<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title></title>
	<atom:link href="https://www.znn.com.pk/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.znn.com.pk</link>
	<description></description>
	<lastBuildDate>Fri, 19 Jun 2026 11:47:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>
	<item>
		<title>جب انسان خود سے ملتا ہے ۔۔۔!</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Jun 2026 11:47:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1573</guid>

					<description><![CDATA[<p>انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نگاہ آسمان میں کسی گمشدہ شے کو تلاش کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے عمارتیں بناتا ہے، سمندروں کو چیرتا ہے، پہاڑوں کے سینے میں سرنگیں کھودتا ہے، ستاروں تک رسائی کے خواب دیکھتا ہے، لیکن پھر بھی رات کے کسی [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/">جب انسان خود سے ملتا ہے ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>انسان ایک عجیب مخلوق ہے۔ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی نگاہ آسمان میں کسی گمشدہ شے کو تلاش کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے عمارتیں بناتا ہے، سمندروں کو چیرتا ہے، پہاڑوں کے سینے میں سرنگیں کھودتا ہے، ستاروں تک رسائی کے خواب دیکھتا ہے، لیکن پھر بھی رات کے کسی پہر اچانک جاگ کر خود سے پوچھتا ہے،<br />
’’میں کون ہوں؟‘‘<br />
یہ سوال اتنا ہی پرانا ہے جتنا انسان خود۔<br />
تہذیبیں بدل گئیں ، زمانے گزر گئے ، علم نے بے شمار منزلیں طے کیں ، مگر انسان کے اندر اٹھنے والا یہ سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ زندہ ہے۔ شاید اسی لیے انسان کی سب سے بڑی جستجو کائنات کو جاننے سے پہلے خود کو جاننا ہے۔<br />
عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے کائنات کے بے شمار راز دریافت کر لیے ہیں۔<br />
وہ جانتا ہے کہ سورج زمین سے کتنے فاصلے پر ہے، ستارے کس رفتار سے گردش کرتے ہیں، جسم کے اندر خون کس نظام کے تحت رواں رہتا ہے اور ایک ننھا سا خلیہ کس طرح ایک مکمل انسان کی صورت اختیار کرتا ہے۔ سائنس نے مشاہدے، تجربے اور عقل کی مدد سے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں۔<br />
آج انسان مصنوعی ذہانت تخلیق کر رہا ہے، جینیاتی علوم میں نئی راہیں کھول رہا ہے اور اربوں نوری سال دور کہکشاؤں کی تصاویر حاصل کر رہا ہے۔<br />
مگر سوال یہ ہے کہ کیا انسان نے خود کو جان لیا ہے ؟<br />
&#8220;شاید نہیں &#8221;<br />
کیونکہ جوں جوں علم بڑھتا ہے، حیرت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ پہلے انسان آسمان کو دیکھ کر حیران ہوتا تھا، اب وہ ایٹم کو دیکھ کر حیران ہے۔ پہلے وہ ستاروں کے راز پوچھتا تھا، اب شعور کے اسرار جاننا چاہتا ہے۔ سائنس اسے بتاتی ہے کہ دل کیسے دھڑکتا ہے، مگر یہ نہیں بتا پاتی کہ کس کے لیے دھڑکتا ہے ۔ وہ دماغ کے خلیات کی سرگرمی ریکارڈ کر لیتی ہے، مگر خواب کی معنویت اور احساس کی گہرائی کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتی۔</p>
<p>ٹچ موبائل ہی کو لے لیجیے۔ اکثریتی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید صرف کالز، آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کے استعمال کا ریکارڈ ہی محفوظ کیا جا سکتا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں آگے جا چکی ہے۔ ہمارے قریب رکھا ہوا موبائل ہماری سرگرمیوں، ترجیحات، نقل و حرکت اور روزمرہ معمولات کا مسلسل ریکارڈ مرتب کرتا رہتا ہے۔ بظاہر یہ ایک خاموش آلہ ہے، مگر درحقیقت معلومات کا ایک متحرک خزانہ ہے۔ انسان کی زندگی کے بے شمار نقوش اس میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں۔<br />
یہ منظر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب انسان کی بنائی ہوئی مشینیں اتنا کچھ محفوظ رکھ سکتی ہیں تو پھر اس کائنات کے خالق کے نظامِ حساب میں کسی عمل، کسی لفظ اور کسی نیت کا محفوظ رہ جانا کیوں ناممکن ہو ؟<br />
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدید سائنسی ایجادات غیر محسوس طور پر انسان کو یومِ حساب کے اس تصور کے قریب لے جا رہی ہیں جس کے مطابق انسان کا کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا بلکہ ایک نہ ایک صورت میں محفوظ رہتا ہے۔<br />
یہیں سے انسان کے سامنے ایک اور دروازہ کھلتا ہے۔ وہ دروازہ فلسفے کا ہے۔<br />
فلسفہ انسان سے پوچھتا ہے کہ اگر ہر شے کی ایک علت ہے تو خود علتِ اولیٰ کیا ہے؟<br />
اگر کائنات ایک عظیم نظم کے تحت چل رہی ہے تو اس نظم کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اگر شعور صرف مادّے کی پیداوار ہے تو پھر انسان حق و باطل، خیر و شر اور حسن و قبح کا ادراک کیوں رکھتا ہے؟<br />
فلسفہ جواب کم دیتا ہے اور سوال زیادہ پیدا کرتا ہے ، لیکن یہی سوال انسان کو اپنی ظاہری زندگی سے اٹھا کر باطنی زندگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے آپ سے ملنے لگتا ہے۔<br />
یہیں سے دین کا سفر شروع ہوتا ہے۔<br />
دین انسان کو سوال کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسے غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔<br />
قرآنِ حکیم بار بار انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کے الٹ پھیر ، بارش کے نزول اور خود اپنی پیدائش میں غور کرنے کی تلقین کرتا ہے۔<br />
گویا کائنات ایک کھلی کتاب ہے اور انسان اس کا قاری ۔<br />
فرق صرف اتنا ہے کہ سائنس نشانی کو دیکھتی ہے جبکہ دین نشانی کے پیچھے موجود معنی کو تلاش کرتا ہے۔<br />
ایک سائنس دان درخت کو نباتاتی نظام کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ ایک صاحبِ دل اسے قدرت کی ایک نشانی سمجھتا ہے۔ دونوں غلط نہیں، دونوں اپنے اپنے زاویۂ نگاہ سے درست ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایک زاویہ دوسرے کو مکمل طور پر رد کرنے لگتا ہے۔<br />
حقیقت یہ ہے کہ انسان دو جہانوں کا مسافر ہے۔ اس کا جسم مٹی سے بنا ہے اور اس کی روح کسی اور جہان کی امانت ہے۔<br />
جسم قوانینِ فطرت کا پابند ہے، مگر روح آزادی ، محبت ، خوف ، امید اور جستجو کے ایسے تجربات سے گزرتی ہے جنہیں محض پیمانوں اور اعداد و شمار سے نہیں ناپا جا سکتا۔<br />
شاید اسی لیے انسان کبھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔<br />
اس کے پاس دولت آ جائے تو وہ سکون تلاش کرتا ہے، شہرت مل جائے تو تنہائی محسوس کرتا ہے، طاقت حاصل ہو جائے تو کسی نامعلوم کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ گویا انسان کے اندر ایک ایسی پیاس رکھی گئی ہے جو دنیا کی کسی نہر سے نہیں بجھتی۔<br />
صوفیا نے اسے روح کی پیاس کہا، فلسفیوں نے وجودی سوال کا نام دیا اور ماہرینِ نفسیات نے اسے انسانی شعور کی گہرائیوں سے تعبیر کیا۔ الفاظ بدلتے رہے، مگر حقیقت ایک ہی رہی۔<br />
انسان اپنے اندر کسی گمشدہ شے کی تلاش میں ہے۔<br />
شاید اسی تلاش کا نام &#8221; زندگی &#8221; ہے۔<br />
جب انسان صرف باہر کی دنیا میں گم ہو جاتا ہے تو مشین بننے لگتا ہے، اور جب صرف اندر کی دنیا میں کھو جاتا ہے تو حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ اصل حکمت ان دونوں کے درمیان پل تعمیر کرنے میں ہے۔ علم اور ایمان، عقل اور دل، مشاہدہ اور ادراک ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔<br />
کائنات کا ہر ذرہ ایک سوال بھی ہے اور ایک جواب بھی۔ ایک بیج سوال ہے کہ اس کے اندر درخت کیسے پوشیدہ ہے، اور درخت جواب ہے کہ قدرت کس طرح خاموشی سے اپنا کام کرتی ہے۔ انسان بھی ایک ایسا ہی معمہ ہے۔ وہ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔<br />
اسی لیے زندگی کی سب سے بڑی دانائی شاید یہ نہیں کہ انسان ہر سوال کا جواب حاصل کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سوال کے ساتھ جینا سیکھ لے، کیونکہ بعض سوالات جواب کے لیے نہیں ہوتے، بیداری کے لیے ہوتے ہیں۔<br />
جس دن انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا علم محدود ہے اور حقیقت اس کی گرفت سے کہیں زیادہ وسیع، اسی دن اس کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اکثر اوقات حقیقت کے دروازے علم سے زیادہ عاجزی پر کھلتے ہیں۔<br />
آخرکار انسان ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں اسے احساس ہوتا ہے کہ اندر کا سوال کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا اور باہر کا جواب کبھی مکمل طور پر کافی نہیں ہوگا۔ ان دونوں کے درمیان جو خاموش مکالمہ جاری ہے، وہی انسان کی اصل زندگی ہے۔<br />
شاید انسان کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ وہ جوابوں کا نہیں، تلاش کا مسافر ہے۔ وہ جتنا باہر کی دنیا کو دریافت کرتا ہے، اتنا ہی اپنے باطن کی وسعتوں سے آشنا ہوتا جاتا ہے۔ ہر دریافت اسے ایک نئے سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے اور ہر سوال اسے اپنی محدودیت کا احساس دلاتا ہے۔<br />
اور شاید خود شناسی کا آغاز بھی اسی مقام سے ہوتا ہے۔ جب انسان کائنات کی وسعتوں میں بھٹکنے کے بعد پلٹ کر اپنے اندر جھانکتا ہے، جب وہ علم کی بلندیوں سے اتر کر عاجزی کی زمین پر قدم رکھتا ہے، جب وہ باہر کے شور سے نکل کر اپنے باطن کی آواز سنتا ہے، تب پہلی بار اس کا سامنا اپنے حقیقی وجود سے ہوتا ہے۔<br />
اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے ،<br />
&#8220;جب انسان خود سے ملتا ہے&#8221; ۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/">جب انسان خود سے ملتا ہے ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/19/%d8%ac%d8%a8-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92-%db%94%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 18 Jun 2026 10:52:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1565</guid>

					<description><![CDATA[<p>زمانے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اندھیرے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں نے اندھیروں کو روشنی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ جب قومیں اپنی فکری سمت کھونے لگتی ہیں تو ان کے بازار آباد ہو جاتے ہیں مگر اذہان ویران ہونے لگتے ہیں۔ شور بڑھ جاتا ہے مگر معنی [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/">چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>زمانے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ اندھیرے بڑھ گئے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ لوگوں نے اندھیروں کو روشنی سمجھنا شروع کر دیا ہے۔<br />
جب قومیں اپنی فکری سمت کھونے لگتی ہیں تو ان کے بازار آباد ہو جاتے ہیں مگر اذہان ویران ہونے لگتے ہیں۔ شور بڑھ جاتا ہے مگر معنی کم ہو جاتے ہیں۔<br />
لفظ باقی رہتے ہیں مگر ان کے اندر کی روح رخصت ہونے لگتی ہے۔<br />
یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تہذیب کے چراغ مدھم پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>ہر دور کی شناخت اس کے علم، ادب اور فکر سے ہوتی ہے۔ عمارتیں، سڑکیں اور بازار کسی قوم کی مادی ترقی کا پتہ دیتے ہیں، مگر اس کے ادب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کی روح کس حال میں ہے۔<br />
ادب دراصل کسی معاشرے کے باطن کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب آئینہ دھندلا جائے تو چہرے بھی اپنی اصل صورت کھو دیتے ہیں۔<br />
آج کا انسان معلومات کے سمندر میں کھڑا ہے مگر معرفت کی بوند کو ترس رہا ہے۔ اس کے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر مکالمہ ناپید ہوتا جا رہا ہے۔<br />
وہ بولتا بہت ہے مگر سنتا کم ہے۔ وہ جانتا بہت کچھ ہے مگر سمجھتا کم ہے۔<br />
شاید اسی لیے جدید انسان کی سب سے بڑی محرومی علم کی کمی نہیں بلکہ حکمت کی کمی ہے۔</p>
<p>یہ وہ عہد ہے جہاں ہر شخص اپنی آواز بلند کرنا چاہتا ہے مگر بہت کم لوگ اپنے اندر کی خاموشی کو سننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انسان کی اصل تعمیر شور میں نہیں، سکوت میں ہوتی ہے۔ دریا شور نہیں مچاتے، پھر بھی زندگی بانٹتے ہیں۔ درخت آواز نہیں کرتے، پھر بھی سایہ دیتے ہیں۔ سورج اعلان نہیں کرتا، پھر بھی روشنی پھیلاتا ہے۔ لیکن ہم نے ایسا زمانہ بنا لیا ہے جہاں نمود خدمت سے بڑی اور شہرت کردار سے زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے۔<br />
ادب کا تعلق ہمیشہ انسان کے باطن سے رہا ہے۔<br />
ادب نے صرف کہانیاں نہیں سنائیں بلکہ تہذیبوں کی تربیت کی ہے۔ اس نے انسان کو آئینہ دیا تاکہ وہ دوسروں سے پہلے خود کو دیکھ سکے۔ ادب نے سوال پیدا کیے تاکہ انسان جواب تلاش کرے۔ اس نے اضطراب دیا تاکہ شعور بیدار ہو۔ ادب نے کبھی ہجوم کی پیروی نہیں کی بلکہ ہجوم کو راستہ دکھایا ہے۔<br />
لیکن جب ادب بھی بازار کی منطق قبول کر لیتا ہے تو اس کی حیثیت بدل جاتی ہے۔ پھر تحریر فکر کی امانت نہیں رہتی بلکہ توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لفظ سچائی کے سفیر نہیں رہتے بلکہ مقبولیت کے مسافر بن جاتے ہیں۔<br />
اس مرحلے پر ادب زندہ تو رہتا ہے مگر اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔<br />
اصل ادیب وہ نہیں جو صرف لکھنا جانتا ہو بلکہ وہ ہے جو اپنے عہد کی نبض پہچانتا ہو۔ قلم محض انگلیوں سے نہیں چلتا، یہ دل، دماغ اور ضمیر کے اشتراک سے حرکت میں آتا ہے۔ اگر ضمیر سو جائے تو قلم جاگتے ہوئے بھی سو جاتا ہے۔ اگر احساس مر جائے تو الفاظ زندہ رہ کر بھی مردہ ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>آج تفریح انسانی ضرورت سے بڑھ کر انسانی ترجیح بن چکی ہے۔ تفریح میں کوئی برائی نہیں، مگر جب تفریح فکر کی جگہ لے لے تو مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔<br />
جب ہنسی حکمت پر غالب آ جائے ، جب طنز دلیل کا متبادل بن جائے اور جب سنجیدگی کو کمزوری سمجھا جانے لگے تو معاشرہ<br />
آہستہ آہستہ اپنی فکری بنیادوں سے دور ہونے لگتا ہے۔<br />
اسی رجحان نے میڈیا، اسٹیج اور ٹی وی ڈراموں کی دنیا کو بھی ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ غیر معیاری مواد، سطحی مزاح اور غیر سنجیدہ کرداروں کی بھرمار نے نئی نسل کے ذوق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بعض ہدایت کار اور اداکار ایسے مناظر اور رویے پیش کر رہے ہیں جن میں وقتی شہرت تو مل جاتی ہے مگر فکری تربیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان نسل کا ایک بڑا حصہ سنجیدہ مطالعے، اخلاقی اقدار اور ادبی ذوق سے دور ہوتا جا رہا ہے۔<br />
کردار سازی کی جگہ صرف منظر سازی رہ گئی ہے، اور فکر کی جگہ صرف تاثر۔</p>
<p>یہاں سوال یہ ہے کہ کیا معاشرے کو محض تفریح ہی درکار ہے یا تہذیب بھی؟<br />
کیا کامیابی کا معیار صرف ناظرین کی تعداد ہے یا ان کی فکری سطح بھی؟<br />
اگر نئی نسل کو صرف ہنسی، شور اور سطحی مکالمے ہی دیے جائیں تو پھر سوچنے، سمجھنے اور خود کو پہچاننے کی صلاحیت کیسے باقی رہے گی؟<br />
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ریاست، حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ میڈیا کے معیار اور ثقافتی سمت پر سنجیدہ توجہ دیں، تاکہ تہذیبی بگاڑ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>اس ضمن میں دنیا کی کچھ مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ قطر نے فٹبال کے عالمی ایونٹ کی میزبانی کے دوران یہ عملی پیغام دیا کہ ایک بڑا اور عالمی سطح کا پروگرام بھی اخلاقی اور ثقافتی اصولوں کے ساتھ کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے۔ اس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ غیر ضروری اشتہاری شور، سطحی نمائش اور اخلاقی بے راہ روی کے بغیر بھی بڑے ایونٹس نہ صرف کامیاب ہوتے ہیں بلکہ زیادہ باوقار اور یادگار بھی بن سکتے ہیں۔<br />
یہ طرزِ عمل اس سوچ کی تردید ہے کہ ترقی صرف بے لگام اظہار اور بے حد آزادی سے مشروط ہے۔<br />
تہذیب کا زوال ہمیشہ تلواروں سے نہیں آتا۔ بعض اوقات قومیں قہقہوں میں بھی اپنی سنجیدگی کھو دیتی ہیں۔<br />
بعض اوقات عمارتیں سلامت رہتی ہیں مگر اقدار منہدم ہو جاتی ہیں۔<br />
بعض اوقات کتابیں موجود ہوتی ہیں مگر مطالعہ مر جاتا ہے۔<br />
اور بعض اوقات ادیب موجود ہوتے ہیں مگر ادب غائب ہو جاتا ہے۔<br />
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ادب محض الفاظ کا ہنر نہیں بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ لفظوں کے ذریعے انسان کے باطن تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ ایک اچھی تحریر صرف پڑھی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ہے۔ وہ قاری کے ذہن میں سوال اور دل میں روشنی پیدا کرتی ہے۔ ادب اگر انسان کو اپنے آپ سے نہ ملا سکے تو پھر وہ محض عبارت رہ جاتا ہے، بصیرت نہیں بنتا۔</p>
<p>تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اہلِ فکر اور اہلِ قلم کی قدر کی، انہوں نے زمانے کی تاریکیوں میں بھی اپنا راستہ تلاش کر لیا۔ اور جن قوموں نے فکر کے چراغ بجھا دیے، وہ دولت اور طاقت کے باوجود فکری انتشار کا شکار ہو گئیں۔ اس لیے قلم کی ذمہ داری محض لکھنا نہیں بلکہ راستہ دکھانا بھی ہے۔<br />
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ زیادہ لکھا جائے، بلکہ یہ ہے کہ زیادہ سچ لکھا جائے۔ زیادہ بولا نہیں جائے بلکہ زیادہ سوچا جائے۔<br />
زیادہ مشہور ہونے کی بجائے زیادہ مؤثر بنا جائے۔ کیونکہ شہرت کا سفر مختصر ہوتا ہے جبکہ اثر کا سفر نسلوں تک جاری رہتا ہے۔<br />
معاشرے کی اصل دولت اس کے بینک نہیں بلکہ اس کے خیالات ہوتے ہیں۔ قوموں کی اصل طاقت ان کے ہتھیار نہیں بلکہ ان کے نظریات ہوتے ہیں۔ اور تہذیب کی اصل حفاظت اس کی سرحدیں نہیں بلکہ اس کا ادب کرتا ہے۔ جب ادب کمزور پڑ جائے تو تہذیب یتیم ہونے لگتی ہے۔</p>
<p>آج بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔<br />
آج بھی چراغِ ادب مکمل طور پر بجھا نہیں۔<br />
اس کی لو اگرچہ ہوا کے تیز جھونکوں سے لرز رہی ہے مگر ابھی روشن ہے۔<br />
ضرورت صرف اتنی ہے کہ اہلِ قلم اپنی ذمہ داری کو پہچانیں، اہلِ علم اپنی روایت سے جڑیں اور اہلِ ذوق اپنی فکری میراث کی حفاظت کریں۔<br />
چراغ کبھی سورج نہیں ہوتا، مگر اندھیروں کے خلاف سب سے پہلی مزاحمت ضرور ہوتا ہے۔ ادب بھی ایسا ہی چراغ ہے۔ جب تک یہ روشن ہے، امید باقی ہے۔ لیکن اگر یہ چراغ مدھم پڑ گیا تو عہدِ زوال صرف کتابوں کا موضوع نہیں رہے گا بلکہ ہماری اجتماعی حقیقت بن جائے گا۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/">چراغِ ادب اور عہدِ زوال ۔۔۔!</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/18/%da%86%d8%b1%d8%a7%d8%ba%d9%90-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%db%81%d8%af%d9%90-%d8%b2%d9%88%d8%a7%d9%84-%db%94%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>متعدد کاروباری شعبوں پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس نافذ</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-25-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d9%81%da%a9%d8%b3/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-25-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d9%81%da%a9%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 17 Jun 2026 17:21:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[قومی خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[TEX]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1553</guid>

					<description><![CDATA[<p>حکومت کی جانب سے مختلف کاروباری اور خدماتی شعبوں پر 25 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس عائد کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس فہرست میں تعمیرات، خوراک، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دیگر سروس سیکٹرز سے وابستہ کاروبار شامل ہیں۔ فکس ٹیکس کے دائرہ کار میں عمارتوں کی تعمیر، بیکریاں، کنفیکشنری شاپس، ٹریول ایجنسیاں، ٹیکنیکل [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-25-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d9%81%da%a9%d8%b3/">متعدد کاروباری شعبوں پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس نافذ</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p data-start="156" data-end="368"><img decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1554" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/tex-300x211.jpg" alt="" width="300" height="211" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/tex-300x211.jpg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/tex-1024x720.jpg 1024w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/tex-768x540.jpg 768w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/tex.jpg 1066w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p data-start="156" data-end="368">حکومت کی جانب سے مختلف کاروباری اور خدماتی شعبوں پر 25 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس عائد کیے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس فہرست میں تعمیرات، خوراک، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دیگر سروس سیکٹرز سے وابستہ کاروبار شامل ہیں۔</p>
<p data-start="370" data-end="579">فکس ٹیکس کے دائرہ کار میں عمارتوں کی تعمیر، بیکریاں، کنفیکشنری شاپس، ٹریول ایجنسیاں، ٹیکنیکل و ووکیشنل تعلیمی ادارے، ہوٹل سروسز، ریستوران، میرج ہالز، بینکوئٹ ہالز، مارکیز، کیٹرنگ سروسز اور پٹرول پمپس شامل ہیں۔</p>
<p data-start="581" data-end="845">اسی طرح ڈیپارٹمنٹل سٹورز، جنرل و کریانہ سٹورز، دودھ کی دکانیں، آئس کریم شاپس، نان شاپس، فوڈ پوائنٹس، جوس کارنرز، چائے کے سٹالز، برگر و شوارما پوائنٹس، ڈھابے، گول گپہ سٹالز، فوڈ ٹرکس، آن لائن کچن اور آن لائن فوڈ سروس فراہم کرنے والے کاروبار بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔</p>
<p data-start="581" data-end="845">
<p data-start="581" data-end="845"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1557" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-17-at-10.08.46-PM-211x300.jpeg" alt="" width="211" height="300" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-17-at-10.08.46-PM-211x300.jpeg 211w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-17-at-10.08.46-PM.jpeg 720w" sizes="auto, (max-width: 211px) 100vw, 211px" /></p>
<p data-start="847" data-end="1046">تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات پر قائم کینٹینز، جن میں سکول، کالج، یونیورسٹی، ہسپتال، پارکس، ٹرانسپورٹ سٹیشنز، فیکٹریوں اور ہاسٹلز کی کینٹینز و میس شامل ہیں، ان پر بھی 25 ہزار روپے فکس ٹیکس لاگو ہوگا۔</p>
<p data-start="1048" data-end="1183">علاوہ ازیں دودھ اور گوشت کی ترسیل سے وابستہ مختلف گاڑیاں، رکشے، پک اپس، ٹرک، ٹینکرز اور موٹر سائیکلیں بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کی گئی ہیں۔</p>
<p data-start="1185" data-end="1422" data-is-last-node="" data-is-only-node="">کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ فکس ٹیکس کے نفاذ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا، جبکہ حکومتی مؤقف کے مطابق اس اقدام کا مقصد کاروباری سرگرمیوں کو باقاعدہ دستاویزی نظام میں لانا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-25-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d9%81%da%a9%d8%b3/">متعدد کاروباری شعبوں پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس نافذ</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%d9%88%da%ba-%d9%be%d8%b1-25-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d9%81%da%a9%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر 9 ملزمان گرفتار</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%be%d8%b1-9-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%be%d8%b1-9-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 17 Jun 2026 12:24:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[Wildlife Conservation Department]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1549</guid>

