قلعہ احمد آباد (محمد یاسر سے)کسان بورڈ پاکستان کے نائب صدر چوہدری نور الٰہی تتلہ ایڈووکیٹ نے حکومت پنجاب کی گندم پالیسی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے گندم 3500 روپے فی من خریدنے کا وعدہ تاحال پورا نہیں کیا گیا، جس کے باعث کسان شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔قلعہ احمد آباد اور گردونواح کے کسانوں کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت منڈیوں میں گندم کی قیمت 3000 سے 3200 روپے فی من کے درمیان ہے، جو کسانوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی دعوے عملی اقدامات سے خالی دکھائی دیتے ہیں، جس سے کاشتکاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔چوہدری نور الٰہی تتلہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من پر خریداری کا عمل شروع نہ کیا تو یہ کسانوں کے ساتھ کھلا دھوکہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے موجودہ پالیسی کو کسان دشمن قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے کسانوں کو ان کا جائز حق فراہم کریں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زراعت ملکی معیشت کی بنیاد ہے، اور کسانوں کو نظر انداز کرنے کے سنگین اثرات پوری معیشت پر مرتب ہوں گے۔

By gmbajwa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *