بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک)لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ امریکہ کی نگرانی میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والا فریم ورک معاہدہ لبنانی سرزمین پر اسرائیلی فوج کے قیام یا قبضے کو کسی صورت قانونی حیثیت نہیں دیتا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد اسرائیلی انخلا کے بعد لبنانی فوج کو پورے ملک میں اپنی عمل داری قائم کرنے کے قابل بنانا ہے۔

لبنانی صدر نے مختلف تعلیمی، طبی اور مذہبی وفود سے ملاقات کے دوران کہا کہ معاہدے کی تمام شقیں لبنانی خودمختاری کے تحفظ اور جنوبی لبنان میں ریاستی رٹ بحال کرنے کے لیے مرتب کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد لبنانی فوج جنوبی علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گی۔

صدر عون نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے تنازع سے الگ رہنے کا لبنان کا فیصلہ مکمل طور پر خودمختار پالیسی کا مظہر ہے۔ ان کے بقول بعض حلقے اس فیصلے پر اعتراض اس لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ بیرونی سرپرستی اور دباؤ کے عادی ہو چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ لبنان ایک جمہوری ملک ہے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم فرقہ واریت کو ہوا دینے یا سڑکوں کے ذریعے حکومت گرانے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جوزف عون کا کہنا تھا کہ اصل طاقت جنگ کو طول دینے میں نہیں بلکہ اسے ختم کرنے کے حوصلے میں ہے، جبکہ جاری مذاکرات خونریزی کے بغیر ایک سفارتی جدوجہد ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ لبنان اپنی سرزمین کے ایک انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوگا۔

ادھر فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیلی انخلا کے بعد لبنانی فوج مرحلہ وار جنوبی لبنان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے گی، جبکہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان میں اپنے قائم کردہ سکیورٹی زونز میں فوج برقرار رکھنے پر اصرار کر رہا ہے۔ لبنان نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے معاہدے کے مطابق مکمل اسرائیلی انخلا کا مطالبہ دہرایا ہے۔

 

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *