<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>غلام مرتضیٰ باجوہ</title>
	<atom:link href="https://www.znn.com.pk/tag/%D8%BA%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%8C%D9%B0-%D8%A8%D8%A7%D8%AC%D9%88%DB%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.znn.com.pk</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Thu, 11 Jun 2026 00:02:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>
	<item>
		<title>پنجاب پولیس: عوامی اعتماد، شفافیت اور خدمت کا روشن سفر</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2026 00:02:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[غلام مرتضیٰ باجوہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1444</guid>

					<description><![CDATA[<p>کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ریاستی نظم و نسق، عوامی اعتماد اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جب پولیس عوام کے مساءل کو ترجیح دے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور خود کو احتساب کے عمل سے وابستہ رکھے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/">پنجاب پولیس: عوامی اعتماد، شفافیت اور خدمت کا روشن سفر</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1100" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg" alt="" width="300" height="190" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa.jpeg 606w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ریاستی نظم و نسق، عوامی اعتماد اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جب پولیس عوام کے مساءل کو ترجیح دے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور خود کو احتساب کے عمل سے وابستہ رکھے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب پولیس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جدید اصلاحات، ڈیجیٹل سہولیات اور عوامی رابطے کے نظام کو بہتر بنا کر اس حقیقت کو عملی شکل دی ہے۔ بالخصوص آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کی کامیاب کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس عوامی خدمت اور شفافیت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔<br />
پنجاب پولیس کے آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کا قیام دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک مؤثر کوشش تھی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو یہ سہولت فراہم کی گءی کہ وہ پولیس سے متعلق کسی بھی شکایت، مسءلے یا تحفظات کو براہ راست اعلیٰ حکام تک پہنچا سکیں۔ اس نظام نے نہ صرف شہریوں کی آواز کو اہمیت دی بلکہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو بھی مسلسل نگرانی کے داءرے میں رکھا۔<br />
حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پنجاب پولیس نے آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 پر موصول ہونے والی 53 ہزار سے زاءد شکایات کو کامیابی سے حل کیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ اس امر کا عملی ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس عوامی مساءل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔ ہزاروں شہریوں کو انصاف کی فراہمی، شکایات کے بروقت ازالے اور انتظامی مساءل کے حل نے عوام کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔<br />
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی قیادت میں شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق تمام شکایات کو مقررہ ٹاءم لاءن اور ایس او پیز کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پنجاب پولیس صرف شکایات وصول کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کے حل کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔<br />
خصوصی طور پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلع پولیس افسران خود 1787 کمپلینٹ سسٹم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس سے شکایات کے حل میں نہ صرف تیزی آءی ہے بلکہ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط ہوا ہے۔ جب کسی ادارے کے سربراہان اور ضلعی افسران براہ راست نگرانی کریں تو ماتحت عملے کی کارکردگی میں بہتری آنا ایک فطری امر ہے۔<br />
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو مقدمات کے اندراج سے متعلق 25 ہزار سے زاءد شکایات کا حل اس بات کا ثبوت ہے کہ شہریوں کو انصاف تک رساءی فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوءی ہے۔ ماضی میں اکثر شکایات سامنے آتی تھیں کہ بعض مقدمات درج نہیں کیے جاتے یا ان میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے، لیکن اب اس حوالے سے مؤثر نگرانی اور بروقت کاررواءی نے صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔<br />
اسی طرح سست تفتیش سے متعلق تقریباً 13 ہزار شکایات کا ازالہ بھی ایک اہم کامیابی ہے۔ تفتیش کا بروقت اور شفاف ہونا انصاف کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تفتیشی عمل میں تاخیر کم ہو اور متعلقہ افسران جوابدہ ہوں تو نہ صرف متاثرہ فریق کو ریلیف ملتا ہے بلکہ ملزمان کے خلاف قانونی کاررواءی بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھتی ہے۔<br />