					<description><![CDATA[<p>لاہور (خصوصی نماءندہ)سینءر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیر قیادت محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب صوبہ بھر میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے غیر قانونی شکار، قبضے اور تجارت کے خلاف بلاامتیاز کاررواءیاں جاری رکھے ہوءے ہے۔ مختلف اضلاع میں کی گءی کاررواءیوں کے دوران 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%be%d8%b1-9-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7/">جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر 9 ملزمان گرفتار</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1550" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/Pic-for-ho.-337-2-300x133.jpeg" alt="" width="300" height="133" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/Pic-for-ho.-337-2-300x133.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/Pic-for-ho.-337-2-768x340.jpeg 768w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/Pic-for-ho.-337-2.jpeg 805w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>لاہور (خصوصی نماءندہ)سینءر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیر قیادت محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب صوبہ بھر میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کے غیر قانونی شکار، قبضے اور تجارت کے خلاف بلاامتیاز کاررواءیاں جاری رکھے ہوءے ہے۔ مختلف اضلاع میں کی گءی کاررواءیوں کے دوران 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ 4 افراد کے خلاف مقدمات درج اور 5 ملزمان کو مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ عاءد کیا گیا۔محکمہ کے مطابق لاہور ریجن سمیت ننکانہ صاحب، قصور، جہلم اور بھکر میں کاررواءیاں کی گءیں۔ ایڈیشنل چیف واءلڈ لاءف رینجر سنٹرل زون مدثر حسن اور ڈپٹی چیف واءلڈ لاءف رینجر لاہور ریجن سخی محمد جوءیہ کی ہدایت پر اسسٹنٹ چیف واءلڈ لاءف رینجر ننکانہ عاءشہ صالح نے اپنی ٹیم کے ہمراہ عام مینا کی غیر قانونی نیٹنگ میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کرکے 25 ہزار روپے جرمانہ عاءد کیا۔قصور میں اسسٹنٹ چیف واءلڈ لاءف رینجر عامر جمیل نے سرچ وارنٹ کے تحت ایک گھر پر چھاپہ مار کر دو مور برآمد کیے اور ایک ملزم کو گرفتار کر کے 70 ہزار روپے جرمانہ کیا۔ ایک اور کاررواءی میں ایک شخص کے قبضے سے بھورا تیتر برآمد کرکے اسے 25 ہزار روپے جرمانہ عاءد کیا گیا۔تحصیل قصور میں پاک رینجرز کے تعاون سے کتوں کے ذریعے سامبر ہرن کے غیر قانونی شکار میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جبکہ اسی نوعیت کی ایک اور کاررواءی میں ایک شخص کو 25 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔جہلم میں اسسٹنٹ چیف واءلڈ لاءف رینجر ارشد ناز نے طوطوں کے ایک غیر قانونی ڈیلر کو گرفتار کرکے 15 ہزار روپے محکمانہ معاوضہ عاءد کیا اور دو طوطوں کو آزاد کر دیا۔بھکر میں اسسٹنٹ چیف واءلڈ لاءف رینجر محمد طارق نے پروٹیکٹڈ ایریا رکھ مانی میں جنگلی خرگوش کے غیر قانونی شکار پر شکار پارٹی کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ درج کروا دیا۔محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور غیر قانونی شکار کی روک تھام کے لیے کاررواءیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور قانون شکنی کے مرتکب عناصر کے خلاف سخت قانونی کاررواءی عمل میں لاءی جاءے گی۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%be%d8%b1-9-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7/">جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر 9 ملزمان گرفتار</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/17/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%be%d8%b1-9-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چونیاں میں اتائیت کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دو مراکز سیل</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%d9%88%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a8%da%91%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%d9%88%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a8%da%91%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 16 Jun 2026 17:16:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[Chunian]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1541</guid>

					<description><![CDATA[<p>چونیاں (اعجاز ملک سے) تحصیل چونیاں میں اتائیت اور غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف جاری مہم کے دوران بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کنگن پور میں دو جعلی اور غیر قانونی مراکزِ علاج سیل کر دیے گئے، جبکہ مختلف میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر وارننگز جاری کی [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%d9%88%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a8%da%91%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86/">چونیاں میں اتائیت کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دو مراکز سیل</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1542" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-16-at-10.06.23-PM-300x245.jpeg" alt="" width="300" height="245" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-16-at-10.06.23-PM-300x245.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-16-at-10.06.23-PM.jpeg 656w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p><strong>چونیاں (اعجاز ملک سے)</strong> تحصیل چونیاں میں اتائیت اور غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف جاری مہم کے دوران بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کنگن پور میں دو جعلی اور غیر قانونی مراکزِ علاج سیل کر دیے گئے، جبکہ مختلف میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر وارننگز جاری کی گئیں۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل چونیاں ڈاکٹر حافظ محمد سلیم انجم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کنگن پور، الہ آباد اور شام کوٹ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور میڈیکل سٹورز، فارمیسیز، ہسپتالوں اور طبی مراکز کا تفصیلی معائنہ کیا۔</p>
<p>دورانِ چیکنگ دو ایسے مراکزِ علاج کی نشاندہی ہوئی جو بغیر قانونی اجازت نامے اور مطلوبہ لائسنس کے طبی خدمات فراہم کر رہے تھے۔ عوامی صحت کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں مراکز کو سیل کر دیا گیا۔ متعلقہ افراد کے خلاف چالان مرتب کرکے مزید قانونی کارروائی کے لیے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو بھجوا دیا گیا۔</p>
<p>معائنہ کے دوران مختلف میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کے ریکارڈ، ادویات کی دستیابی، لائسنس اور دیگر قانونی تقاضوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور بعض قانونی خامیوں پر متعدد میڈیکل سٹور مالکان کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے فوری طور پر قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p>اس موقع پر ڈاکٹر حافظ محمد سلیم انجم نے کہا کہ اتائیت ایک سنگین سماجی اور طبی مسئلہ ہے جو شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحصیل چونیاں میں بغیر لائسنس ہسپتالوں، کلینکس، میڈیکل سٹورز اور غیر قانونی طبی مراکز کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اتائیوں اور غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%d9%88%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a8%da%91%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86/">چونیاں میں اتائیت کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، دو مراکز سیل</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%d9%88%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a8%da%91%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر چار بچے جاں بحق</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%da%be%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%da%86%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%da%86/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%da%be%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%da%86%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%da%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 16 Jun 2026 16:43:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[chhanga manga]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1537</guid>

