننے سے پہلے خود کو جاننا ہے۔<br />
عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے کائنات کے بے شمار راز دریافت کر لیے ہیں۔<br />
وہ جانتا ہے کہ سورج زمین سے کتنے فاصلے پر ہے، ستارے کس رفتار سے گردش کرتے ہیں، جسم کے اندر خون کس نظام کے تحت رواں رہتا ہے اور ایک ننھا سا خلیہ کس طرح ایک مکمل انسان کی صورت اختیار کرتا ہے۔ سائنس نے مشاہدے، تجربے اور عقل کی مدد سے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔<br />
آج انسان مصنوعی ذہانت تخلیق کر رہا ہے، جینیاتی علوم میں نئی راہیں کھول رہا ہے اور اربوں نوری سال دور کہکشاؤں کی تصاویر حاصل کر رہا ہے۔<br />
مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان نے خود کو جان لیا ہے ؟<br />
&#8220;شاید نہیں &#8221;<br />
کیونکہ جوں جوں علم بڑھتا ہے، حیرت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ پہلے انسان آسمان کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، اب وہ ایٹم کو دیکھ کر حیران ہے۔ پہلے وہ ستاروں کے راز پوچھتا تھا، اب شعور کے اسرار جاننا چاہتا ہے۔ سائنس اسے بتاتی ہے کہ دل کیسے دھڑکتا ہے، مگر یہ نہیں بتا پاتی کہ کس کے لیے دھڑکتا ہے ۔ وہ دماغ کے خلیات کی سرگرمی ریکارڈ کر لیتی ہے، مگر خواب کی معنویت اور احساس کی گہرائی کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتی۔</p>
<p>ٹچ موبائل ہی کو لے لیجیے۔ اکثریتی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید صرف کالز، آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کے استعمال کا ریکارڈ ہی محفوظ کیا جا سکتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ ہمارے قریب رکھا ہوا موبائل ہماری سرگرمیوں، ترجیحات، نقل و حرکت اور روزمرہ معمولات کا مسلسل ریکارڈ مرتب کرتا رہتا ہے۔ بظاہر یہ ایک خاموش آلہ ہے، مگر درحقیقت معلومات کا ایک متحرک خزانہ ہے۔ انسان کی زندگی کے بے شمار نقوش اس میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں۔<br />
یہ منظر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب انسان کی بنائی ہوئی مشینیں اتنا کچھ محفوظ رکھ سکتی ہیں تو پھر اس کائنات کے خالق کے نظامِ حساب میں کسی عمل، کسی لفظ اور کسی نیت کا محفوظ رہ جانا کیوں ناممکن ہو ؟<br />
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدید سائنسی ایجادات غیر محسوس طور پر انسان کو یومِ حساب کے اس تصور کے قریب لے جا رہی ہیں جس کے مطابق انسان کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک نہ ایک صورت میں محفوظ رہتا ہے۔<br />
یہیں سے انسان کے سامنے ایک اور دروازہ کھلتا ہے۔ وہ دروازہ فلسفے کا ہے۔<br />
فلسفہ انسان سے پوچھتا ہے کہ اگر ہر شے کی ایک علت ہے تو خود علتِ اولیٰ کیا ہے؟<br />
اگر کائنات ایک عظیم نظم کے تحت چل رہی ہے تو اس نظم کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اگر شعور صرف مادّے کی پیداوار ہے تو پھر انسان حق و باطل، خیر و شر اور حسن و قبح کا ادراک کیوں رکھتا ہے؟<br />
فلسفہ جواب کم دیتا ہے اور سوال زیادہ پیدا کرتا ہے ، لیکن یہی سوال انسان کو اپنی ظاہری زندگی سے اٹھا کر باطنی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے آپ سے ملنے لگتا ہے۔<br />
یہیں سے دین کا سفر شروع ہوتا ہے۔<br />
دین انسان کو سوال کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔<br />
قرآنِ حکیم بار بار انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کے الٹ پھیر ، بارش کے نزول اور خود اپنی پیدائش میں غور کرنے کی تلقین کرتا ہے۔<br />
گویا کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور انسان اس کا قاری ۔<br />
فرق صرف اتنا ہے کہ سائنس نشانی کو دیکھتی ہے جبکہ دین نشانی کے پیچھے موجود معنی کو تلاش کرتا ہے۔<br />
ایک سائنس دان درخت کو نباتاتی نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ ایک صاحبِ دل اسے قدرت کی ایک نشانی سمجھتا ہے۔ دونوں غلط نہیں، دونوں اپنے اپنے زاویۂ نگاہ سے درست ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایک زاویہ دوسرے کو مکمل طور پر رد کرنے لگتا ہے۔<br />
حقیقت یہ ہے کہ انسان دو جہانوں کا مسافر ہے۔ اس کا جسم مٹی سے بنا ہے اور اس کی روح کسی اور جہان کی امانت ہے۔<br />
جسم قوانینِ فطرت کا پابند ہے، مگر روح آزادی ، محبت ، خوف ، امید اور جستجو کے ایسے تجربات سے گزرتی ہے جنہیں محض پیمانوں اور اعداد و شمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔<br />
شاید اسی لیے انسان کبھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔<br />
اس کے پاس دولت آ جائے تو وہ سکون تلاش کرتا ہے، شہرت مل جائے تو تنہائی محسوس کرتا ہے، طاقت حاصل ہو جائے تو کسی نامعلوم کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ گویا انسان کے اندر ایک ایسی پیاس رکھی گئی ہے جو دنیا کی کسی نہر سے نہیں بجھتی۔<br />
صوفیا نے اسے روح کی پیاس کہا، فلسفیوں نے وجودی سوال کا نام دیا اور ماہرینِ نفسیات نے اسے انسانی شعور کی گہرائیوں سے تعبیر کیا۔ الفاظ بدلتے رہے، مگر حقیقت ایک ہی رہی۔<br />
انسان اپنے اندر کسی گمشدہ شے کی تلاش میں ہے۔<br />
شاید اسی تلاش کا نام &#8221; زندگی &#8221; ہے۔<br />
جب انسان صرف باہر کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے تو مشین بننے لگتا ہے، اور جب صرف اندر کی دنیا میں کھو جاتا ہے تو حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ اصل حکمت ان دونوں کے درمیان پل تعمیر کرنے میں ہے۔ علم اور ایمان، عقل اور دل، مشاہدہ اور ادراک ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔<br />
کائنات کا ہر ذرہ ایک سوال بھی ہے اور ایک جواب بھی۔ ایک بیج سوال ہے کہ اس کے اندر درخت کیسے پوشیدہ ہے، اور درخت جواب ہے کہ قدرت کس طرح خاموشی سے اپنا کام کرتی ہے۔ انسان بھی ایک ایسا ہی معمہ ہے۔ وہ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔<br />
اسی لیے زندگی کی سب سے بڑی دانائی شاید یہ نہیں کہ انسان ہر سوال کا جواب حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سوال کے ساتھ جینا سیکھ لے، کیونکہ بعض سوالات جواب کے لیے نہیں ہوتے، بیداری کے لیے ہوتے ہیں۔<br />
جس دن انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے اور حقیقت اس کی گرفت سے کہیں زیادہ وسیع، اسی دن اس کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اکثر اوقات حقیقت کے دروازے علم سے زیادہ عاجزی پر کھلتے ہیں۔<br />
آخرکار انسان ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ اندر کا سوال کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا اور باہر کا جواب کبھی مکمل طور پر کافی نہیں ہوگا۔ ان دونوں کے درمیان جو خاموش مکالمہ جاری ہے، وہی انسان کی اصل زندگی ہے۔<br />
شاید انسان کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ وہ جوابوں کا نہیں، تلاش کا مسافر ہے۔ وہ جتنا باہر کی دنیا کو دریافت کرتا ہے، اتنا ہی اپنے باطن کی وسعتوں سے آشنا ہوتا جاتا ہے۔ ہر دریافت اسے ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے اور ہر سوال اسے اپنی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔<br />
اور شاید خود شناسی کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوتا ہے۔ جب انسان کائنات کی وسعتوں میں بھٹکنے کے بعد پلٹ کر اپنے اندر جھانکتا ہے، جب وہ علم کی بلندیوں سے اتر کر عاجزی کی زمین پر قدم رکھتا ہے، جب وہ باہر کے شور سے نکل کر اپنے باطن کی آواز سنتا ہے، تب پہلی بار اس کا سامنا اپنے حقیقی وجود سے ہوتا ہے۔<br />
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے ،<br />
&#8220;جب انسان خود سے ملتا ہے&#8221; ۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/">جب انسان خود سے ملتا ہے ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 18 Jun 2026 10:52:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1565</guid>

					<description><![CDATA[<p>زمانے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اندھیرے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ...</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/">چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>زمانے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اندھیرے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں نے اندھیروں کو روشنی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔<br />
جب قومیں اپنی فکری سمت کھونے لگتی ہیں تو ان کے بازار آباد ہو جاتے ہیں مگر اذہان ویران ہونے لگتے ہیں۔ شور بڑھ جاتا ہے مگر معنی کم ہو جاتے ہیں۔<br />
لفظ باقی رہتے ہیں مگر ان کے اندر کی روح رخصت ہونے لگتی ہے۔<br />
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تہذیب کے چراغ مدھم پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>ہر دور کی شناخت اس کے علم، ادب اور فکر سے ہوتی ہے۔ عمارتیں، سڑکیں اور بازار کسی قوم کی مادی ترقی کا پتہ دیتے ہیں، مگر اس کے ادب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی روح کس حال میں ہے۔<br />
ادب دراصل کسی معاشرے کے باطن کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب آئینہ دھندلا جائے تو چہرے بھی اپنی اصل صورت کھو دیتے ہیں۔<br />
آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے مگر معرفت کی بوند کو ترس رہا ہے۔ اس کے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر مکالمہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔<br />
وہ بولتا بہت ہے مگر سنتا کم ہے۔ وہ جانتا بہت کچھ ہے مگر سمجھتا کم ہے۔<br />
شاید اسی لیے جدید انسان کی سب سے بڑی محرومی علم کی کمی نہیں بلکہ حکمت کی کمی ہے۔</p>
<p>یہ وہ عہد ہے جہاں ہر شخص اپنی آواز بلند کرنا چاہتا ہے مگر بہت کم لوگ اپنے اندر کی خاموشی کو سننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصل تعمیر شور میں نہیں، سکوت میں ہوتی ہے۔ دریا شور نہیں مچاتے، پھر بھی زندگی بانٹتے ہیں۔ درخت آواز نہیں کرتے، پھر بھی سایہ دیتے ہیں۔ سورج اعلان نہیں کرتا، پھر بھی روشنی پھیلاتا ہے۔ لیکن ہم نے ایسا زمانہ بنا لیا ہے جہاں نمود خدمت سے بڑی اور شہرت کردار سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔<br />
ادب کا تعلق ہمیشہ انسان کے باطن سے رہا ہے۔<br />
ادب نے صرف کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ تہذیبوں کی تربیت کی ہے۔ اس نے انسان کو آئینہ دیا تاکہ وہ دوسروں سے پہلے خود کو دیکھ سکے۔ ادب نے سوال پیدا کیے تاکہ انسان جواب تلاش کرے۔ اس نے اضطراب دیا تاکہ شعور بیدار ہو۔ ادب نے کبھی ہجوم کی پیروی نہیں کی بلکہ ہجوم کو راستہ دکھایا ہے۔<br />
لیکن جب ادب بھی بازار کی منطق قبول کر لیتا ہے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے۔ پھر تحریر فکر کی امانت نہیں رہتی بلکہ توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لفظ سچائی کے سفیر نہیں رہتے بلکہ مقبولیت کے مسافر بن جاتے ہیں۔<br />
اس مرحلے پر ادب زندہ تو رہتا ہے مگر اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔<br />
اصل ادیب وہ نہیں جو صرف لکھنا جانتا ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے عہد کی نبض پہچانتا ہو۔ قلم محض انگلیوں سے نہیں چلتا، یہ دل، دماغ اور ضمیر کے اشتراک سے حرکت میں آتا ہے۔ اگر ضمیر سو جائے تو قلم جاگتے ہوئے بھی سو جاتا ہے۔ اگر احساس مر جائے تو الفاظ زندہ رہ کر بھی مردہ ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>آج تفریح انسانی ضرورت سے بڑھ کر انسانی ترجیح بن چکی ہے۔ تفریح میں کوئی برائی نہیں، مگر جب تفریح فکر کی جگہ لے لے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔<br />
جب ہنسی حکمت پر غالب آ جائے ، جب طنز دلیل کا متبادل بن جائے اور جب سنجیدگی کو کمزوری سمجھا جانے لگے تو معاشرہ<br />
آہستہ آہستہ اپنی فکری بنیادوں سے دور ہونے لگتا ہے۔<br />
اسی رجحان نے میڈیا، اسٹیج اور ٹی وی ڈراموں کی دنیا کو بھی ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ غیر معیاری مواد، سطحی مزاح اور غیر سنجیدہ کرداروں کی بھرمار نے نئی نسل کے ذوق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بعض ہدایت کار اور اداکار ایسے مناظر اور رویے پیش کر رہے ہیں جن میں وقتی شہرت تو مل جاتی ہے مگر فکری تربیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ سنجیدہ مطالعے، اخلاقی اقدار اور ادبی ذوق سے دور ہوتا جا رہا ہے۔<br />
کردار سازی کی جگہ صرف منظر سازی رہ گئی ہے، اور فکر کی جگہ صرف تاثر۔</p>
<p>یہاں سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے کو محض تفریح ہی درکار ہے یا تہذیب بھی؟<br />
کیا کامیابی کا معیار صرف ناظرین کی تعداد ہے یا ان کی فکری سطح بھی؟<br />
اگر نئی نسل کو صرف ہنسی، شور اور سطحی مکالمے ہی دیے جائیں تو پھر سوچنے، سمجھنے اور خود کو پہچاننے کی صلاحیت کیسے باقی رہے گی؟<br />
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاست، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ میڈیا کے معیار اور ثقافتی سمت پر سنجیدہ توجہ دیں، تاکہ تہذیبی بگاڑ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>اس ضمن میں دنیا کی کچھ مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ قطر نے فٹبال کے عالمی ایونٹ کی میزبانی کے دوران یہ عملی پیغام دیا کہ ایک بڑا اور عالمی سطح کا پروگرام بھی اخلاقی اور ثقافتی اصولوں کے ساتھ کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔ اس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ غیر ضروری اشتہاری شور، سطحی نمائش اور اخلاقی بے راہ روی کے بغیر بھی بڑے ایونٹس نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں بلکہ زیادہ باوقار اور یادگار بھی بن سکتے ہیں۔<br />
یہ طرزِ عمل اس سوچ کی تردید ہے کہ ترقی صرف بے لگام اظہار اور بے حد آزادی سے مشروط ہے۔<br />
تہذیب کا زوال ہمیشہ تلواروں سے نہیں آتا۔ بعض اوقات قومیں قہقہوں میں بھی اپنی سنجیدگی کھو دیتی ہیں۔<br />
بعض اوقات عمارتیں سلامت رہتی ہیں مگر اقدار منہدم ہو جاتی ہیں۔<br />
بعض اوقات کتابیں موجود ہوتی ہیں مگر مطالعہ مر جاتا ہے۔<br />
اور بعض اوقات ادیب موجود ہوتے ہیں مگر ادب غائب ہو جاتا ہے۔<br />
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ادب محض الفاظ کا ہنر نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ لفظوں کے ذریعے انسان کے باطن تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک اچھی تحریر صرف پڑھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ وہ قاری کے ذہن میں سوال اور دل میں روشنی پیدا کرتی ہے۔ ادب اگر انسان کو اپنے آپ سے نہ ملا سکے تو پھر وہ محض عبارت رہ جاتا ہے، بصیرت نہیں بنتا۔</p>
<p>تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اہلِ فکر اور اہلِ قلم کی قدر کی، انہوں نے زمانے کی تاریکیوں میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لیا۔ اور جن قوموں نے فکر کے چراغ بجھا دیے، وہ دولت اور طاقت کے باوجود فکری انتشار کا شکار ہو گئیں۔ اس لیے قلم کی ذمہ داری محض لکھنا نہیں بلکہ راستہ دکھانا بھی ہے۔<br />
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ زیادہ لکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ زیادہ سچ لکھا جائے۔ زیادہ بولا نہیں جائے بلکہ زیادہ سوچا جائے۔<br />
زیادہ مشہور ہونے کی بجائے زیادہ مؤثر بنا جائے۔ کیونکہ شہرت کا سفر مختصر ہوتا ہے جبکہ اثر کا سفر نسلوں تک جاری رہتا ہے۔<br />
معاشرے کی اصل دولت اس کے بینک نہیں بلکہ اس کے خیالات ہوتے ہیں۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے ہتھیار نہیں بلکہ ان کے نظریات ہوتے ہیں۔ اور تہذیب کی اصل حفاظت اس کی سرحدیں نہیں بلکہ اس کا ادب کرتا ہے۔ جب ادب کمزور پڑ جائے تو تہذیب یتیم ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>آج بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔<br />
آج بھی چراغِ ادب مکمل طور پر بجھا نہیں۔<br />
اس کی لو اگرچہ ہوا کے تیز جھونکوں سے لرز رہی ہے مگر ابھی روشن ہے۔<br />
ضرورت صرف اتنی ہے کہ اہلِ قلم اپنی ذمہ داری کو پہچانیں، اہلِ علم اپنی روایت سے جڑیں اور اہلِ ذوق اپنی فکری میراث کی حفاظت کریں۔<br />
چراغ کبھی سورج نہیں ہوتا، مگر اندھیروں کے خلاف سب سے پہلی مزاحمت ضرور ہوتا ہے۔ ادب بھی ایسا ہی چراغ ہے۔ جب تک یہ روشن ہے، امید باقی ہے۔ لیکن اگر یہ چراغ مدھم پڑ گیا تو عہدِ زوال صرف کتابوں کا موضوع نہیں رہے گا بلکہ ہماری اجتماعی حقیقت بن جائے گا۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/">چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk">ZNN</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