پولیس سروسز اور محکمانہ امور سے متعلق ہزاروں شکایات کا حل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محکمہ اپنی اندرونی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات کے معیار کو بھی بلند کر رہا ہے۔ عوامی خدمت کا اصل مقصد شہریوں کے مساءل کو آسانی سے حل کرنا اور ان کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے، جس میں پنجاب پولیس کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتی دکھاءی دیتی ہے۔<br />
ملزمان کی گرفتاری، ریکوری اور ناقص تفتیش سے متعلق شکایات کے حل نے بھی پولیس کے مؤثر کردار کو اجاگر کیا ہے۔ جراءم کے خلاف کاررواءی صرف مقدمہ درج کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ملزمان کی گرفتاری، مسروقہ سامان کی برآمدگی اور مکمل تفتیش بھی اسی عمل کا اہم حصہ ہیں۔ ان شعبوں میں ہزاروں شکایات کے ازالے سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس نتاءج پر مبنی کارکردگی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔<br />
جھوٹے مقدمات کی منسوخی اور تبدیلی تفتیش سے متعلق شکایات کے حل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اقدامات شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ جب کسی شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی شکایت سنی جاءے گی اور اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوءی ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے، تو اس کا اعتماد ریاستی اداروں پر مزید مستحکم ہوتا ہے۔<br />
آج کے دور میں عوامی اعتماد کسی بھی ادارے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پنجاب پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مؤثر شکایتی نظام کے ذریعے یہ اعتماد حاصل کرنے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 1787 کمپلینٹ سنٹر اسی سوچ کا عملی اظہار ہے جہاں شہری بلا خوف و جھجھک اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں اور ان کے حل کی پیش رفت سے بھی آگاہ رہتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابل ستاءش ہے کہ پنجاب پولیس خود احتسابی کے اصول کو فروغ دے رہی ہے۔ عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی پولیس اہلکار یا افسر کے رویے، کارکردگی یا کسی کاررواءی سے متعلق شکایت ہو تو اسے بلاجھجھک رپورٹ کیا جاءے۔ ایک ایسا ادارہ جو اپنے خلاف شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے خود پلیٹ فارم مہیا کرے، یقیناً شفافیت اور عوامی خدمت کے اعلیٰ معیار کی طرف گامزن ہوتا ہے۔<br />
ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری بھی اس نظام سے بھرپور استفادہ کریں۔ شکایات کے اندراج میں ذمہ داری اور درست معلومات کی فراہمی سے اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بناءی جا سکتی ہے۔ عوام اور پولیس کے درمیان تعاون کا مضبوط رشتہ ہی ایک پرامن، محفوظ اور قانون پسند معاشرے کی ضمانت ہے۔<br />
بلاشبہ پنجاب پولیس کی حالیہ کارکردگی، بالخصوص آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کے ذریعے 53 ہزار سے زاءد شکایات کا بروقت حل، ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف محکمہ پولیس کی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاس ہے بلکہ عوامی اعتماد کے بڑھتے ہوءے رجحان کی بھی علامت ہے۔ اگر یہی جذبہ، شفافیت اور جوابدہی برقرار رہی تو پنجاب پولیس عوامی خدمت اور قانون کی بالادستی کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی اور شہریوں کا اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/">پنجاب پولیس: عوامی اعتماد، شفافیت اور خدمت کا روشن سفر</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گندم پالیسی: غذائی تحفظ کی جانب اہم قدم</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%82%d8%af%d9%85/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%82%d8%af%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Jun 2026 00:08:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[غلام مرتضیٰ باجوہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1435</guid>

					<description><![CDATA[<p>پنجاب پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے والا سب سے بڑا زرعی صوبہ ہے۔ ملک کی مجموعی گندم پیداوار میں پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ ہے، اسی لیے صوبے میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا استحکام نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کی معاشی اور سماجی صورتحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حالیہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%82%d8%af%d9%85/">گندم پالیسی: غذائی تحفظ کی جانب اہم قدم</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1100" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg" alt="" width="300" height="190" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa.jpeg 606w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>پنجاب پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے والا سب سے بڑا زرعی صوبہ ہے۔ ملک کی مجموعی گندم پیداوار میں پنجاب کا حصہ سب سے زیادہ ہے، اسی لیے صوبے میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کا استحکام نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک کی معاشی اور سماجی صورتحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ خصوصی ویڈیو لنک اجلاس میں گندم اور آٹے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ایسے اہم فیصلے کیے گئے جن کے مثبت اثرات عام شہریوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔اجلاس میں پاسکو سے دس لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا گیا، جسے موجودہ حالات میں ایک بروقت اور دانشمندانہ اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد صوبے میں آٹے اور گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا اور عوام کو سستی روٹی اور سستا آٹا فراہم کرنا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں خوراک کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی کم آمدنی والے طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے، اس لیے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ بنیادی غذائی اشیاء کی دستیابی اور مناسب نرخ کو یقینی بنائے۔<br />
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس میں واضح کیا کہ عوامی مفاد ہر فیصلے کا محور ہونا چاہیے۔ اسی سوچ کے تحت فلور ملوں کو 3300 روپے فی من کے حساب سے گندم فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس اقدام سے فلور ملوں کے لیے خام مال کی دستیابی آسان ہوگی جبکہ آٹے کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکومت کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت صرف انتظامی اقدامات تک محدود نہیں بلکہ عوامی ریلیف کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو مہنگائی، موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی معاشی دباؤ جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں زرعی اجناس خصوصاً گندم کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا آسان کام نہیں۔ اس کے باوجود پنجاب حکومت نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متوازن حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ دراصل مارکیٹ میں سپلائی کو بہتر بنانے اور ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش ہے۔<br />
اجلاس میں ایک اہم پہلو صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل کے حوالے سے بھی زیر غور آیا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پنجاب سے دیگر صوبوں خصوصاً خیبرپختونخوا اور سندھ کو گندم کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ تاہم اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ایسے دعوؤں کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ مزید یہ کہ سندھ کی جانب سے گندم کی فراہمی روکنے کے حوالے سے کسی قسم کی شکایت بھی رپورٹ نہیں ہوئی۔یہ وضاحت نہایت اہم ہے کیونکہ بعض اوقات افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات نہ صرف مارکیٹ میں بے چینی پیدا کرتی ہیں بلکہ صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی جنم دیتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے حقائق پر مبنی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس تاثر کی نفی کی کہ گندم کی بین الصوبائی ترسیل کو جان بوجھ کر محدود کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت معاملات کو شفافیت کے ساتھ آگے بڑھانے پر یقین رکھتی ہے۔<br />
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پنجاب میں گندم کے سٹاک ڈکلیئر کرنے کا عمل جاری ہے اور مکمل ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی مؤثر غذائی پالیسی کے لیے درست اعداد و شمار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب حکومت کے پاس گندم کے ذخائر، پیداوار اور طلب سے متعلق مکمل معلومات موجود ہوں گی تو مستقبل کے فیصلے زیادہ مؤثر اور حقیقت پسندانہ انداز میں کیے جا سکیں گے۔ موجودہ انتظامیہ کا ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی جانب رجحان ایک مثبت پیش رفت ہے۔رواں سال گندم کی فصل کے حوالے سے ایک اہم حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ دانہ نسبتاً چھوٹا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق موسمی حالات، درجہ حرارت میں تبدیلی اور دیگر عوامل فصل کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ کہ پہلے صوبے کی غذائی ضروریات کا درست اندازہ لگایا جائے اور پھر مستقبل کی حکمت عملی مرتب کی جائے، نہایت مناسب معلوم ہوتا ہے۔ غذائی تحفظ کے معاملے میں جلد بازی کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں۔<br />
وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت میں ہونے والے اجلاس کا ایک اور قابل ذکر پہلو بین الصوبائی یکجہتی کا عزم ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد خیبرپختونخوا کو گندم کی فراہمی کا فرض ضرور ادا کرے گا۔ یہ فیصلہ وفاقی وحدت اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کی علامت ہے۔ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں ایک صوبے کی خوشحالی دوسرے صوبوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔<br />
حقیقت یہ ہے کہ گندم صرف ایک زرعی جنس نہیں بلکہ قومی غذائی سلامتی کا ستون ہے۔ اگر اس کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام برقرار رہے تو عوام کو ریلیف ملتا ہے، مہنگائی کے دباؤ میں کمی آتی ہے اور معاشی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی حالیہ پالیسی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ گندم کی خریداری، فلور ملوں کو مناسب نرخ پر فراہمی، سٹاک کا شفاف ریکارڈ اور دیگر صوبوں کے ساتھ تعاون جیسے اقدامات مجموعی طور پر ایک متوازن حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں عوامی فلاح کے متعدد منصوبوں کو ترجیح دی ہے۔ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ پر خصوصی توجہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت بنیادی ضروریات کو نظر انداز نہیں کر رہی۔ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام کا براہ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے، اس لیے اس شعبے میں مؤثر فیصلوں کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔<br />
مستقبل میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گندم کی پیداوار بڑھانے، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ، کسانوں کی معاونت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے۔ اگر کسان خوشحال ہوگا تو زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور ملک غذائی اعتبار سے مزید مضبوط ہو سکے گا۔ ساتھ ہی شفاف نگرانی اور مارکیٹ مینجمنٹ کے ذریعے آٹے اور گندم کی قیمتوں کو عوام کی قوت خرید کے مطابق رکھنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے عوامی مفاد، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے تناظر میں اہمیت کے حامل ہیں۔ پاسکو سے گندم خریدنے، آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے اور بین الصوبائی تعاون کو فروغ دینے کے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عوامی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف پنجاب بلکہ پورا ملک اس کے مثبت ثمرات سے مستفید ہو سکتا ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%82%d8%af%d9%85/">گندم پالیسی: غذائی تحفظ کی جانب اہم قدم</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%d8%ba%d8%b0%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d9%81%d8%b8-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%82%d8%af%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کی اجتماعی جدوجہد</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/05/15/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%86%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/05/15/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%86%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 15 May 2026 08:56:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[غلام مرتضیٰ باجوہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1320</guid>

					<description><![CDATA[<p>معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر مضبوط ہوں تو قومیں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتی ہیں، لیکن جب یہی نوجوان منشیات جیسی لعنت کا شکار ہو جائیں تو معاشرہ زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/05/15/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%86%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/">نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کی اجتماعی جدوجہد</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1100 alignright" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg" alt="" width="300" height="190" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa.jpeg 606w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p style="text-align: right;">معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان ذہنی، جسمانی اور اخلاقی طور پر مضبوط ہوں تو قومیں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتی ہیں، لیکن جب یہی نوجوان منشیات جیسی لعنت کا شکار ہو جائیں تو معاشرہ زوال کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے، جس نے نہ صرف نوجوانوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ خاندانی نظام، تعلیمی ماحول اور معاشرتی اقدار کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور سماجی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نئی نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔<br />
لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس میں منعقد ہونے والی منشیات کے خلاف آگاہی تقریب اسی اجتماعی شعور اور قومی ذمہ داری کا ایک مثبت اظہار تھی۔ ڈرگ ایڈوائزری ٹریننگ حب کے اشتراک سے منعقدہ اس تقریب میں منشیات کے خلاف پوسٹرز کی نمائش کی گئی جبکہ“سموک اینڈ ڈرگ فری کیمپس”پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے۔ یہ تقریب صرف ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ نوجوان نسل کو محفوظ مستقبل دینے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔<br />
تقریب کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے کی جبکہ افتتاح ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے کیا۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات، اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر منشیات کے خلاف بنائے گئے پوسٹرز نے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اہم سماجی پیغام بھی دیا کہ منشیات صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے معاشرے کو تباہ کرتی ہیں۔<br />
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ضلعی انتظامیہ منشیات کے خلاف مختلف اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کا مقصد نوجوانوں کو اس خطرناک لعنت سے محفوظ رکھنا ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اگر نوجوان نسل کو بروقت شعور دیا جائے تو معاشرے کو بہت سی تباہ کاریوں سے بچایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔<br />
حقیقت یہ ہے کہ آج کا نوجوان بے شمار ذہنی دباؤ، معاشی مسائل اور سماجی الجھنوں کا شکار ہے۔ بعض اوقات غلط صحبت، بے روزگاری، مایوسی یا تفریح کے نام پر نوجوان منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں یہ محض ایک تجربہ محسوس ہوتا ہے مگر آہستہ آہستہ یہی عادت زندگی کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ منشیات نہ صرف انسان کی جسمانی صحت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، کردار اور معاشرتی تعلقات کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں منشیات کے خلاف شعور بیدار کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔<br />
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے کہا کہ طلبا کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان کے اس بیان میں ایک گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کی جگہ نہیں ہوتے بلکہ یہ نوجوانوں کی شخصیت سازی کے مراکز ہوتے ہیں۔ اگر تعلیمی ادارے طلبا کی اخلاقی تربیت، ذہنی رہنمائی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں تو نوجوان منفی سرگرمیوں سے دور رہ سکتے ہیں۔<br />
این سی اے میں منعقدہ پوسٹر نمائش نے بھی اس پیغام کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ فنونِ لطیفہ سے وابستہ طلبا نے اپنے تخلیقی خیالات کے ذریعے منشیات کے نقصانات کو تصویری شکل میں پیش کیا۔ کہیں ایک تباہ حال نوجوان کی تصویر تھی، کہیں بکھرتے خاندان کی جھلک، تو کہیں ایک روشن مستقبل کے بجھتے چراغ کی عکاسی کی گئی تھی۔ یہ پوسٹرز محض فن پارے نہیں تھے بلکہ معاشرے کے لیے ایک خاموش مگر طاقتور پیغام تھے۔تقریب میں“سموک اینڈ ڈرگ فری کیمپس”کے دوسرے مرحلے کے لیے سید ذوالفقار حسین اور بشرہ سعید کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی اداروں میں ایک ایسا ماحول قائم کرنا ہے جہاں طلبا خود کو محفوظ، پُراعتماد اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف محسوس کریں۔ ایسی مہمات اس لیے بھی ضروری ہیں کیونکہ نوجوانوں کو صرف منشیات کے نقصانات بتانا کافی نہیں بلکہ انہیں متبادل مثبت سرگرمیاں فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔<br />
معاشرے میں منشیات کے خاتمے کے لیے والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ والدین اپنی مصروفیات کے باعث بچوں کی سرگرمیوں پر مکمل توجہ نہیں دے پاتے۔ نوجوان کن دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، ان کی ذہنی کیفیت کیا ہے اور وہ کن مسائل کا شکار ہیں، ان امور پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ ایک مضبوط خاندانی نظام نوجوان کو ہر برائی سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔اسی طرح میڈیا بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ادا کر سکتا ہے۔ اگر ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا پر مثبت پیغام کو فروغ دیا جائے اور منشیات کے نقصانات کو حقیقت پسندانہ انداز میں اجاگر کیا جائے تو نوجوانوں میں شعور پیدا کیا جا سکتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا نوجوان نسل پر گہرا اثر رکھتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس پلیٹ فارم کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔<br />
منشیات کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، مستقل آگاہی اور سماجی تعاون ناگزیر ہے۔ تعلیمی اداروں میں سیمینارز، واکس، پوسٹر مقابلے، تھیٹر پرفارمنسز اور مشاورتی سیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو مثبت سمت دی جا سکتی ہے۔ لاہور میں منعقد ہونے والی یہ تقریب اسی سوچ کی عکاس تھی کہ اگر تمام ادارے متحد ہو جائیں تو نئی نسل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔<br />
ضرورت اس امر کی ہے کہ منشیات کے خلاف مہم کو وقتی سرگرمی کے بجائے ایک مستقل قومی مشن بنایا جائے۔ حکومت، تعلیمی ادارے، والدین، میڈیا اور سماجی تنظیمیں اگر مل کر کام کریں تو یقینی طور پر ایک صحت مند، باصلاحیت اور باشعور نسل پروان چڑھ سکتی ہے۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، اور ان کا محفوظ مستقبل ہی دراصل پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/05/15/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%86%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/">نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کی اجتماعی جدوجہد</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/05/15/%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86-%d9%86%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%88-%d9%85%d9%86%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%ac%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%b9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