					<description><![CDATA[<p>چونیاں (اعجاز احمد ملک سے) چھانگا مانگا جنگل میں جانوروں کے لیے بنائے گئے پانی کے کچے تالاب میں ڈوب کر تین سگے بہن بھائیوں سمیت چار بچے جاں بحق ہوگئے۔ دلخراش سانحے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی جبکہ متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ویر سنگھ کے قریب چھانگا [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%da%be%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%da%86%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%da%86/">چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر چار بچے جاں بحق</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1538" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-16-at-5.41.09-PM-300x137.jpeg" alt="" width="300" height="137" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-16-at-5.41.09-PM-300x137.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/WhatsApp-Image-2026-06-16-at-5.41.09-PM.jpeg 716w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p><strong>چونیاں (اعجاز احمد ملک سے)</strong> چھانگا مانگا جنگل میں جانوروں کے لیے بنائے گئے پانی کے کچے تالاب میں ڈوب کر تین سگے بہن بھائیوں سمیت چار بچے جاں بحق ہوگئے۔ دلخراش سانحے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہوگئی جبکہ متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچ گیا۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق ویر سنگھ کے قریب چھانگا مانگا جنگل میں واقع جانوروں کے پانی پینے کے لیے بنائے گئے کچے تالاب کے نزدیک کھیلتے ہوئے چار بچے گہرے پانی میں جا گرے اور ڈوب گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔</p>
<p>ریسکیو اہلکاروں نے بھرپور کوششوں کے بعد بچوں کو پانی سے نکال لیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 11 سالہ ہادیہ دختر محمد اکبر، 12 سالہ محمد مراد ولد محمد اکبر، 9 سالہ فیضان ولد محمد اکبر اور 12 سالہ عمران ولد رحمت شامل ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے تین سگے بہن بھائی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ننھیال آئے ہوئے تھے۔ حادثہ پیش آنے پر اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔</p>
<p>واقعے کی اطلاع ملتے ہی اہلِ علاقہ، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد موقع پر جمع ہوگئی۔ معصوم بچوں کی ہلاکت کی خبر پورے علاقے میں پھیل گئی اور ہر آنکھ اشکبار دکھائی دی۔ لواحقین غم سے نڈھال جبکہ علاقے میں سوگ کی فضا قائم رہی۔</p>
<p>پولیس نے موقع پر پہنچ کر ضروری قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%da%be%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%da%86%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%da%86/">چھانگا مانگا میں تالاب میں ڈوب کر چار بچے جاں بحق</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%da%86%da%be%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%86%da%af%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d9%88%d8%a8-%da%a9%d8%b1-%da%86%d8%a7%d8%b1-%d8%a8%da%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب کا 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-5903-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%ac%d9%b9-%d9%be%db%8c%d8%b4/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-5903-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%ac%d9%b9-%d9%be%db%8c%d8%b4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 16 Jun 2026 13:32:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[علاقائی خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[Punjab Budget 2026-27]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1534</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; لاہور (زیڈ این این)وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مالی سال 2026-27ء کا 5903 ارب 46 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گءی ہے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-5903-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%ac%d9%b9-%d9%be%db%8c%d8%b4/">پنجاب کا 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1535" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/mujtaba-300x169.jpg" alt="" width="300" height="169" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/mujtaba-300x169.jpg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/06/mujtaba.jpg 760w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>&nbsp;</p>
<p>لاہور (زیڈ این این)وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے مالی سال 2026-27ء کا 5903 ارب 46 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گءی ہے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کیلءے 752 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت پنجاب نے مالی نظم و ضبط، کفایت شعاری اور وساءل کے مؤثر استعمال کے ذریعے عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالے بغیر ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27ء کا مجموعی بجٹ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10.7 فیصد زیادہ ہے جبکہ جاری اخراجات میں 3.1 فیصد کمی لاءی گءی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے قومی مالیاتی ذمہ داریوں کی اداءیگی کیلءے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے اور وفاقی حکومت کو درکار 1035 ارب روپے میں سے 546 ارب روپے پنجاب فراہم کرے گا۔ ان کے بقول پنجاب نہ صرف ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بلکہ پاکستان کے دفاع اور استحکام کا مضبوط ستون بھی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آءندہ مالی سال کیلءے تعلیم کے شعبے میں 750 ارب روپے مختص کیے گءے ہیں جو مجموعی بجٹ کا 15 فیصد سے زاءد بنتے ہیں۔ اس رقم سے سکولوں اور کالجوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی، جدید آءی ٹی لیبارٹریوں کا قیام، آٹزم سکولز کی تعمیر، لیپ ٹاپ پروگرام اور ہونہار اسکالرشپ پروگرام کو مزید وسعت دی جاءے گی۔ حکومت ایک لاکھ 10 ہزار طلبہ کو جدید لیپ ٹاپ فراہم کرے گی جبکہ ہونہار اسکالرشپ پروگرام سے ایک لاکھ آٹھ ہزار طلبہ مستفید ہوں گے۔صحت کے شعبے کیلءے 500 ارب 62 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گءی ہے۔ بجٹ میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، ڈاءیلاسز اور ٹرانسپلانٹ پروگرام، کلینک آن ویلز اور ایئر ایمبولینس سروس سمیت متعدد جاری اور نءے منصوبوں کیلءے فنڈز رکھے گءے ہیں۔ ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال اور بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال کے قیام کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت پنجاب کسانوں کی خوشحالی اور زرعی پیداوار میں اضافے کیلءے متعدد اقدامات جاری رکھے گی۔ کسان کارڈ پروگرام کے تحت آءندہ مالی سال میں 10 لاکھ کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جاءیں گے جبکہ گرین ٹریکٹر پروگرام کے تحت مزید 16 ہزار 500 ٹریکٹر سبسڈی پر دیئے جاءیں گے۔ زرعی ٹیوب ویلوں کی سولراءزیشن، ماڈل ایگریکلچر مالز اور زرعی گریجویٹس کیلءے انٹرن شپ پروگرام بھی جاری رکھا جاءے گا۔بجٹ میں صنعت اور کاروبار کے فروغ کیلءے آسان کاروبار فنانس، آسان کاروبار کارڈ، ایکسپورٹ فنانسنگ اور خصوصی اقتصادی زونز کے منصوبوں کیلءے بھی خطیر رقوم مختص کی گءی ہیں۔ حکومت کے مطابق ان منصوبوں سے نءی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ نوجوانوں کی فنی تربیت، آءی ٹی اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کیلءے متعدد نءے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔ پرواز کارڈ، چیف منسٹر اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام، جدید ٹیکنالوجی پروگرام اور خواتین کیلءے ڈیجیٹل مہارتوں کے منصوبے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔بلدیاتی خدمات، صاف پانی اور سیوریج منصوبوں کیلءے 507 ارب روپے مختص کیے گءے ہیں جبکہ ستھرا پنجاب پروگرام کیلءے 170 ارب روپے رکھے گءے ہیں۔ صاف پانی پروگرام کے تحت ہزاروں واٹر فلٹریشن پلانٹس لگاءے جاءیں گے جبکہ دیہی علاقوں میں صفاءی اور نکاسی آب کے منصوبوں پر بھی کام تیز کیا جاءے گا۔ہاؤسنگ شعبے میں اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت آءندہ مالی سال میں 2 لاکھ خاندانوں کو 300 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زاءد مکانات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں گھر زیر تعمیر ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق آءندہ مالی سال کیلءے صوباءی آمدن کا ہدف 1209 ارب 86 کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی محاصل سے پنجاب کو 4390 ارب 94 کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی، بورڈ آف ریونیو اور ایکساءز اینڈ ٹیکسیشن کے محصولات کے اہداف میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے عوام پر نءے ٹیکس عاءد کرنے کے بجاءے ٹیکس نیٹ میں توسیع، محصولات کے نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ذریعے آمدن بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے تاریخ کی بلند ترین صوباءی آمدن حاصل کی ہے اور مالی نظم و ضبط کی بدولت گندم کا قرضہ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔بجٹ تقریر کے اختتام پر وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کو معاشی ترقی، روزگار، سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کے نءے دور میں داخل کیا جا رہا ہے اور یہ بجٹ اسی وژن کی عملی تعبیر ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-5903-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%ac%d9%b9-%d9%be%db%8c%d8%b4/">پنجاب کا 5903 ارب روپے کا بجٹ پیش</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/16/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7-5903-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%ac%d9%b9-%d9%be%db%8c%d8%b4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران، امریکا امن معاہدہ؛ پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/15/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/15/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 15 Jun 2026 10:15:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[iran]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1524</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#160; اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے بعد دنیا میں امن کا نیا باب کھل گیا ہے۔ تین ماہ اور سولہ روز پر محیط کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/15/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3/">ایران، امریکا امن معاہدہ؛ پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1187" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/amrca-300x169.jpg" alt="" width="300" height="169" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/amrca-300x169.jpg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/amrca.jpg 760w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>&nbsp;</p>
<p class="isSelectedEnd">اسلام آباد (<em>خصوصی</em> رپورٹر)</p>
<p class="isSelectedEnd">وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے بعد دنیا میں امن کا نیا باب کھل گیا ہے۔ تین ماہ اور سولہ روز پر محیط کشیدگی کے بعد دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے، جو عالمی امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔</p>
<p class="isSelectedEnd">قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج دنیا نے امن کا ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا ہے اور جنگ کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب 19 جون کو جنیوا میں منعقد ہوگی، جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔</p>
<p class="isSelectedEnd">وزیراعظم نے اس اہم سفارتی کامیابی پر پاکستانی قوم اور عالمی برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور سفارتکاری کی فتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں اور مؤثر سفارتی کردار نے اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p class="isSelectedEnd">شہباز شریف نے سابق وزیراعظم نواز شریف، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی قیادت نے اس حساس مرحلے پر یکجہتی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور مذاکراتی ٹیموں کو بھی مبارکباد پیش کی۔</p>
<p class="isSelectedEnd">وزیراعظم نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور چینی صدر شی جن پنگ کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کی کاوشوں نے امن عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p class="isSelectedEnd">انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے اور امن کے قیام کے لیے شب و روز کوششیں کیں، جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سمیت دیگر حکومتی شخصیات کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔</p>
<p class="isSelectedEnd">شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں موجود ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی پوری پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے منفی اثرات سے عالمی معیشت کے ساتھ پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہوئی، تاہم اب امن معاہدے کے نتیجے میں معاشی استحکام اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>وزیراعظم نے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج دنیا نے دیکھ لیا ہے کہ پاکستان امن، استحکام اور مکالمے کا علمبردار ملک ہے اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/15/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3/">ایران، امریکا امن معاہدہ؛ پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/15/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب پولیس: عوامی اعتماد، شفافیت اور خدمت کا روشن سفر</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Jun 2026 00:02:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[غلام مرتضیٰ باجوہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1444</guid>

					<description><![CDATA[<p>کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ریاستی نظم و نسق، عوامی اعتماد اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جب پولیس عوام کے مساءل کو ترجیح دے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور خود کو احتساب کے عمل سے وابستہ رکھے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/">پنجاب پولیس: عوامی اعتماد، شفافیت اور خدمت کا روشن سفر</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1100" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg" alt="" width="300" height="190" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa-300x190.jpeg 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/G-M-Bajwa.jpeg 606w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ریاستی نظم و نسق، عوامی اعتماد اور سماجی استحکام کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ جب پولیس عوام کے مساءل کو ترجیح دے، شکایات کا فوری ازالہ کرے اور خود کو احتساب کے عمل سے وابستہ رکھے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب پولیس نے گزشتہ چند برسوں کے دوران جدید اصلاحات، ڈیجیٹل سہولیات اور عوامی رابطے کے نظام کو بہتر بنا کر اس حقیقت کو عملی شکل دی ہے۔ بالخصوص آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کی کامیاب کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس عوامی خدمت اور شفافیت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔<br />
پنجاب پولیس کے آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کا قیام دراصل عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کرنے کی ایک مؤثر کوشش تھی۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شہریوں کو یہ سہولت فراہم کی گءی کہ وہ پولیس سے متعلق کسی بھی شکایت، مسءلے یا تحفظات کو براہ راست اعلیٰ حکام تک پہنچا سکیں۔ اس نظام نے نہ صرف شہریوں کی آواز کو اہمیت دی بلکہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کو بھی مسلسل نگرانی کے داءرے میں رکھا۔<br />
حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال پنجاب پولیس نے آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 پر موصول ہونے والی 53 ہزار سے زاءد شکایات کو کامیابی سے حل کیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ اس امر کا عملی ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس عوامی مساءل کے حل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔ ہزاروں شہریوں کو انصاف کی فراہمی، شکایات کے بروقت ازالے اور انتظامی مساءل کے حل نے عوام کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔<br />
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی قیادت میں شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا گیا ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق تمام شکایات کو مقررہ ٹاءم لاءن اور ایس او پیز کے تحت نمٹایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پنجاب پولیس صرف شکایات وصول کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان کے حل کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔<br />
خصوصی طور پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ ضلع پولیس افسران خود 1787 کمپلینٹ سسٹم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اس سے شکایات کے حل میں نہ صرف تیزی آءی ہے بلکہ جوابدہی کا نظام بھی مضبوط ہوا ہے۔ جب کسی ادارے کے سربراہان اور ضلعی افسران براہ راست نگرانی کریں تو ماتحت عملے کی کارکردگی میں بہتری آنا ایک فطری امر ہے۔<br />
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو مقدمات کے اندراج سے متعلق 25 ہزار سے زاءد شکایات کا حل اس بات کا ثبوت ہے کہ شہریوں کو انصاف تک رساءی فراہم کرنے میں نمایاں پیش رفت ہوءی ہے۔ ماضی میں اکثر شکایات سامنے آتی تھیں کہ بعض مقدمات درج نہیں کیے جاتے یا ان میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے، لیکن اب اس حوالے سے مؤثر نگرانی اور بروقت کاررواءی نے صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔<br />
اسی طرح سست تفتیش سے متعلق تقریباً 13 ہزار شکایات کا ازالہ بھی ایک اہم کامیابی ہے۔ تفتیش کا بروقت اور شفاف ہونا انصاف کی فراہمی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تفتیشی عمل میں تاخیر کم ہو اور متعلقہ افسران جوابدہ ہوں تو نہ صرف متاثرہ فریق کو ریلیف ملتا ہے بلکہ ملزمان کے خلاف قانونی کاررواءی بھی مؤثر انداز میں آگے بڑھتی ہے۔<br />
پولیس سروسز اور محکمانہ امور سے متعلق ہزاروں شکایات کا حل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محکمہ اپنی اندرونی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات کے معیار کو بھی بلند کر رہا ہے۔ عوامی خدمت کا اصل مقصد شہریوں کے مساءل کو آسانی سے حل کرنا اور ان کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہے، جس میں پنجاب پولیس کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتی دکھاءی دیتی ہے۔<br />
ملزمان کی گرفتاری، ریکوری اور ناقص تفتیش سے متعلق شکایات کے حل نے بھی پولیس کے مؤثر کردار کو اجاگر کیا ہے۔ جراءم کے خلاف کاررواءی صرف مقدمہ درج کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ ملزمان کی گرفتاری، مسروقہ سامان کی برآمدگی اور مکمل تفتیش بھی اسی عمل کا اہم حصہ ہیں۔ ان شعبوں میں ہزاروں شکایات کے ازالے سے واضح ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس نتاءج پر مبنی کارکردگی کے اصول پر عمل پیرا ہے۔<br />
جھوٹے مقدمات کی منسوخی اور تبدیلی تفتیش سے متعلق شکایات کے حل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اقدامات شہریوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ جب کسی شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی شکایت سنی جاءے گی اور اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوءی ہے تو اس کا ازالہ ممکن ہے، تو اس کا اعتماد ریاستی اداروں پر مزید مستحکم ہوتا ہے۔<br />
آج کے دور میں عوامی اعتماد کسی بھی ادارے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ پنجاب پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور مؤثر شکایتی نظام کے ذریعے یہ اعتماد حاصل کرنے کی جانب نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 1787 کمپلینٹ سنٹر اسی سوچ کا عملی اظہار ہے جہاں شہری بلا خوف و جھجھک اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں اور ان کے حل کی پیش رفت سے بھی آگاہ رہتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابل ستاءش ہے کہ پنجاب پولیس خود احتسابی کے اصول کو فروغ دے رہی ہے۔ عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر کسی پولیس اہلکار یا افسر کے رویے، کارکردگی یا کسی کاررواءی سے متعلق شکایت ہو تو اسے بلاجھجھک رپورٹ کیا جاءے۔ ایک ایسا ادارہ جو اپنے خلاف شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لیے خود پلیٹ فارم مہیا کرے، یقیناً شفافیت اور عوامی خدمت کے اعلیٰ معیار کی طرف گامزن ہوتا ہے۔<br />
ضرورت اس امر کی ہے کہ شہری بھی اس نظام سے بھرپور استفادہ کریں۔ شکایات کے اندراج میں ذمہ داری اور درست معلومات کی فراہمی سے اداروں کی کارکردگی مزید بہتر بناءی جا سکتی ہے۔ عوام اور پولیس کے درمیان تعاون کا مضبوط رشتہ ہی ایک پرامن، محفوظ اور قانون پسند معاشرے کی ضمانت ہے۔<br />
بلاشبہ پنجاب پولیس کی حالیہ کارکردگی، بالخصوص آءی جی پی کمپلینٹ سنٹر 1787 کے ذریعے 53 ہزار سے زاءد شکایات کا بروقت حل، ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف محکمہ پولیس کی سنجیدگی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاس ہے بلکہ عوامی اعتماد کے بڑھتے ہوءے رجحان کی بھی علامت ہے۔ اگر یہی جذبہ، شفافیت اور جوابدہی برقرار رہی تو پنجاب پولیس عوامی خدمت اور قانون کی بالادستی کے میدان میں مزید کامیابیاں حاصل کرے گی اور شہریوں کا اعتماد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگا۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/">پنجاب پولیس: عوامی اعتماد، شفافیت اور خدمت کا روشن سفر</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/11/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af%d8%8c-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نور پر تیزاب ، ضمیر پر سوال !</title>
		<link>https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a8-%d8%8c-%d8%b6%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a8-%d8%8c-%d8%b6%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[gmbajwa]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Jun 2026 00:19:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[Ch afzal]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://www.znn.com.pk/?p=1437</guid>

					<description><![CDATA[<p>&#8220;مرہم رکھنے والے ہاتھوں پر جب خود ستم کے گہرے نشان سج جائیں، تو شفا خانوں کی دیواریں بھی نوحہ کناں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کا یہ دکھ صرف ایک وجود کا نہیں، بلکہ اس معاشرے کے ضمیر پر لگا وہ زخم ہے جس کا فی الحال کوئی مداوا نہیں۔&#8221; اسلام نے عورت کو [&#8230;]</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a8-%d8%8c-%d8%b6%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/">نور پر تیزاب ، ضمیر پر سوال !</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-medium wp-image-1162" src="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png" alt="" width="300" height="232" srcset="https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb-300x232.png 300w, https://www.znn.com.pk/wp-content/uploads/2026/04/Ch-afzal-sb.png 617w" sizes="auto, (max-width: 300px) 100vw, 300px" /></p>
<p>&#8220;مرہم رکھنے والے ہاتھوں پر جب خود ستم کے گہرے نشان سج جائیں، تو شفا خانوں کی دیواریں بھی نوحہ کناں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ نور کا یہ دکھ صرف ایک وجود کا نہیں، بلکہ اس معاشرے کے ضمیر پر لگا وہ زخم ہے جس کا فی الحال کوئی مداوا نہیں۔&#8221;</p>
<p>اسلام نے عورت کو عزت، وقار، تحفظ اور احترام کا وہ بلند مقام عطا کیا ہے جو صدیوں تک دنیا کے بیشتر معاشروں کے لیے محض ایک خواب رہا۔ قرآنِ کریم نے عورت کو معاشرے کا معزز ترین فرد قرار دیا، ماں کے قدموں تلے جنت رکھی، بیٹی کو رحمت اور بہن کو محبت و شفقت کی علامت بنایا۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جو عورت پر ہونے والے ہر ظلم کو صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ انسانی اقدار، عدل اور انصاف پر حملہ قرار دیتی ہیں۔<br />
طب کا شعبہ انسانیت کی خدمت کا وہ مقدس میدان ہے جہاں انسان دوسرے انسان کے درد کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر وہ ہیں جو اپنی نیند، سکون اور ذاتی زندگی قربان کر کے دوسروں کی زندگیوں میں امید کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ جب کوئی مریض درد سے تڑپ رہا ہو تو یہی سفید کوٹ پہنے ہوئے لوگ اس کے لیے زندگی کی آخری امید بن جاتے ہیں۔ مگر جب انہی مسیحاؤں میں سے کوئی خود ظلم، تشدد اور سفاکیت کا نشانہ بن جائے تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا زخم بن جاتا ہے۔</p>
<p>کوئٹہ میں سرجری کی ماہر ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کا واقعہ اسی نوعیت کا ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے، جس نے پورے ملک کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر، جو مریضوں کی زندگیوں میں امید بانٹ رہی تھیں، اچانک ایک ایسے وحشیانہ حملے کا شکار ہو گئیں جس کا تصور بھی روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ تیزاب صرف جسم کو نہیں جلاتا، یہ خواب، اعتماد، شناخت اور مسکراہٹوں کو بھی جھلسا دیتا ہے۔<br />
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ طب کے مقدس پیشے، خواتین کے تحفظ اور معاشرتی شعور پر ایک سنگین سوال ہے۔<br />
خوش آئند امر یہ ہے کہ طبی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی حالت خطرے سے باہر ہے، ان کی بینائی محفوظ ہے اور ماہر ڈاکٹر ان کے علاج میں مصروف ہیں۔ پوری قوم ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہے۔ تاہم اس واقعے نے ایسے سوالات ضرور کھڑے کر دیے ہیں جن سے نظریں چرائی نہیں جا سکتیں۔<br />
اطلاعات کے مطابق نامزد ملزم چند گھنٹوں کے اندر پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، مگر اس تیزی نے عوامی سطح پر کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ کیا اس واقعے کی مکمل اور شفاف تفتیش ہو سکی؟ کیا اس جرم کے محرکات اور پس منظر تک پہنچنے کا موقع ملا؟ یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ انصاف صرف سزا نہیں بلکہ حقیقت تک رسائی کا نام بھی ہے۔<br />
اسی سانحے کا ایک اور تکلیف دہ پہلو سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برن یونٹ کی عدم دستیابی کے باعث متاثرہ ڈاکٹر کو پہلے نجی ہسپتال اور بعد ازاں کراچی منتقل کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ہمارے صحت کے نظام پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر جیسے حساس کیس کو فوری سہولت میسر نہ ہو تو عام شہری کس حال میں ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔<br />
ڈاکٹر ماہ نور پر ہونے والا یہ حملہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کے ضمیر پر پڑنے والا بوجھ ہے۔ جب ظلم اپنی انتہا کو چھونے لگے اور الفاظ درد کی شدت بیان کرنے سے قاصر ہو جائیں تو احساسات لوک شاعری اور بولیوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔<br />
اسی کرب اور احتجاج کو لفظوں کا جامہ پہنانے کے لیے میری یہ پنجابی بولی نذرِ قارئین ہے:</p>
<p>&#8220;ناری جا جہنّم سَڑیا<br />
نور تے تیزاب سُٹ کے&#8221;</p>
<p>یہ بولی محض دو مصرعے نہیں بلکہ ایک زخمی معاشرے کی سسکی، ایک بے گناہ بیٹی کے درد کی چیخ اور انسانیت کے جھلسے ہوئے ضمیر کا نوحہ ہے۔ یہ صرف ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف احتجاج ہے جو عورت کے وجود، وقار اور شناخت کو نشانہ بناتی ہے۔<br />
تاریخ گواہ ہے کہ تیزاب گردی محض جسمانی تشدد نہیں بلکہ انسانی شناخت کو مٹانے کی ایک سفاک کوشش ہے۔ دنیا کے مختلف معاشروں میں اسے خواتین کے خلاف بدترین تشدد کی شکل سمجھا گیا ہے، اور مہذب اقوام نے اس کے خلاف سخت قوانین اور عملی اقدامات کو یقینی بنایا ہے۔</p>
<p>افسوسناک امر یہ ہے کہ ایسے واقعات کے بعد عالمی سطح پر پاکستان جیسے ممالک کو نہ صرف ہمدردی بلکہ تنقید اور سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کے نظامِ انصاف، قانون کے نفاذ اور سماجی رویّوں پر اٹھتا ہے۔<br />
پاکستان میں اگرچہ تیزاب گردی کے خلاف قوانین موجود ہیں اور سزائیں بھی سخت کی گئی ہیں، مگر اصل مسئلہ ان کے مؤثر نفاذ کا ہے۔ جب تک ایک عورت، ایک ڈاکٹر یا ایک طالبہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، تب تک قانون اپنی اصل روح کے ساتھ مکمل نہیں ہو سکتا۔<br />
یہ واقعہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ آج ایک باپ اپنی بیٹی، ایک ماں اپنے بیٹے اور ایک پیشہ ور خاتون اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔<br />
یہ سانحہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا ہمارے ہسپتال، ادارے اور سیکیورٹی نظام ایسے حساس حالات سے نمٹنے کے لیے واقعی تیار ہیں؟ اگر نہیں تو اصلاح اب محض ضرورت نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہے۔<br />
قوموں کی عظمت صرف عمارتوں، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور، خدمت گزار اور باعزت شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہیں۔ ڈاکٹر، استاد اور اہلِ علم کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔<br />
آج ڈاکٹر ماہ نور صحت یابی کی طرف بڑھ رہی ہیں، یہ خبر امید کی ایک کرن ہے۔ مگر ان کے زخم ہمیں ایک اجتماعی سوال دے گئے ہیں—کیا ہم ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جہاں خدمت کرنے والے خود خوف سے آزاد ہوں؟<br />
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ماہ نور کو مکمل صحت، عافیت اور حوصلہ عطا فرمائے، اور ہمیں بھی یہ شعور عطا کرے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں نور پر تیزاب نہیں بلکہ نور پر احترام، تحفظ اور محبت ہو۔<br />
کیونکہ قوموں کی اصل پہچان ان کے انسان ہوتے ہیں، نہ کہ ان کے دعوے۔</p>
<p>The post <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a8-%d8%8c-%d8%b6%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/">نور پر تیزاب ، ضمیر پر سوال !</a> appeared first on <a rel="nofollow" href="https://www.znn.com.pk"></a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://www.znn.com.pk/2026/06/10/%d9%86%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%db%8c%d8%b2%d8%a7%d8%a8-%d8%8c-%d8%b6%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
